Table of Contents
ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کا حکم دے دیا ہے، یہ دعویٰ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جس کے تحت ایران کے بجلی گھروں، آئل ریفائنریز اور دیگر توانائی سے متعلق اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس ممکنہ اقدام کا بنیادی مقصد تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا اور اس کے جوہری پروگرام سمیت دیگر علاقائی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔ تاہم، اس رپورٹ پر جہاں عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے اس پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا ہے، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہی سے شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دیے جا رہے ہیں۔
پس منظر: امریکہ-ایران کشیدگی کی دہائیوں پر محیط تاریخ
امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے جو کہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی نے جنم لیا، جب سے ایران کو امریکہ کے ایک قریبی اتحادی کے بجائے ایک مخالف کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت یہ کشیدگی کئی گنا بڑھ گئی، جب 2018 میں امریکہ نے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے (جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن – JCPOA) سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی۔ اس اقدام کے بعد امریکہ نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں، جس کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات اور اس کے معاشی نظام کو مفلوج کرنا تھا۔ ان پابندیوں کے جواب میں ایران نے بھی جوہری معاہدے کی کچھ شرائط سے انحراف کرنا شروع کر دیا، جس سے عالمی برادری میں تشویش بڑھ گئی۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ جوہری معاہدہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی مبینہ تخریبی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ناکافی ہے۔ امریکہ نے ایران پر خطے میں اپنی اتحادی ملیشیاؤں کی حمایت اور بحری جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔ اس دور میں کئی واقعات پیش آئے جنہوں نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، جن میں آبنائے ہرمز میں تیل کے ٹینکروں پر حملے، سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے، اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔ جنوری 2020 میں بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا، جس کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکی فوجیوں پر میزائل حملہ کیا تھا۔ ان تمام واقعات نے خطے میں ایک غیر مستحکم صورتحال پیدا کر دی تھی، جہاں ذرا سی غلط فہمی بھی ایک بڑے تنازع کو جنم دے سکتی تھی۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی تفصیلات اور ممکنہ اہداف
وال اسٹریٹ جرنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر نئے حملوں کا حکم دیا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے حساس موڑ پر سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی نازک مرحلے پر ہیں۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ فوجی کارروائی ہفتے کے اختتام پر شروع کی جا سکتی ہے، اور اس کا ہدف ایران کے اہم توانائی سے متعلقہ بنیادی ڈھانچے ہو سکتے ہیں۔
- بجلی گھر: رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کا مقصد ملک کے بجلی کے نظام کو مفلوج کرنا اور صنعتی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
- آئل ریفائنریز: ایران کی آئل ریفائنریز بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہیں، جو اس کی تیل کی پیداوار اور برآمدات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہ ایران کی معیشت کی شہ رگ ہیں اور ان پر حملے کا مطلب اس کے سب سے بڑے مالیاتی ذریعے کو کاٹنا ہو گا۔
- دیگر توانائی تنصیبات: رپورٹ میں توانائی سے متعلق دیگر اہم تنصیبات کا بھی ذکر ہے، جن میں گیس کے ذخائر، پائپ لائنز اور تقسیم کے مراکز شامل ہو سکتے ہیں۔
اخبار کے مطابق، ان حملوں کا بنیادی مقصد ایران پر فوجی دباؤ بڑھا کر اسے جوہری اور علاقائی مسائل پر دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ یہ ایک حکمت عملی ہے جس کے تحت ایران کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ اگر وہ اپنے موجودہ مؤقف پر قائم رہا تو اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے یہ بھی بتایا کہ امریکی حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا یہ حملے امریکی افواج کو خطے میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ خطرات کا جواب دینے کے لیے ضروری ہیں یا نہیں۔
پینٹاگون کا محتاط مؤقف اور امریکی قیادت میں اختلافات
