مقبول خبریں

شیخ حسینہ کی وطن واپسی کی آخری اُمید بھی دم توڑ گئی، صدر نے استعفیٰ دے دیا 2026

شیخ حسینہ کی وطن واپسی کی آخری اُمید بھی دم توڑ گئی، صدر نے استعفیٰ دے دیا، یہ الفاظ بنگلہ دیش کی تاریخ کے ایک ایسے تاریک باب کی عکاسی کرتے ہیں جہاں جمہوریت کی شمع کئی بار ٹمٹمائی اور بجھ بھی گئی۔ بنگلہ دیش کی سیاست ہمیشہ سے غیر یقینی اور انقلابی تبدیلیوں کا شکار رہی ہے، جہاں فوجی مداخلتیں اور سیاسی اُتھل پُتھل معمول کا حصہ رہی ہے۔ شیخ حسینہ واجد، جو بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی ہیں، نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ سیاسی جدوجہد، جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتوں میں گزارا۔ ان کا سفر بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اور ان کی وطن واپسی کی ہر کوشش، ہر امید، اس ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔ زیر نظر مضمون میں ہم بنگلہ دیش کی اس سیاسی تاریخ کا گہرائی سے جائزہ لیں گے، خاص طور پر اس دور پر روشنی ڈالیں گے جب ایک صدر کے استعفے نے شیخ حسینہ کی وطن واپسی اور جمہوریت کی بحالی کی امیدوں کو تقریباً ختم کر دیا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف شیخ حسینہ کے سیاسی کیریئر بلکہ پورے بنگلہ دیش کے جمہوری سفر پر گہرے نقوش چھوڑے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ تھا جہاں جمہوری قوتوں کو شدید دھچکا لگا اور فوجی آمریت نے ایک بار پھر اپنے پنجے گاڑ دیے۔

1975 کا المیہ اور شیخ حسینہ کی طویل جلاوطنی

15 اگست 1975 کو بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے خونی باب رقم کیا گیا جب بنگلہ دیش کے بانی اور پہلے صدر شیخ مجیب الرحمن کو ان کے خاندان کے بیشتر افراد سمیت ایک فوجی بغاوت میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس وقت شیخ حسینہ واجد اپنی چھوٹی بہن شیخ ریحانہ کے ہمراہ مغربی جرمنی میں تھیں۔ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اس ہولناک قتل عام سے بچ گئیں۔ اس المیے کے بعد، بنگلہ دیش میں فوجی حکومت کا قیام عمل میں آیا اور شیخ حسینہ کے لیے اپنے وطن واپس لوٹنا ناممکن ہو گیا۔ انہیں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا، جو تقریباً چھ سال تک جاری رہی۔ ابتدائی طور پر وہ ہندوستان منتقل ہوئیں جہاں انہیں سیاسی پناہ دی گئی۔ اس دوران بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام عروج پر تھا، مسلسل فوجی بغاوتیں اور حکومتوں کی تبدیلیاں ملک کو مزید گہرے بحران میں دھکیل رہی تھیں۔ جنرل ضیاء الرحمن نے اقتدار سنبھالا اور ایک مضبوط فوجی حکمرانی قائم کی، جس نے ہر قسم کی سیاسی مخالفت کو کچلنے کی کوشش کی۔ شیخ حسینہ کی جلاوطنی کا یہ دور ان کی سیاسی تربیت کا دور بھی ثابت ہوا۔ انہوں نے اس دوران عالمی سیاست اور سفارت کاری کو قریب سے دیکھا اور سمجھا، جو بعد میں ان کے سیاسی کیریئر کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا۔ ان کی غیر موجودگی میں، ان کی پارٹی، عوامی لیگ، کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اسے دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔

