امریکا پرانی فلم ہے ہم نمٹنا جانتے ہیں، یہ وہ کرارا جواب ہے جو ایران نے اپنی خود مختاری اور قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کو دیا ہے۔ حالیہ واقعات اور بیانات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایران اب کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں، بلکہ وہ اپنی دفاعی اور اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک نئی حکمت عملی کے تحت امریکہ کی دھمکیوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ امریکی پابندیوں کے مسلسل دباؤ کے باوجود، ایران کی قیادت پرعزم ہے کہ وہ ہر قسم کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور دشمن کو ایسا سبق سکھائے گی جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
ایران اور امریکہ: ایک طویل تاریخ کی تلخیاں
ایران اور امریکہ کے تعلقات کی کہانی دہائیوں پر محیط تلخیوں اور تنازعات سے بھری پڑی ہے، جس میں قربت کے چند ادوار کے بعد شدید دشمنی نے جگہ لے لی۔ یہ تعلقات 1951 سے لے کر آج تک مختلف سیاسی، معاشی اور عسکری موڑ سے گزرتے رہے ہیں، اور انہوں نے خطے اور دنیا کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
اس کشمکش کا آغاز 1953 میں ہوا جب امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں نے ‘آپریشن ایجیکس’ کے تحت ایران کے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ مصدق نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا اعلان کیا تھا، جسے امریکی اور برطانوی مفادات کے خلاف سمجھا گیا۔ اس بغاوت کے بعد شاہ ایران محمد رضا پہلوی کو دوبارہ مکمل اختیارات مل گئے، جس نے ایرانی قوم میں مغرب سے گہری بدگمانی کی بنیاد ڈالی۔
1979 کے اسلامی انقلاب نے ایران کا نقشہ یکسر بدل دیا، جب شاہ کی آمریت اور مغربی اثر و رسوخ کے خلاف عوامی بغاوت نے زور پکڑا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا، شاہ ملک چھوڑ کر فرار ہوئے، اور ایران میں ایک نئی نظریاتی ریاست قائم ہوئی۔ اس انقلاب کے بعد، ایران اور امریکہ کے تعلقات میں شدید تناؤ آ گیا اور امریکہ کو سرکاری طور پر “شیطانِ بزرگ” قرار دیا گیا۔ چار نومبر 1979 کو ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 52 امریکی شہریوں کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھا۔ اس واقعے کے بعد 7 اپریل 1980 کو امریکہ نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کر دیے اور ایرانی اثاثے منجمد کر دیے۔
تب سے، دونوں ممالک متعدد براہ راست محاذ آرائیوں، سفارتی واقعات اور مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگوں میں ملوث رہے ہیں، جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کو ‘بین الاقوامی بحران’ کہا جاتا ہے۔ امریکہ نے اکثر ایران پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے اور غیر قانونی طور پر جوہری پروگرام برقرار رکھنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ایران نے امریکہ پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اپنے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام لگایا ہے۔
امریکی دباؤ کی تاریخ اور ایرانی مزاحمت
امریکی دباؤ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی داستان۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے امریکہ نے ایران پر مختلف النوع پابندیاں عائد کی ہیں اور دباؤ کی پالیسی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنائے رکھا ہے۔ 1995 میں امریکی صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ نے امریکی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ لین دین سے روک دیا اور ایران کے آئل سیکٹر میں سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر دی۔ اگلے سال ایران، لیبیا پابندی کے بل کی منظوری دی گئی جس کے تحت غیر امریکی کمپنیوں کی ایرانی تیل اور گیس کے شعبوں میں 20 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری پر پابندی عائد کی گئی۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی صدر کے دستخطوں کو “ناقابلِ اعتماد” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ “غنڈہ گردی، بالادستی کی خواہش اور سخت رویہ امریکی طرزِ عمل کا حصہ بن چکا ہے”۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران دباؤ، دھمکیوں یا فوجی کارروائیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں اور اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ایران نے برسوں سے ممکنہ جنگ کو اپنی عسکری منصوبہ بندی کا حصہ بنا رکھا ہے۔ بھارتی فوجی ماہر لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلوں کے مطابق، ایران نے گزشتہ تقریباً 40 برسوں کے دوران اپنی جنگی حکمتِ عملی کو اس انداز میں تیار کیا کہ مرکزی قیادت کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود اس کا فوجی نظام مکمل طور پر مفلوج نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے اپنی دفاعی طاقت کو میزائلوں، ڈرونز، زیرِ زمین تنصیبات، منتشر کمانڈ سسٹم اور طویل فاصلے کی جوابی کارروائی کی صلاحیت میں تبدیل کیا ہے۔ ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق، 1979 کے انقلاب سے قبل ایران میں صرف 31 بنیادی دفاعی مصنوعات تیار کی جاتی تھیں، جبکہ اب ملک میں ایک ہزار سے زائد جدید دفاعی نظام، ہتھیار اور گولہ بارود تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ کئی سالوں سے عائد پابندیوں کے باوجود ایران ڈرون صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس کی میزائل قوت مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی اور طاقتور ہے۔ ایران نے حال ہی میں اپنی فوجی حکمت عملی کو دفاعی سے جارحانہ مرحلے میں داخل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کا اظہار حالیہ جنگ کے دوران تیز، وسیع اور بعض مواقع پر پیشگی کارروائیوں کی صورت میں ہوا۔
