مقبول خبریں

چارٹر آف اکانومی وقت کی ضرورت، مگر مفادات کے تصادم سے پاک پالیسی سازی ناگزیر 2026

چارٹر آف اکانومی آج پاکستان کے لیے محض ایک خوش کن نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسی ٹھوس حقیقت بن چکا ہے جس کے بغیر ملک پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ دہائیوں سے، پاکستان کی معیشت سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور سب سے بڑھ کر، فیصلہ سازی میں ذاتی اور گروہی مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے سنگین بحرانوں کا شکار رہی ہے۔ یہ صورتحال ملک کو ایک ایسے دوراہے پر لے آئی ہے جہاں ایک جامع اور متفقہ اقتصادی حکمت عملی کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، ایک ایسی حکمت عملی جو تمام سیاسی، سماجی اور ریاستی سٹیک ہولڈرز کے حقیقی قومی مفادات پر مبنی ہو اور مفادات کے ہر قسم کے تصادم سے پاک ہو۔

چارٹر آف اکانومی کی اہمیت اور ضرورت

پاکستان کی معیشت کو اس وقت کئی اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 2024 میں پاکستان کے لیے 2 فیصد کی معمولی جی ڈی پی اور 2025 میں قدرے بہتر 2.4 فیصد جی ڈی پی کی پیش گوئی کی گئی تھی، جبکہ افراط زر 2023 میں 39.18 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور کرنسی کی قدر میں 20 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، ملک بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جہاں 2023 میں بیرونی قرضہ جی ڈی پی کا 36.5 فیصد تھا اور حکومتی قرضوں کا تناسب 89 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ یہ اعداد و شمار ملک کی کمزور اقتصادی بنیادوں کو واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ایک طویل مدتی اور غیر سیاسی اقتصادی روڈ میپ کی ضرورت ہے۔

چارٹر آف اکانومی اسی ضرورت کا حل پیش کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا دستاویز ہو گا جس میں تمام سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے اور اہم معاشی سٹیک ہولڈرز ایک ایسے کم از کم اقتصادی ایجنڈے پر متفق ہوں گے جو حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود برقرار رہے گا۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی حکومت آئے تو وہ سابقہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو یکسر مسترد نہ کرے، بلکہ تسلسل کے ساتھ قومی مفاد میں جاری رکھے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کے مطابق، پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پالیسیوں کا عدم تسلسل رہا ہے، اور کسی بھی قومی منصوبے کی کامیابی کے لیے کم از کم دس سے پندرہ سال تک پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہوتا ہے۔ اسی طرح، ویلتھ پاک کے وائس چیئرمین ہزار خان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے پائیدار ترقی اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے، اور معاشی پالیسیوں میں مستقل مزاجی کا فقدان کاروباری ماحول کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ ایک مضبوط چارٹر آف اکانومی اس عدم تسلسل کو ختم کر سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کر سکتا ہے، چاہے وہ مقامی ہوں یا غیر ملکی۔

پاکستان کی اقتصادی تاریخ اور عدم استحکام

پاکستان کی اقتصادی تاریخ، بدقسمتی سے، سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے اتار چڑھاؤ کی ایک طویل داستان ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی، ملک کو معاشی منصوبہ بندی میں تسلسل کا فقدان رہا ہے۔ ہر آنے والی حکومت نے اپنی ترجیحات کے مطابق پالیسیاں بنائیں، جبکہ سابقہ حکومتوں کے منصوبوں کو اکثر نظر انداز کر دیا گیا۔ اس عمل نے نہ صرف قومی وسائل کا ضیاع کیا بلکہ ملک کو معاشی طور پر بھی کمزور کیا۔

  • سیاسی بحران اور معیشت: پاکستان میں سیاسی بحرانوں اور اداروں کی سیاسی جانبداری نے معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جب بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام کی لہر اٹھتی ہے، اس کا براہ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ حکومت کی پالیسی سازی اور عملدرآمد میں تعطل آتا ہے، جس سے معیشت کی ترقی کی رفتار سست ہوجاتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور معیشت کی نمو رک جاتی ہے۔
  • قرضوں کا بوجھ: پاکستان کا معاشی بحران محض وقتی یا عالمی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط پالیسی کی ناکامی، بدعنوانی، ادارہ جاتی کمزوری اور فیصلہ سازی میں تسلسل کی کمی کا نتیجہ ہے۔ ملک بار بار آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیتا رہا ہے، جو وقتی ریلیف تو فراہم کرتے ہیں لیکن مستقل حل نہیں ہیں۔ 2023 میں پاکستان کا بیرونی قرضہ 130 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا۔
  • پیداواری شعبوں کی کمزوری: زرعی اور صنعتی شعبوں میں خاطر خواہ ترقی نہ ہونے کی وجہ سے ملک درآمدات پر زیادہ انحصار کرتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے اور روپے کی قدر میں کمی آتی ہے۔

ان حالات نے عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ایسے چارٹر آف اکانومی کی ضرورت ہے جو ان بنیادی مسائل کو حل کرے اور ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالے۔

مفادات کا تصادم: پالیسی سازی میں رکاوٹیں

پاکستان میں اقتصادی پالیسی سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ذاتی اور گروہی مفادات کا تصادم ہے۔ یہ مفادات نہ صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان پائے جاتے ہیں بلکہ ریاستی اداروں اور طاقتور اشرافیہ میں بھی موجود ہیں۔ جب پالیسیاں قومی مفاد کے بجائے مخصوص مفادات کو تحفظ دینے کے لیے بنائی جاتی ہیں، تو ان کا نتیجہ معیشت کی تباہی اور عوام کی مشکلات کی صورت میں نکلتا ہے۔

  • اشرافیہ کا غلبہ: پاکستان کے بیشتر وسائل پر اشرافیہ قابض ہے جو اقتصادی ترقی یا معیشت کی بہتری میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ صرف اس معاشی نظام میں اپنا حصہ برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ اشرافیہ حکومتی نااہلی سے خوب فائدہ اٹھاتی ہے اور اپنی مرضی کی پالیسیاں بنواتی ہے، جس سے سماجی نقل و حرکت رک جاتی ہے اور اسٹیٹس کو برقرار رہتا ہے۔
  • سیاسی جانبداری اور دباؤ: سیاسی بحرانوں کے دوران عدالتوں یا دیگر اداروں کے سیاسی دباؤ میں آکر فیصلے کرنا قانونی اور کاروباری ماحول کو غیر یقینی بناتا ہے۔ اداروں کی جانبداری اور ان کی غیر معیاری کارکردگی سرمایہ کاروں کے لیے عدم اعتماد پیدا کرتی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
  • پالیسی سازی میں شفافیت کا فقدان: پالیسی سازی کا عمل اکثر اوقات غیر شفاف ہوتا ہے، جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی شمولیت یقینی نہیں بنائی جاتی۔ اس کے بجائے، یہ کام کسی کنسلٹنٹ یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ سے کرایا جاتا ہے، جس میں گرامر کی غلطیاں اور آدابِ حکمرانی کی تفہیم کا فقدان ہوتا ہے۔ اس سے پالیسیوں کی افادیت اور عوامی قبولیت متاثر ہوتی ہے۔
  • الزام تراشی کی سیاست: پاکستان کی سیاست میں الزام تراشی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا رجحان قومی مفاد پر حاوی رہتا ہے۔ یہ رجحان قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی راہ میں حائل ہوتا ہے اور چارٹر آف اکانومی جیسی اہم دستاویزات کی تشکیل کو مشکل بناتا ہے۔

ان تمام عوامل کے نتیجے میں ایسی پالیسیاں بنتی ہیں جو دیرپا حل فراہم کرنے کے بجائے فوری اور سطحی اقدامات پر مبنی ہوتی ہیں، اور ملک کو ایک مالیاتی بحران سے دوسرے مالیاتی بحران کی طرف لے جاتی ہیں۔

مفادات سے پاک پالیسی سازی کے اصول

مفادات کے تصادم سے پاک پالیسی سازی ایک پائیدار اور خوشحال معیشت کی بنیاد ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے چند بنیادی اصولوں کو اپنانا ناگزیر ہے:

