مقبول خبریں

تہران کا واشنگٹن سے کوئی رابطہ نہیں، عمان سے بات چیت جاری ہے، اسماعیل بقائی

تہران کا واشنگٹن سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے، یہ بات ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک حالیہ پریس بریفنگ کے دوران زور دے کر کہی ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے آغاز کا دعویٰ کیا تھا۔ بقائی نے واضح کیا کہ تہران کی موجودہ توجہ عمان کے ساتھ جاری مشاورت پر مرکوز ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور اس کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ اس بیان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کی نوعیت اور خطے میں ثالثی کے کردار کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

ایرانی ترجمان کے مطابق، امریکی صدر کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں اور فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا کوئی سلسلہ جاری نہیں ہے۔ یہ صورتحال خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور امریکہ-ایران تناؤ کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران کا یہ موقف کہ وہ براہ راست واشنگٹن سے بات چیت نہیں کر رہا، برسوں پرانی پالیسی کا تسلسل ہے، جس میں ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ایک معمول رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ، خصوصاً خلیج فارس کا خطہ، کئی دہائیوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کا مرکز رہا ہے۔ جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی گزرگاہوں کی سلامتی جیسے مسائل ہمیشہ سے فریقین کے درمیان اختلافات کا باعث بنے ہیں۔ ان حالات میں، عمان نے ایک غیر جانبدار اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر اپنا کردار نبھایا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اسماعیل بقائی کا تازہ بیان اس بات پر زور دیتا ہے کہ عمان کے ساتھ موجودہ بات چیت کا دائرہ محض آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات تک محدود ہے اور اس میں امریکہ براہ راست شامل نہیں ہے۔

ایران اور امریکہ کے تعلقات میں عمان کی ثالثی کا کردار

عمان نے طویل عرصے سے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ جغرافیائی قربت، غیر جانبدار خارجہ پالیسی اور دونوں ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات نے عمان کو اس نازک سفارتی مشن کے لیے ایک مثالی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ ماضی میں، عمان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلے جیسے حساس معاملات میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

عمان کی ثالثی کی کوششوں کا مقصد ہمیشہ سے فریقین کو براہ راست تصادم سے بچانا اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنا رہا ہے۔ کئی مواقع پر، مسقط نے خفیہ ملاقاتوں اور پیغامات کے تبادلے کے لیے ایک محفوظ مقام فراہم کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کو اپنے موقف بیان کرنے اور ایک دوسرے کے خدشات کو سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ اس ثالثی کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب براہ راست رابطے منقطع ہوں یا فریقین ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا شکار ہوں۔

حالیہ بیانات کے مطابق، اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ موجودہ رابطے صرف آبنائے ہرمز سے متعلق بحری آمدورفت اور اس کے انتظام کے بارے میں ہیں، اور امریکہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنے علاقائی معاملات میں بیرونی مداخلت کو محدود رکھنا چاہتا ہے اور عمان کو ایک ایسے پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے جو مشترکہ بحری مفادات پر بات چیت میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ عمان کی سفارتی کامیابی ہے کہ وہ اس قدر حساس اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل معاملے پر ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے۔

عمان کا یہ ثالثی کا کردار خطے کے امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔ جب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، عمان جیسے ممالک کی سفارتی کوششیں صورتحال کو بگڑنے سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ ثالثی کا یہ عمل پیچیدہ اور چیلنجز سے بھرپور ہوتا ہے، کیونکہ دونوں فریقوں کے بنیادی مفادات اور توقعات اکثر مختلف ہوتی ہیں۔

آبنائے ہرمز کا بحران اور موجودہ مذاکرات کی نوعیت

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جو عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ سنبھالتی ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر، اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا عدم استحکام کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران اور عمان کی سمندری حدود میں واقع ہونے کی وجہ سے، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور انتظام دونوں ممالک کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ جاری بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز کو پہلے کی طرح مکمل طور پر کھولنا نہیں، بلکہ ایک نئے متفقہ بحری راستے پر اتفاق کرنا ہے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جو ایران کے نئے موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ بقائی کے مطابق، مستقبل میں اختیار کیا جانے والا راستہ نہ موجودہ شمالی بحری گزرگاہ ہوگا اور نہ ہی جنوبی، بلکہ دونوں فریقوں کی مشاورت سے ایک نیا راستہ طے کیا جائے گا جس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ تجویز بین الاقوامی جہاز رانی کے قواعد و ضوابط کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے، کیونکہ روایتی طور پر اسے ایک بین الاقوامی آبی راستہ سمجھا جاتا رہا ہے جہاں سے گزرنے کے لیے کسی فیس یا خصوصی اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