جنرل ضیاء الرحمن کا دور اور سیاسی استحکام کی کوششیں

شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے بعد، بنگلہ دیش کی سیاست میں جنرل ضیاء الرحمن کا عروج ہوا، جو 1977 میں صدر بن گئے۔ ان کا دورِ حکومت (1977-1981) ملک میں ایک قسم کا “استحکام” لے کر آیا، لیکن یہ استحکام اکثر و بیشتر فوجی طاقت اور سیاسی مخالفت کو دبانے کی قیمت پر حاصل کیا گیا تھا۔ ضیاء الرحمن نے مارشل لاء نافذ کیا، تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کر دیں، اور خود کو ملک کا سیاہ و سفید کا مالک بنا لیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی فوج کو مضبوط کیا اور ملک کی معیشت کو بھی کسی حد تک بحال کیا۔ تاہم، ان کے دور میں بھی متعدد فوجی بغاوتوں کی کوششیں ہوئیں جنہیں سختی سے کچل دیا گیا۔ عوامی لیگ اور دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں کو شدید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ حسینہ، جو اس وقت جلاوطنی میں تھیں، کے لیے وطن واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔ ضیاء الرحمن کی حکومت نے ان کی وطن واپسی کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کیں۔ عوامی لیگ کے رہنماؤں کو یا تو قید کر دیا گیا یا انہیں سخت نگرانی میں رکھا گیا۔ ملک میں ایک خوف اور جبر کا ماحول پیدا ہو گیا تھا، جہاں سیاسی آزادی محدود اور جمہوری آوازیں دبائی جا رہی تھیں۔ ضیاء الرحمن نے اپنی سیاسی جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی بنیاد رکھی، جس نے عوامی لیگ کے اثر و رسوخ کو مزید چیلنج کیا۔

1981 میں وطن واپسی کی نئی امید

30 مئی 1981 کو جنرل ضیاء الرحمن کو چٹاگانگ میں ایک فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا۔ ان کی موت نے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کیا۔ ضیاء الرحمن کی غیر متوقع موت کے بعد ملک میں ایک بار پھر سیاسی خلا پیدا ہو گیا اور افراتفری کا ماحول چھا گیا۔ اس موقع پر، عوامی لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شیخ حسینہ واجد کو وطن واپس لانے کے لیے ایک بھرپور مہم کا آغاز کیا۔ وہ انہیں اپنی پارٹی کا نیا سربراہ اور جمہوریت کی بحالی کی علامت کے طور پر دیکھتے تھے۔ طویل جلاوطنی کے بعد، 17 مئی 1981 کو شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش واپس لوٹیں۔ ان کی واپسی پر ڈھاکہ کے ہوائی اڈے پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے، جو بارش کے باوجود ان کے استقبال کے لیے بے تاب تھے۔ یہ ایک جذباتی منظر تھا، جو بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ ان کی واپسی نے جمہوریت کی بحالی اور فوجی حکمرانی کے خاتمے کی ایک نئی امید پیدا کی۔ اگرچہ وہ واپس آ چکی تھیں، لیکن ان کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ ملک ابھی بھی فوجی مداخلت کے خطرے سے دوچار تھا اور جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں ہو پائی تھیں۔ ضیاء الرحمن کی موت کے بعد، جسٹس عبدالستار کو قائم مقام صدر بنایا گیا، اور بعد میں انہیں صدر منتخب کر لیا گیا۔ ان کا دور اگرچہ جمہوری طریقوں سے شروع ہوا تھا، لیکن فوجی سایہ ابھی بھی بنگلہ دیش کی سیاست پر منڈلا رہا تھا۔

شیخ حسینہ نے وطن واپس آ کر عوامی لیگ کی قیادت سنبھالی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کا ہدف بنگلہ دیش کو ایک ایسی پٹڑی پر لانا تھا جہاں آئین کی بالادستی ہو اور عوام کے منتخب نمائندے حکومت کریں۔ لیکن انہیں جلد ہی ایک نئی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ان کی امیدوں پر ایک بار پھر پانی پھیر دیا۔

واقعہتاریخ / سالاثرات
شیخ مجیب الرحمن کا قتل1975فوجی حکمرانی کا آغاز، شیخ حسینہ کی جلاوطنی
جنرل ضیاء الرحمن کا صدارتی دور1977-1981مارشل لاء، سیاسی جبر، عوامی لیگ پر پابندیاں
جنرل ضیاء الرحمن کا قتل1981سیاسی خلا، شیخ حسینہ کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی
شیخ حسینہ کی وطن واپسیمئی 1981عوامی لیگ کی قیادت سنبھالی، جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کا آغاز
صدر عبدالستار کا دور1981-1982کمزور جمہوری حکومت، فوجی مداخلت کا بڑھتا خطرہ
جنرل ارشد کی فوجی بغاوت1982صدر عبدالستار کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا، مارشل لاء کا نفاذ، جمہوری امیدوں کو شدید دھچکا

صدر عبدالستار کا ‘استعفیٰ’ اور ارشد کی فوجی بغاوت: امیدوں کا دم توڑنا

ضیاء الرحمن کی موت کے بعد، جسٹس عبدالستار نے بنگلہ دیش کے صدر کا عہدہ سنبھالا۔ ان کا دورِ حکومت، جو مختصر عرصے کے لیے تھا (1981-1982)، ملک کو جمہوری پٹڑی پر واپس لانے کی ایک کمزور کوشش تھی۔ لیکن یہ کوشش فوجی قیادت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و رسوخ کے سامنے زیادہ دیر تک ٹک نہ سکی۔ اس وقت کے آرمی چیف، جنرل حسین محمد ارشد، تیزی سے سیاسی منظر نامے پر حاوی ہوتے جا رہے تھے۔ انہوں نے صدر عبدالستار پر دباؤ بڑھانا شروع کیا کہ وہ اقتدار فوج کے حوالے کر دیں۔ عبدالستار کی حکومت کمزور تھی اور وہ بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ بالآخر، 24 مارچ 1982 کو، جنرل ارشد نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اگرچہ سرکاری طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ صدر عبدالستار نے “صحت کی بنیاد پر” استعفیٰ دے دیا ہے، لیکن حقیقت میں انہیں زبردستی عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ یہ ایک جبری استعفیٰ تھا، جس نے بنگلہ دیش کی نو زائیدہ جمہوریت کو ایک بار پھر پامال کر دیا۔

جنرل ارشد کی اس فوجی بغاوت اور صدر عبدالستار کے جبری استعفے نے شیخ حسینہ اور بنگلہ دیش کی جمہوری قوتوں کی امیدوں کو تقریباً ختم کر دیا۔ جس وقت شیخ حسینہ وطن واپس لوٹی تھیں، ان کی سب سے بڑی امید یہ تھی کہ ملک ایک جمہوری عمل سے گزرے گا اور ایک منتخب حکومت اقتدار سنبھالے گی۔ عبدالستار کا صدارتی دور، چاہے کتنا بھی کمزور ہوتا، کم از کم جمہوری روایات کی بحالی کی ایک پتلی سی کرن ضرور تھا۔ لیکن جب ارشد نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور مارشل لاء نافذ کر دیا، تو شیخ حسینہ کی وہ آخری امید بھی دم توڑ گئی کہ بنگلہ دیش جلد ہی ایک حقیقی جمہوری ملک بن سکے گا۔ یہ ان کی وطن واپسی کے بعد کا سب سے بڑا سیاسی دھچکا تھا، جس نے انہیں ایک طویل اور مزید کٹھن جدوجہد کے لیے تیار کیا۔ بی بی سی اردو کی رپورٹ بھی بنگلہ دیش کی فوجی مداخلتوں اور سیاسی تاریخ پر روشنی ڈالتی ہے، جو اس وقت کی صورتحال کو سمجھنے میں معاون ہے۔

جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں شیخ حسینہ کا کردار

جنرل ارشد کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد، شیخ حسینہ نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنی پارٹی، عوامی لیگ، کو منظم کیا اور جنرل ارشد کی فوجی حکمرانی کے خلاف ایک بھرپور جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ ایک مشکل اور خطرناک سفر تھا، جس میں انہیں کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ ان کے جلسوں پر پابندی لگائی گئی، ان کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، اور انہیں خود بھی کئی بار گھر میں نظر بند کیا گیا۔ تاہم، شیخ حسینہ اپنے موقف پر ڈٹی رہیں اور جمہوریت کی بحالی کے لیے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد قائم کیے تاکہ فوجی حکمرانی کے خلاف مشترکہ محاذ بنایا جا سکے۔

1980 کی دہائی بنگلہ دیش میں فوجی حکمرانی اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کا دور تھا۔ شیخ حسینہ اس جدوجہد کی ایک مرکزی شخصیت بن کر ابھریں۔ ان کی قیادت میں عوامی لیگ نے کئی عوامی مظاہرے، ہڑتالیں اور احتجاجی ریلیاں نکالیں، جن میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ ان کی تقریریں بنگلہ دیش کے عوام میں امید کی کرن جگاتی تھیں اور انہیں فوجی جبر کے خلاف کھڑے ہونے کی ترغیب دیتی تھیں۔ ان کی یہ جدوجہد صرف ان کی اپنی پارٹی یا ان کے خاندان کے اقتدار کی بحالی کے لیے نہیں تھی، بلکہ یہ بنگلہ دیش کے ہر شہری کے جمہوری حقوق کے لیے تھی۔ ان کا ایمان تھا کہ ایک آزاد اور خوشحال بنگلہ دیش صرف اور صرف ایک مضبوط جمہوری نظام کے تحت ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مارشل لاء کے خاتمے، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد، اور آئینی حکمرانی کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ اس جدوجہد میں انہیں کئی ذاتی قربانیاں بھی دینا پڑیں۔ انہیں اپنے ملک میں رہتے ہوئے بھی ایک طرح کی جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ان کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