  • شفافیت اور احتساب: پالیسی سازی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے۔ ہر پالیسی کی تشکیل، اس کے مقاصد، ممکنہ اثرات اور فنڈنگ کے ذرائع واضح ہونے چاہییں۔ اس کے ساتھ ساتھ، پالیسی بنانے والوں اور ان پر عمل درآمد کرنے والوں کا سخت احتساب ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا ذاتی مفاد پرستی کو روکا جا سکے۔
  • شمولیت اور مشاورت: پالیسی سازی صرف حکومتی اداروں کا کام نہیں بلکہ اس میں ماہرین اقتصادیات، صنعت کاروں، کسانوں، مزدوروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور تعلیمی اداروں سمیت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ شمولیت پالیسیوں کو زیادہ جامع، حقیقت پسندانہ اور عوامی مفاد میں بناتی ہے۔
  • ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی: پالیسیاں ذاتی آراء یا سیاسی نعروں پر نہیں بلکہ ٹھوس اعداد و شمار، سائنسی تحقیق اور ماہرانہ تجزیے پر مبنی ہونی چاہییں۔ اس سے پالیسیوں کی افادیت اور کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
  • طویل مدتی منصوبہ بندی: معاشی پالیسیاں قلیل المدتی سیاسی مفادات کے بجائے طویل مدتی قومی ترقی کے اہداف پر مرکوز ہونی چاہییں۔ حکومتوں کی تبدیلی سے پالیسیاں تبدیل نہیں ہونی چاہییں بلکہ ایک متفقہ قومی ایجنڈے کے تحت ان میں تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔
  • مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک: پالیسی سازی اور عمل درآمد کے لیے ایسے مضبوط، خود مختار اور غیر سیاسی اداروں کی ضرورت ہے جو کسی بھی قسم کے دباؤ سے آزاد ہو کر کام کر سکیں۔ یہ ادارے پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بنانے اور ان کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
  • عوامی مفاد کی ترجیح: سب سے اہم اصول یہ ہے کہ ہر پالیسی کا واحد مقصد عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی پائیدار ترقی ہونا چاہیے۔ تمام ذاتی، گروہی یا جماعتی مفادات کو قومی مفاد پر قربان کیا جانا چاہیے۔

چارٹر آف اکانومی کی ممکنہ شکل اور فوائد

ایک مؤثر چارٹر آف اکانومی نہ صرف پاکستان کی معیشت کو استحکام فراہم کر سکتا ہے بلکہ اسے ترقی کی نئی راہوں پر بھی گامزن کر سکتا ہے۔ اس چارٹر کی ممکنہ شکل اور اس کے فوائد درج ذیل ہو سکتے ہیں:

  • مستقل معاشی پالیسیاں: چارٹر ایک ایسا دستاویز ہو گا جس میں کم از کم 10 سے 15 سال کے لیے اقتصادی اہداف، پالیسیاں اور اصلاحات شامل ہوں گی، جن پر تمام بڑی سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے متفق ہوں گے۔ اس سے حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا۔
  • سرمایہ کاری میں اضافہ: پالیسیوں میں استحکام سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یقین ہو گا کہ ان کی سرمایہ کاری محفوظ ہے اور اسے حکومتی تبدیلیوں سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔ یہ ملکی معیشت میں نئی توانائی لائے گا۔ مالی سال 2024 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 2.346 ارب ڈالر رہی، اور 2025 میں اس کے 2.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ SIFC جیسے اقدامات سرمایہ کاری کے فروغ میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔
  • افراط زر اور قرضوں پر قابو: چارٹر میں مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لیے واضح ہدایات شامل ہوں گی، جس سے افراط زر پر قابو پایا جا سکے گا اور قرضوں کا بوجھ کم ہو گا۔ فروری 2025 میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر صرف 1.5 فیصد رہی، جو معاشی استحکام کی علامت ہے۔
  • برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارے میں کمی: برآمدات پر مبنی ترقی کو چارٹر کا بنیادی ہدف بنایا جائے گا، جس سے ملکی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت بڑھے گی اور تجارتی خسارہ کم ہو گا۔ سال 2025 میں پاکستان کی برآمدات 30.351 ارب ڈالر کا سنگ میل عبور کر چکی ہیں، اور حکومت نے رواں سال کے لیے 32.34 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے۔
  • غربت میں کمی اور روزگار کے مواقع: پائیدار اقتصادی ترقی سے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت میں کمی آئے گی۔ چارٹر میں انسانی وسائل کی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
  • ادارہ جاتی اصلاحات: چارٹر میں ریاستی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، بدعنوانی کو ختم کرنے اور گڈ گورننس کے اصولوں کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات شامل ہوں گے۔