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد، امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ان اطلاعات پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر کے کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل ممکنہ اہداف یا فوجی منصوبہ بندی پر بات نہیں کی جا سکتی۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح کیا کہ امریکی افواج صدر کی ہدایات ملنے پر کسی بھی وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اندرونی طور پر ممکنہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں حساس ہے اور عوامی طور پر اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے معاملے پر امریکی قیادت کے اندر بھی اختلافات اور خدشات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین جیسے اعلیٰ عہدیداروں نے ایران کے خلاف جنگ کو مزید وسعت دینے کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جنرل کین نے صدر ٹرمپ کو ممکنہ فوجی اقدامات کے نتائج، درپیش خطرات، امریکی فوجی صلاحیتوں اور اسلحے کے ذخائر پر طویل جنگ کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا تھا۔ امریکی عسکری حکام کا خیال ہے کہ فوج صدر کے احکامات پر عمل درآمد کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، لیکن کسی بھی بڑے فوجی اقدام سے قبل اس کے ممکنہ نتائج اور طویل المدتی اثرات کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ اندرونی بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکی انتظامیہ کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے طویل مدتی نتائج اور عالمی ردعمل کے بارے میں فکر مند ہے۔
ایران کا دوٹوک انتباہ اور جوابی کارروائی کی دھمکی
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ حملوں کے احکامات کے دعوؤں پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ تہران نے امریکہ اور اسرائیل کو اہم تنصیبات پر کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف دوٹوک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ایرانی مسلح افواج کی خاتم الانبیا بریگیڈ کے سینئر کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے واضح کیا ہے کہ اب وہ دور گزر چکا جب حملہ آور کارروائی کے بعد محفوظ رہتے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غلط اندازوں پر مبنی کسی بھی فوجی اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ایران اپنی دفاعی صلاحیت، تیاری اور حکمت عملی کے حوالے سے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ عرب ممالک اور اسرائیل میں توانائی کے ڈھانچے پر جوابی حملہ کرے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور اسرائیل میں امریکی فوجی اڈے اور توانائی سے متعلق اہم تنصیبات ایرانی میزائلوں کی رینج میں ہیں۔ خاص طور پر، اسرائیل میں لویتان اور تیمار گیس فیلڈز کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس کے بجلی نظام کو نشانہ بنایا گیا تو وہ اسرائیلی بجلی گھروں سمیت خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ انتباہات مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے پیمانے پر علاقائی تصادم کے خدشات کو جنم دیتے ہیں، جس کے عالمی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، خاص طور پر عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت پر۔
امریکہ اور اسرائیل کا ممکنہ مشترکہ کردار
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں ایک اور اہم دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ اگر ایران پر فوجی کارروائی ہوتی ہے تو امریکہ اور اسرائیل اس میں مشترکہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے سٹریٹیجک اتحاد قائم ہے، اور دونوں ممالک ایران کو خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کے خلاف ہمیشہ ایک سخت مؤقف اپنایا ہے اور وقتاً فوقتاً ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ-اسرائیل تعلقات مزید مضبوط ہوئے، اور دونوں ممالک نے ایران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم پر عمل کیا۔ اگر وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ درست ہے کہ ٹرمپ نے ایران پر تازہ حملوں کا حکم دیا ہے اور اسرائیل بھی اس میں شامل ہو گا، تو یہ خطے میں ایک نیا اور خطرناک باب ہو سکتا ہے۔ ایسے مشترکہ حملوں کا مقصد ایران کی دفاعی اور توانائی کی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا ہو گا، اور اس کے نتیجے میں ایک وسیع علاقائی جنگ چھڑنے کا شدید خدشہ ہے۔
ماضی میں بھی اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہداف پر خفیہ کارروائیاں کی ہیں، جن میں سائبر حملے اور جوہری سائنسدانوں کا قتل شامل ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس طرح کی مشترکہ کارروائی سے ایران کا ردعمل مزید شدید ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
| اہم واقعات | تاریخ | تفصیل |
|---|---|---|
| جوہری معاہدے سے امریکی انخلا | مئی 2018 | ٹرمپ انتظامیہ نے یکطرفہ طور پر JCPOA سے علیحدگی اختیار کی اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیں۔ |
| قاسم سلیمانی کی ہلاکت | جنوری 2020 | بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہو گئے۔ |
| ایران کا جوابی میزائل حملہ | جنوری 2020 | ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی میزائل حملے کیے، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ |
| وال اسٹریٹ جرنل کی حالیہ رپورٹ | اگست 2026 | امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ دی کہ ٹرمپ نے ایران پر تازہ حملوں کا حکم دیا۔ |
عالمی برادری کے خدشات اور علاقائی استحکام پر ممکنہ اثرات
امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے دعوے عالمی برادری میں شدید تشویش کا باعث بنے ہیں۔ اس طرح کے کسی بھی اقدام کے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ علاقائی استحکام پر اس کے فوری اثرات بہت تباہ کن ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایران کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے، جس میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، اسرائیلی تنصیبات اور عرب اتحادی ممالک کی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
علاقے میں پہلے ہی کئی مسلح گروہ موجود ہیں جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے، اور وہ کسی بھی تصادم کی صورت میں متحرک ہو سکتے ہیں۔ اس سے پورے خطے میں جنگ کا ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو سکتے ہیں اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ عالمی توانائی کی منڈیاں بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوں گی۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، کی بندش یا اس میں رکاوٹ سے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں نے ہمیشہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔ کسی بھی فوجی کارروائی سے ان سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا اور یہ خطے میں امن و استحکام کی امیدوں کو مزید کمزور کر دے گا۔ اس سے عالمی سلامتی کے چیلنجز بھی بڑھیں گے اور عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلات ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں جہاں ایران پر امریکی فضائی حملوں اور ان کے دعوؤں کا ذکر کیا گیا ہے، اور یہ کہا گیا ہے کہ یہ کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
سفارتی حل کی تلاش اور مذاکراتی کوششیں
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود، سفارتی حل کی تلاش کی کوششیں بھی جاری رہی ہیں۔ اگرچہ وال اسٹریٹ جرنل کی حالیہ رپورٹ فوجی حملوں کے احکامات کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن ماضی میں بھی ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے حملوں کو مذاکرات کے امکانات کے پیش نظر ملتوی کیا تھا۔ مارچ 2026 میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملے 5 روز کے لیے ملتوی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز رہی ہے۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے کو بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے تاکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
ٹرمپ نے بارہا یہ بات واضح کی تھی کہ وہ ایران کے معاملے پر مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل چاہتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز یا خطے میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جارحانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو امریکہ اپنے تمام آپشنز کھلے رکھے گا۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں اور فوجی کارروائیوں کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔ تاہم، ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو پہلے پابندیاں ختم کرنی ہوں گی اور جوہری معاہدے پر دوبارہ مکمل عمل درآمد کرنا ہو گا، اس کے بعد ہی بامعنی مذاکرات ممکن ہیں۔
کچھ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بحرین اور کویت نے جولائی 2026 میں خفیہ طور پر ایران پر حملے کیے تھے، جس کا مقصد ایران کے اندرونی اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ کارروائیاں علاقائی سطح پر ایران کے خلاف بڑھتے ہوئے تعاون کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ نے بعض مواقع پر ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور بڑے تصفیے پر پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی دباؤ اور سفارتکاری کی پیچیدہ پالیسی ایک ساتھ چلائی جا رہی ہے۔
نتیجہ: ایک غیر یقینی مستقبل
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں سامنے آنے والے دعوے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو ایک غیر یقینی صورتحال میں ڈال رہے ہیں۔ یہ رپورٹ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے جو جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور بحری تجارت جیسے مسائل پر مرکوز ہے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ فوجی دباؤ کے ذریعے ایران کو مذاکرات پر مجبور کیا جائے، جبکہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا عزم رکھتا ہے۔
پینٹاگون کا محتاط مؤقف اور امریکی قیادت میں اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن خود بھی کسی بڑے فوجی تصادم کے طویل المدتی نتائج سے آگاہ ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی فوجی کارروائی کے علاقائی استحکام، عالمی توانائی کی منڈیوں اور انسانی بحران پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس تنازع کا مستقبل غیر یقینی ہے اور یہ مکمل طور پر دونوں فریقین کے آئندہ اقدامات پر منحصر ہے۔ کیا امریکہ مزید فوجی دباؤ بڑھائے گا یا سفارتکاری کو ایک اور موقع دیا جائے گا؟ کیا ایران اپنے مطالبات پر قائم رہے گا یا کسی نئے معاہدے پر رضامند ہو گا؟ ان سوالات کے جوابات ہی آئندہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا تعین کریں گے اور عالمی امن پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ ایک بات واضح ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا یہ نیا باب نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔


