یوکرین کا روسی دارالحکومت ماسکو پر بڑا حملہ حالیہ مہینوں میں جاری روس-یوکرین جنگ میں ایک نئی اور تشویشناک شدت کا مظہر ہے۔ یہ حملے، خصوصاً ڈرونز کے استعمال سے، نہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ روسی سرزمین، خاص طور پر اس کے قلب یعنی ماسکو تک پہنچ کر جنگ کے جغرافیائی دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب جنگ کے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، یوکرین کی جانب سے روس کے اندر گہرائی میں حملے کرنے کی صلاحیت جنگ کی نوعیت کو بدل رہی ہے اور کریملن کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر رہی ہے۔ ان حملوں کا مقصد روسی جنگی مشینری کو نقصان پہنچانا، اس کی معیشت پر دباؤ ڈالنا، اور روسی عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہے، تاکہ ان کی حکومت پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یوکرین اب محض اپنے دفاع تک محدود نہیں بلکہ وہ جنگ کو روس کے اپنے علاقے تک لے جانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
گزشتہ دو برس کا سب سے بڑا ڈرون حملہ
گزشتہ ہفتے، 15 اور 16 اگست 2026 کی درمیانی شب، روسی دارالحکومت ماسکو کو گزشتہ دو برسوں کے دوران سب سے بڑے ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا، جس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ روسی وزارت داخلہ کے مطابق، یوکرین کی جانب سے ماسکو اور اس کے گردونواح میں تقریباً 600 ڈرون داغے گئے۔ یہ تعداد حالیہ تاریخ میں ماسکو کی جانب کیے جانے والے حملوں میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے 201 سے زائد ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کامیابی سے تباہ کر دیا گیا، تاہم حملے کے نتیجے میں کم از کم 3 شہری زخمی ہوئے۔
اس بڑے حملے نے روس کے فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی اور یوکرین کی جانب سے حملوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین مغرب سے مزید جدید ہتھیاروں اور فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا مطالبہ کر رہا ہے، اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ روسی سرزمین پر جوابی حملوں میں بھی تیزی لا رہا ہے۔ یہ صورتحال جنگ کے تناظر میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں یوکرین نے جنگ کو روسی سرزمین تک لے جانے کا واضح پیغام دیا ہے۔ ڈرون حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی گہرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ یوکرین کی حکمت عملی میں تبدیلی آئی ہے اور وہ روس کو اس کی اپنی سرزمین پر بھی غیر محفوظ ثابت کرنا چاہتا ہے۔
حملے کی تفصیلات اور نقصانات
ماسکو پر ہونے والے حالیہ بڑے ڈرون حملے میں نہ صرف بڑے پیمانے پر ڈرونز کا استعمال کیا گیا بلکہ اس کے نتیجے میں اہم انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔ روسی وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملوں سے ماسکو میں ایک بڑے گودام کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، جون 2026 میں بھی یوکرین نے ماسکو پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں ماسکو میں ایک آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ماہرین کے مطابق، یہ ریفائنری روسی دارالحکومت کی ایندھن کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ پورا کرتی ہے اور اسے اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے۔ اس سے قبل بھی، اگست 2026 کے اوائل میں، ماسکو ریجن پر یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح، 10 اگست 2026 کو روس کے علاقے تاتارستان میں یوکرین کے مبینہ ڈرون حملے میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جہاں ڈرونز نے صنعتی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
یہ حملے صرف حالیہ ہفتوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جو گزشتہ دو برسوں سے جاری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دو برسوں کے دوران ماسکو کی جانب کیے جانے والے بڑے ڈرون حملوں کی ایک فہرست ہے:
- 6 اور 7 جولائی 2026 کی درمیانی شب: ماسکو اور اس کے گردونواح میں 430 سے زائد ڈرونز کی اطلاع دی گئی، جن میں سے 36 ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔
- 19 اور 20 جولائی 2026 کی درمیانی شب: 400 سے زائد ڈرونز نے دارالحکومت کے خطے کا رخ کیا۔
- 27 اور 28 جولائی 2026 کی درمیانی شب: 390 سے زائد ڈرونز ماسکو ریجن کی جانب بڑھے۔
- 17 اور 18 جولائی 2026: 370 سے زائد ڈرونز تباہ کیے جانے کی اطلاع۔
- 11 سے 12 جولائی 2026: 300 سے زائد ڈرونز تباہ کیے گئے، جن میں سے 45 ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔
- 4 جولائی 2026: 24 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد ڈرونز نے روسی دارالحکومت کی سمت پرواز کی۔
- مارچ 2025: ماسکو کو ایک بڑے ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا، جب 74 ڈرونز ماسکو کے قریب مار گرائے گئے۔
ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یوکرین منظم طریقے سے روسی سرزمین پر، خاص طور پر ماسکو پر، حملے کر رہا ہے، اور ان حملوں کی شدت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ حملے نہ صرف روسی معیشت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں بلکہ روسی عوام کے مورال کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جو اب جنگ کے براہ راست اثرات کو اپنی سرزمین پر محسوس کر رہے ہیں۔
| تاریخ | حملے کی نوعیت | مبینہ ڈرونز کی تعداد (یوکرین کے دعووں کے مطابق) | اہم نقصانات / جانی نقصان | فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی (روس کے دعووں کے مطابق) |
|---|---|---|---|---|
| 15-16 اگست 2026 | بڑا ڈرون حملہ (گزشتہ 2 سال کا سب سے بڑا) | 600 سے زائد (روسی وزارت داخلہ) | ایک بڑے گودام کو نقصان، 3 شہری زخمی | 201 ڈرونز تباہ (روس کا دعویٰ) |
| اگست 04، 2026 | ڈرون حملہ | نامعلوم | 5 افراد ہلاک، 6 زخمی، صنعتی شہر چیخوف میں نقصان، گودام اور الیکٹرک سب اسٹیشن متاثر | 320 ڈرونز مار گرائے گئے (روس کا دعویٰ) |
| اگست 10، 2026 | ڈرون حملہ (تاتارستان) | نامعلوم | 12 افراد ہلاک، آئل ریفائنری کو نقصان | نامعلوم |
| جون 18، 2026 | ڈرون اور میزائل حملہ | 555 ڈرون (روسی وزارت دفاع) | ماسکو کی آئل ریفائنری میں آگ، شاپنگ سینٹر کو معمولی نقصان | 555 ڈرون گرائے گئے، 180 ماسکو کی طرف آنے والے مار گرائے گئے (روس کا دعویٰ) |
| مارچ 2025 | بڑا ڈرون حملہ | سینکڑوں (روسی حکام) | نامعلوم | 74 ڈرونز ماسکو کے قریب مار گرائے گئے |
روس کا فضائی دفاع اور جوابی کارروائیاں
یوکرین کی جانب سے ماسکو پر بڑھتے ہوئے حملوں کے جواب میں روس اپنے فضائی دفاعی نظام کو مسلسل متحرک رکھے ہوئے ہے اور جوابی کارروائیوں میں بھی تیزی لا رہا ہے۔ روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کا فضائی دفاعی نظام ان ڈرون حملوں کی اکثریت کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے بتایا کہ دارالحکومت کے قریب آنے والے کئی ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا، اور ملبہ گرنے والے مقامات پر ہنگامی ادارے فوری کارروائی کر رہے ہیں۔ تاہم، بعض حملوں میں ڈرونز اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس سے جانی و مالی نقصان ہوا۔
روس نے یوکرین کی سرزمین پر بھی اپنی جوابی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ یہ جوابی حملے عموماً یوکرین کے توانائی کے ڈھانچے، صنعتی تنصیبات، اور فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگست 2026 میں روس کی جانب سے یوکرین پر فضائی حملوں میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے تھے، جب یوکرین کے سب سے بڑے سٹیل پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق، وہ تازہ ترین حملوں کے دوران ملک بھر میں 822 یوکرینی ڈرونز مار گرا چکے ہیں۔ اسی طرح، اگست 2026 کے اوائل میں، روس نے کیف سمیت یوکرین کے مختلف علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جن میں وار ہیڈز تیار کرنے والے ادارے اور آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں یوکرین میں بھی متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے، اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ روس اور یوکرین دونوں ہی شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے حملوں کا ہدف صرف فوجی تنصیبات یا فوجی کارروائیوں سے منسلک مقامات ہوتے ہیں۔
اسٹریٹجک مضمرات اور نفسیاتی اثرات
ماسکو پر یوکرین کے بڑھتے ہوئے حملوں کے گہرے اسٹریٹجک اور نفسیاتی مضمرات ہیں۔ جنگ کے آغاز سے ہی یوکرین کا بنیادی مقصد اپنے دفاع کو مضبوط کرنا اور روسی حملوں کا مقابلہ کرنا تھا، لیکن اب یہ حکمت عملی بدل کر روسی سرزمین کو بھی ہدف بنانے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ دارالحکومت ماسکو پر حملہ کرنا، چاہے اس سے کتنا بھی محدود نقصان کیوں نہ ہو، ایک علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ حملہ اس بات کا مظہر ہے کہ یوکرین کے پاس اب ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جو اسے روسی سرزمین میں گہرائی تک پہنچنے اور اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے قابل بناتی ہیں۔