ذیل میں ایک مختصر جدول دیا گیا ہے جو چارٹر آف اکانومی کی ضرورت کو واضح کرتا ہے:

مسئلہچارٹر آف اکانومی کے بغیر موجودہ صورتحالچارٹر آف اکانومی کے تحت متوقع حل
پالیسیوں کا عدم تسلسلہر نئی حکومت سابقہ پالیسیاں بدل دیتی ہے، جس سے طویل المدتی اہداف حاصل نہیں ہو پاتے۔ایک متفقہ 10-15 سالہ روڈ میپ، جس پر حکومتوں کی تبدیلی سے اثر نہ پڑے۔
سیاسی عدم استحکام کا معیشت پر اثرسیاسی بحران سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کرتے ہیں اور معاشی ترقی رک جاتی ہے۔سیاسی اختلافات کے باوجود معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے، سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
مفادات کا تصادممخصوص گروہی اور ذاتی مفادات قومی پالیسی سازی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔شفافیت، احتساب اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے، اداروں کو غیر سیاسی کیا جائے۔
قرضوں کا بڑھتا بوجھمالیاتی بدانتظامی اور کم ٹیکس وصولی کی وجہ سے قرضوں پر انحصار بڑھتا ہے۔سخت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس نیٹ میں وسعت، اور خود انحصاری کی پالیسیاں۔
سرمایہ کاری میں کمیغیر یقینی صورتحال نئے سرمایہ کاروں کو راغب نہیں کرتی اور موجودہ سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے۔مستحکم کاروباری ماحول اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں، خصوصی اقتصادی زونز کا فروغ۔

عالمی مثالیں اور سبق

دنیا کے کئی ممالک نے طویل مدتی اقتصادی پالیسیوں میں اتفاق رائے پیدا کر کے پائیدار ترقی حاصل کی ہے۔ ان ممالک کی مثالیں پاکستان کے لیے اہم سبق آموز ہو سکتی ہیں۔

  • چین کا ترقیاتی ماڈل: چین نے مارکیٹ کے بعض اہم اصولوں کو ہم آہنگ کرکے ایسا معاشی ماڈل تشکیل دیا جو نئے روزگار پیدا کرنے کا سبب بنا اور اس ماڈل کے تحت 80 کروڑ افراد کو خط غربت سے باہر نکالا۔ چین نے ایک طویل مدتی وژن کے ساتھ منصوبہ بندی کی اور اپنی اقتصادی پالیسیوں میں تسلسل رکھا، جس کی بدولت آج وہ عالمی سطح پر ایک بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری (CPEC) بھی اسی طویل المدتی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے میں نمایاں بہتری لائی ہے۔
  • جنوب مشرقی ایشیائی ممالک: ملائیشیا، جنوبی کوریا اور سنگاپور جیسے ممالک نے اپنی اقتصادی ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبے بنائے اور انہیں حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود مستقل مزاجی سے نافذ کیا۔ ان ممالک نے تعلیم، انفراسٹرکچر اور برآمدات پر مبنی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی، جس سے ان کی معیشتیں مضبوط ہوئیں۔
  • جرمنی اور جاپان: جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان نے مضبوط اور مستقل معاشی پالیسیوں کے ذریعے اپنی معیشتوں کو دوبارہ تعمیر کیا اور آج وہ دنیا کی بڑی اقتصادی طاقتیں ہیں۔ ان ممالک نے سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جہاں اقتصادی فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے گئے۔

ان عالمی مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معاشی استحکام اور ترقی کے لیے سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان ایک قومی اتفاق رائے اور طویل مدتی پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔ پاکستان کو بھی اپنی ترقی کے لیے اشرافیہ کے ساتھ کوئی سودا کرنا ہوگا اور آبادی میں اضافے پر قابو پانے جیسے بنیادی ستونوں پر توجہ دینا ہو گی۔

نفاذ کے چیلنجز اور حل

چارٹر آف اکانومی کی تشکیل بلاشبہ ایک مشکل کام ہے، لیکن اس کے نفاذ میں بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم، ان چیلنجز کا حل بھی موجود ہے:

  • سیاسی عزم کا فقدان: پاکستان میں سیاسی جماعتیں اکثر قلیل المدتی انتخابی فوائد کے لیے طویل المدتی قومی مفادات کو قربان کر دیتی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر لانا اور انہیں چارٹر کی اہمیت اور ملکی بقا کے لیے اس کی ضرورت پر قائل کرنا ضروری ہے۔ اسحاق ڈار جیسے رہنماؤں نے ماضی میں چارٹر آف اکانومی کی پیشکش کی ہے، جو ایک مثبت قدم ہے۔
  • مفادات کا ٹکراؤ: طاقتور گروہوں اور اشرافیہ کے مفادات چارٹر کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس کے لیے ایک مضبوط قانونی اور آئینی فریم ورک کی ضرورت ہے جو کسی بھی گروہ کو قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینے سے روکے۔
  • اداروں کی کمزوری: پاکستان میں ریاستی اداروں کی کارکردگی اور خود مختاری پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ چارٹر کے مؤثر نفاذ کے لیے اداروں کو مضبوط اور غیر سیاسی بنانا ضروری ہے۔
  • عوامی حمایت: کسی بھی قومی ایجنڈے کی کامیابی کے لیے عوامی حمایت ضروری ہے۔ عوام کو چارٹر آف اکانومی کے فوائد سے آگاہ کرنا اور انہیں اس عمل کا حصہ بنانا انتہائی اہم ہے۔
  • مستقل نگرانی اور جائزہ: چارٹر کے نفاذ کی مستقل نگرانی اور وقتاً فوقتاً اس کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ اس میں درپیش مسائل کو حل کیا جا سکے اور اسے مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حکومت کی اقتصادی سمت میں واضح تبدیلی کا اشارہ دیا ہے، جس میں تیز مگر غیر پائیدار ترقی کے بجائے مسلسل، مستحکم اور دیرپا ترقی کو بنیادی ہدف بنایا گیا ہے۔ انہوں نے پرانے انداز کو دہرانے سے خبردار کیا اور اس بات کو دہرایا کہ برآمدات پر مبنی ترقی ہی بہتر معاشی کارکردگی کا واحد راستہ ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے جو چارٹر آف اکانومی کے نظریے سے ہم آہنگ ہے۔

یہ بھی قابل غور ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے بھی اقتصادی پالیسیوں کے تسلسل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنی مالیاتی پالیسیوں میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لائے تاکہ آئی ایم ایف جیسے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

اندرونی طور پر، پالیسی تسلسل اور رویوں میں تبدیلی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع اور آبادی میں توازن جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری پاکستان کی سب سے بڑی معاشی قوت ثابت ہوگی۔

نتیجہ

چارٹر آف اکانومی پاکستان کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جس سے فائدہ اٹھا کر ملک کو عشروں سے جاری اقتصادی عدم استحکام کے چکر سے نکالا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس چارٹر کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ یہ کس حد تک مفادات کے تصادم سے پاک پالیسی سازی کو یقینی بناتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں، اور سماجی سٹیک ہولڈرز کو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالا تر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہو گی۔ انہیں ایک ایسا متفقہ اقتصادی ایجنڈا تیار کرنا ہو گا جو مستقبل کی حکومتوں کے لیے ایک رہنما اصول کا کام دے اور ملک کو پائیدار ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کرے۔

آج کا پاکستان سیاسی الزام تراشیوں اور وقتی انتخابی مصلحتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسے ایک ایسے متفقہ چارٹر آف گورننس اور چارٹر آف اکانومی کی ضرورت ہے جو ملک کو ترقی کی پائیدار راہ پر ڈال سکے۔ یہ چارٹر ہی وہ لائحہ عمل فراہم کر سکتا ہے جس کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے موجودہ اقتصادی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کے طور پر اپنی شناخت بھی بنا سکتا ہے۔