ایران کا یہ موقف کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے والی کیفیت میں واپس نہیں جا سکے گی، جب تک امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، خطے میں جاری کشیدگی کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایرانی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ ایران کے تعلقات مثبت ہیں اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایران اور عمان کے درمیان اختلافات کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق، اس صورتحال کی اصل وجہ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ہیں۔

ماضی میں، ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی تھی (اپریل 2026 میں) کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے مشترکہ طور پر فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے، جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے فنڈز جمع کرنا تھا۔ تاہم، اس تجویز کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، کیونکہ اس سے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے استعمال کے اصول متاثر ہوتے ہیں۔ موجودہ مذاکرات کی نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز کے انتظام پر اپنے خودمختار حقوق پر زور دے رہا ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہے۔

آبنائے ہرمز سے متعلق کلیدی نکات

نکتہتفصیل
اہمیتعالمی تیل کی تجارت کا ایک تہائی حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، جو اسے عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم بناتا ہے۔
ایرانی موقفجب تک امریکی جارحیت ختم نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر نہیں آئے گی۔
عمان سے مذاکراتآبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے اور ایک نئے متفقہ بحری راستے پر اتفاق رائے کے لیے عمان سے بات چیت جاری ہے۔
امریکی عدم شمولیتعمان کے ساتھ جاری آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں امریکہ براہ راست شامل نہیں ہے۔
بندش کا دعویٰایرانی ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز ابھی بھی بند ہے۔
فیس کی تجویز (ماضی)اپریل 2026 میں ایران اور عمان کی جانب سے جہازوں سے مشترکہ فیس وصول کرنے کی تجویز سامنے آئی تھی، جس پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ کے دعوے اور تہران کی تردید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں متعدد بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں یا جلد شروع ہونے والے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ ایران نے خود امریکہ سے رابطہ کیا ہے تاکہ حملے سے بچا جا سکے اور ایک معاہدہ کیا جا سکے، اس سے قبل بھی ایرانی حکام کی جانب سے مسترد کیا جا چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہاں تک کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کل تک مکمل طور پر کھل جانی چاہیے، جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ہوگی۔ ان بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ایک وسیع البنیاد معاہدے کی تلاش میں ہے، جس میں جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی کے مسائل بھی شامل ہوں۔ تاہم، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان تمام دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، یہ واضح کرتے ہوئے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔

یہ تضاد دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے عدم اعتماد اور سفارتی رسہ کشی کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ سفارتی حل کی بات کرتا ہے، وہیں دوسری طرف ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی اقدامات کی دھمکیوں سے بھی گریز نہیں کرتا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

تہران کا یہ موقف کہ امریکہ کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں، اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ ایران براہ راست بات چیت کے لیے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور سفارتی کوششوں کو اپنے طے شدہ اصولوں کے مطابق جاری رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔

خطے میں امریکی پالیسیوں کے اثرات اور ایران کا ردعمل

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ امریکی پالیسیوں اور اس کی جارحیت کو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ چند مہینوں کے دوران خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے باعث کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پورا خطہ زیادہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ بقائی نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع ممالک کو اپنے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ممالک بھی عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایران کا یہ موقف کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ پورے خطے کے امن اور سلامتی کے خلاف جنگ ہیں، خطے میں جاری کشیدگی کی گہری جڑوں کو ظاہر کرتا ہے۔ تہران نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی امریکی کارروائی درحقیقت پورے خطے کے خلاف جنگ تصور کی جائے گی۔ یہ انتباہ خطے میں فوجی تصادم کے ممکنہ تباہ کن نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اس بات کو بھی سراہا کہ خطے کے ممالک موجودہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ علاقائی امن کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ کریں تاکہ بیرونی مداخلت اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