اسٹریٹجک نقطہ نظر سے، ان حملوں کا مقصد روسی جنگی مشینری پر دباؤ بڑھانا ہے۔ تیل کی ریفائنریوں اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنانے سے روس کی جنگی کوششوں کو ایندھن اور دیگر ضروری ساز و سامان کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ ماسکو میں آئل ریفائنریز کو نشانہ بنانا، جو دارالحکومت کی ایندھن کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں، روس کی توانائی کی سکیورٹی اور معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس کے علاوہ، ان حملوں کا ایک اہم نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ روسی عوام، جو اب تک جنگ کے براہ راست اثرات سے نسبتاً محفوظ تھے، اب اپنے دارالحکومت میں ہونے والے حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس سے ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے اور جنگ کے بارے میں ان کے تاثرات بدل سکتے ہیں۔ یوکرین کا مقصد شاید یہ ہے کہ روسی عوام پر دباؤ بڑھے تاکہ وہ اپنی حکومت پر جنگ ختم کرنے یا اس کی نوعیت کو تبدیل کرنے کے لیے اثر انداز ہوں۔ یہ حملے روسی مورال پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کوئی بھی علاقہ، حتیٰ کہ دارالحکومت بھی، حملوں سے محفوظ نہیں ہے۔ یہ جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہے ہیں جہاں یوکرین، اپنے محدود وسائل کے باوجود، روس کو اس کی اپنی سرزمین پر چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
عالمی رد عمل اور سفارتی کوششیں
یوکرین کی جانب سے ماسکو پر بڑھتے ہوئے حملوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی ہے، اور کئی ممالک نے اس صورتحال پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی برادری عمومی طور پر جنگ کو ختم کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے پر زور دے رہی ہے، لیکن دونوں فریقوں کی جانب سے حملوں میں شدت کے باعث یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو پا رہی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے یوکرین کو فضائی دفاعی نظام اور دیگر فوجی امداد فراہم کر کے اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے، تاکہ وہ روسی جارحیت کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکے۔ تاہم، مغربی ممالک یوکرین کو روس کے اندر گہرائی میں حملے کرنے کے لیے براہ راست حوصلہ افزائی نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔
ترکیہ جیسے ممالک، جو روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں، ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے اگست 2026 میں وارننگ دی تھی کہ اگر یہ تباہ کن جنگ مزید بڑھتی ہے تو روس اپنے پاس موجود “آخری راستے” کو استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ ان کے مطابق، روسی حکام کے ساتھ ان کی بات چیت میں بھی اس ممکنہ خطرے کا معاملہ سامنے آیا تھا، اور مغربی ممالک بھی اس خطرے سے واقف ہیں۔ جی 7 ممالک نے یوکرین کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور روس پر معاشی دباؤ بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، لیکن ساتھ ہی امن مذاکرات کی اہمیت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
جنگ کے دونوں فریق، روس اور یوکرین، ایک دوسرے پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہیں، لیکن دونوں ہی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے حملوں کا ہدف صرف فوجی تنصیبات یا فوجی کارروائیوں سے منسلک مقامات ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ شہریوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے جنگی جرائم کے ارتکاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جنگ کے آغاز کے حوالے سے مزید معلومات کے لیے، یوکرین پر روسی حملے 2022ء کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
نتیجہ: جنگ کا پھیلتا دائرہ اور غیر یقینی مستقبل
یوکرین کی جانب سے روسی دارالحکومت ماسکو پر بڑھتے ہوئے حملے، خاص طور پر حالیہ بڑے ڈرون حملے، روس-یوکرین جنگ میں ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ حملے، جن میں سیکڑوں ڈرونز کا استعمال کیا گیا اور اہم صنعتی و توانائی کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا، یوکرین کی صلاحیت میں اضافے اور اس کی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یوکرین اب نہ صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ جنگ کو روسی سرزمین تک لے جا کر کریملن پر نفسیاتی اور اسٹریٹجک دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کے علاوہ روسی عوام میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھ رہا ہے، جو بالآخر جنگ کے بارے میں ان کے تاثرات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، روس اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنا رہا ہے اور یوکرین کے اندر گہرائی میں جوابی حملوں میں تیزی لا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک میں ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی برادری ان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم فریقین کی جانب سے سخت مؤقف اور حملوں میں اضافہ جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو کم کر رہا ہے۔ جنگ کا یہ پھیلتا دائرہ نہ صرف روس اور یوکرین بلکہ پورے خطے کے لیے غیر یقینی مستقبل کا باعث بن رہا ہے، جہاں مزید کشیدگی اور غیر متوقع نتائج کا خدشہ موجود ہے۔ جب تک دونوں فریقوں کے پاس ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی فوجی صلاحیت موجود ہے، تنازع کے طول پکڑنے اور مزید پھیلنے کا امکان برقرار رہے گا۔