بنگلہ دیش کی سیاست پر فوجی ادوار کے دیرپا اثرات

بنگلہ دیش میں بار بار فوجی مداخلتوں اور طویل مارشل لاء کے ادوار نے ملک کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی ساخت پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان ادوار نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا، سیاسی جماعتوں کی نشوونما کو روکا اور ایک ایسی سیاسی ثقافت کو فروغ دیا جہاں طاقت کا استعمال قانون کی حکمرانی پر حاوی ہو گیا۔ جب بھی فوج نے اقتدار سنبھالا، اس نے آئین کو معطل کیا، بنیادی حقوق سلب کیے اور حزب اختلاف کی آوازوں کو دبایا۔ اس کے نتیجے میں عوام میں سیاسی عمل پر عدم اعتماد پیدا ہوا اور یہ تاثر گہرا ہوا کہ طاقت کا سرچشمہ بندوق ہے، نہ کہ بیلٹ باکس۔

فوجی حکمرانی کے ادوار نے نہ صرف سیاسی ڈھانچے کو متاثر کیا بلکہ عدلیہ، انتظامیہ اور تعلیمی نظام میں بھی فوجی اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ اس سے اداروں کی خودمختاری متاثر ہوئی اور میرٹ کی بجائے وفاداری کو ترجیح دی جانے لگی۔ اقتصادی محاذ پر، فوجی حکومتوں نے بظاہر کچھ ترقیاتی منصوبے شروع کیے، لیکن ان منصوبوں میں شفافیت کا فقدان رہا اور اکثر و بیشتر بدعنوانی کو فروغ ملا۔ بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوئی اور ملک کی معیشت مستحکم جمہوری حکومتوں کی طرح ترقی نہ کر سکی۔ ان ادوار نے بنگلہ دیش کی قومی شناخت کو بھی متاثر کیا، جہاں بانی نظریات کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور ایک نئی بیانیہ گھڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہ اثرات آج بھی بنگلہ دیش کی سیاست میں دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں جمہوریت اگرچہ بحال ہو چکی ہے، لیکن فوجی مداخلت کا خوف اور اس کے گہرے سائے ابھی بھی موجود ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھا جا سکے اور ایک حقیقی جمہوری اور مستحکم معاشرہ قائم ہو سکے۔

نتیجہ: ایک غیر متزلزل عزم کی کہانی

شیخ حسینہ کی وطن واپسی کی آخری امید کا دم توڑنا اور صدر عبدالستار کا استعفیٰ (جو کہ ایک جبری اقدام تھا)، بنگلہ دیش کی جمہوری جدوجہد کا ایک المناک باب ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک شخص کی امیدوں کے ختم ہونے کی کہانی نہیں تھا، بلکہ یہ بنگلہ دیش کے جمہوری مستقبل پر پڑنے والے گہرے سائے کی علامت تھا۔ جنرل ارشد کی فوجی بغاوت نے نہ صرف عبدالستار کی حکومت کا تختہ الٹا بلکہ نو زائیدہ جمہوری عمل کو بھی روک دیا۔ شیخ حسینہ، جو ابھی ابھی طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹی تھیں، کے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکا تھا، لیکن انہوں نے اس کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔

ان کا سیاسی سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح ایک لیڈر غیر متزلزل عزم اور استقامت کے ساتھ جبر اور آمریت کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کئی سالوں تک فوجی حکمرانی کے خلاف جدوجہد کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن جمہوریت کی بحالی کے اپنے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ آخر کار، طویل جدوجہد کے بعد، بنگلہ دیش میں جمہوریت بحال ہوئی اور شیخ حسینہ کئی بار ملک کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں، جس نے یہ ثابت کیا کہ عوامی طاقت اور جمہوری اقدار کی بالادستی کو کوئی بھی آمریت زیادہ دیر تک دبائے نہیں رکھ سکتی۔ یہ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جمہوریت ایک نازک پودا ہے جسے مسلسل دیکھ بھال اور قربانیوں سے ہی پروان چڑھایا جا سکتا ہے، اور ہر بار جب اسے کچلا جاتا ہے، تو اس کے نتائج پورے ملک اور اس کے عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ شیخ حسینہ کی کہانی بنگلہ دیش کے ہر اس فرد کے لیے امید کی کرن ہے جو ایک آزاد، جمہوری اور خوشحال بنگلہ دیش کا خواب دیکھتا ہے۔