ایران کی یہ پالیسی امریکہ کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی سے بچنے اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔ تہران کا خیال ہے کہ جب تک امریکی جارحانہ پالیسیاں برقرار رہیں گی، خطے میں مکمل امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

پاکستان اور دیگر ثالثوں کی سفارتی کاوشیں

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی حل کی تلاش میں پاکستان، قطر اور عمان جیسے ممالک نے مسلسل ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ ممالک دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں سہولت فراہم کرتے رہے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب براہ راست رابطے منقطع ہوں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ بالواسطہ رابطوں میں بدستور مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر قطر بھی اس عمل میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ طویل زمینی سرحد اور مذہبی و ثقافتی تعلقات ہیں، جبکہ امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے دیرینہ سفارتی، دفاعی اور معاشی روابط موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں، پاکستان کے لیے ہمیشہ متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنا ایک مشکل مگر ناگزیر ذمہ داری رہی ہے۔ اسلام آباد نے اپریل 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کی میزبانی بھی کی تھی، جسے کئی دہائیوں میں اعلیٰ سطح کا پہلا رابطہ قرار دیا گیا تھا۔

بقائی نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ چین پاکستان کی جگہ کلیدی ثالثی کا کردار نبھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین بھی دیگر کئی ممالک کی طرح معاونت کر رہا ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ ایران نے موجودہ ثالثوں کے ساتھ کسی نئے ثالث کو شامل کر لیا ہے۔ یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران سفارتی چینلز کو کھلا رکھنا چاہتا ہے، لیکن ثالثی کے عمل میں اپنے دیرینہ اور قابل اعتماد شراکت داروں کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ ممالک نہ صرف پیغامات کی ترسیل کرتے ہیں بلکہ فریقین کے خدشات کو دور کرنے اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ یہ سفارتی کاوشیں خطے میں مکمل جنگ سے بچنے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

ان ثالثی کی کوششوں کا مقصد یہ بھی ہے کہ ایسے عبوری معاہدے یا جنگ بندی پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے جو حالات کو مزید بگڑنے سے روکے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے واضح کیا ہے کہ تہران کی موجودہ توجہ صرف عمان کے ساتھ جاری مشاورت پر مرکوز ہے، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے حوالے سے ہے۔

مستقبل کی راہ اور سفارتی چیلنجز

تہران کا واشنگٹن سے براہ راست رابطہ نہ ہونے کا دعویٰ اور عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق بات چیت کا تسلسل، ایران کی خارجہ پالیسی کی ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف، ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے گریزاں نظر آتا ہے، خصوصاً امریکی دباؤ اور پابندیوں کے ماحول میں۔ دوسری طرف، وہ عمان جیسے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اہم معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے، جس سے اس کی سفارتی لچک اور علاقائی تعاون پر زور دینے کی حکمت عملی ظاہر ہوتی ہے۔

آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ جاری مذاکرات، خاص طور پر ایک نئے متفقہ بحری راستے کی تلاش، ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، اگرچہ اس کے بین الاقوامی مضمرات وسیع ہو سکتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ ایران عالمی جہاز رانی کی اس اہم گزرگاہ پر اپنے خودمختار کنٹرول کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کا لازمی جزو سمجھتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے اور ایرانی تردید کے درمیان جاری سفارتی رسہ کشی اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ جب تک یہ عدم اعتماد برقرار رہے گا، براہ راست اور نتیجہ خیز مذاکرات کا امکان کم رہے گا۔ تاہم، پاکستان اور قطر جیسے ثالثوں کا کردار کشیدگی میں کمی لانے اور پیغامات کے تبادلے کو برقرار رکھنے میں معاون ہے۔

مستقبل میں، ایران اور امریکہ کے تعلقات کا انحصار خطے کی سکیورٹی صورتحال، امریکہ کی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیوں، اور ایران کے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی حکمت عملی پر ہوگا۔ سفارتی چینلز کو کھلا رکھنا، چاہے وہ ثالثوں کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، خطے میں امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ فوجی تصادم کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خطے کے استحکام کا انحصار ایران اور امریکہ کے تعلقات کی نوعیت پر ہے، اور ثالثوں کی کوششیں اس تناظر میں ایک روشن امید ہیں۔