ایران کی علاقائی حکمت عملی اور اثرو رسوخ
ایران کی علاقائی حکمت عملی مشرق وسطیٰ میں اس کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کا ایک اہم محرک ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے، ایران نے ایک ایسی خارجہ پالیسی اپنائی ہے جو اسلامی انقلاب کو فروغ دیتے ہوئے غیر مسلم مغربی اثرات کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ اس نے اپنی “مزاحمتی محور” کی پالیسی کے ذریعے عراق، شام، لبنان اور یمن جیسے ممالک میں پراکسی قوتوں کی حمایت کی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
مولانا زاہد الراشدی، پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل، کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ایران ایک فریق ہے جو “دولتِ فاطمیہ” کے لیے برسرِ پیکار ہے اور عراق، شام، یمن، لبنان میں اس کی موجودگی اور کردار اس کے سنجیدہ ہونے کی واضح علامت ہے۔ اس صورتحال میں ایران نے خطے میں ایک آزاد، خود مختار اور مقامی سطح پر تشکیل دیے گئے سیکیورٹی نظام کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ بیرونی مداخلت کے بجائے علاقائی ممالک مل کر اپنے سیکیورٹی اور اقتصادی انتظامات سنبھال سکیں۔
جوہری پروگرام اور عالمی ردعمل: ایران کا دوٹوک مؤقف
ایران کا جوہری پروگرام عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ زیر نگرانی جوہری پروگراموں میں سے ایک ہے۔ 1950 کی دہائی میں پہلوی دور حکومت میں امریکہ کے تعاون سے شروع ہونے والا یہ پروگرام 1979 کے انقلاب کے بعد معطل ہو گیا، لیکن 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران اسے خفیہ طور پر دوبارہ شروع کیا گیا۔
2015 میں، ایران نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ (جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن – JCPOA) کیا، جس کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو ختم کرنا تھا۔ تاہم، 2018 میں امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔
جون 2025 میں، عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (IAEA) نے بیس سال بعد پہلی بار ایران کو اس کے جوہری وعدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔ IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے یہ پریشان کن اطلاع دی کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر رہا اور اس کی جوہری تنصیبات پر 400 کلوگرام سے زیادہ انتہائی افزودہ یورینیم کی موجودگی پر بھی خدشات ظاہر کیے۔ ایران نے اس کے جواب میں ایک نیا افزودگی مرکز قائم کیا اور جدید سینٹری فیوج مشینیں نصب کر دیں۔
ایران کا دوٹوک مؤقف یہ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام محض پرامن مقاصد، جیسے توانائی کی پیداوار اور طبی مسائل کے لیے ہے، اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایران کی سرگرمیاں، بشمول 60 فیصد خالص یورینیم افزودہ کرنا جو ہتھیاروں کے درجے کے قریب ہے، کسی بھی پرامن شہری مقصد سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ تخمینوں کے مطابق ایران ایک ہفتے میں اتنی افزودہ یورینیم پیدا کر سکتا ہے جو ایک جوہری بم کے لیے کافی ہو اور ایک ماہ میں سات بموں کے لیے، جس نے اس کے “بریک آؤٹ ٹائم” کو خطرناک حد تک کم کر دیا ہے۔
امریکی پابندیاں اور ایران کے جوابی اقدامات
امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ 21 اگست 2026 کو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے تہران کے خلاف “تاریخ کی سخت ترین معاشی ناکہ بندیوں” کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ اب ایران پر دباؤ کو اس حد تک بڑھا رہا ہے جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایرانی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے اور امریکہ آبنائے ہرمز اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم راستوں پر مکمل کنٹرول استعمال کرے گا۔ امریکی وزیر خزانہ نے چین سمیت دیگر ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم میں ساتھ دیں۔
ایران نے ان پابندیوں کو “معاشی دہشت گردی” اور “انسانیت کے خلاف جرائم” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے یہ تازہ اقدامات ایرانی عوام کے خلاف امریکی پالیسی میں تیہتر سالہ دشمنی کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی ملک غیر ملکی اداروں کو کسی تیسرے ملک سے تجارت کرنے سے نہیں روک سکتا اور امریکی اقدام اقوام متحدہ کے ہر آزاد رکن ملک پر ماورائے علاقائی خودمختاری مسلط کرنے کا دعویٰ ہے۔
ایران پر امریکی پابندیوں کا مختصر جائزہ (2018 – 2026)
| سال | اہم واقعہ / پابندی | ایرانی ردعمل / اثرات |
|---|---|---|
| 2018 | امریکی صدر ٹرمپ کا جوہری معاہدے (JCPOA) سے علیحدگی کا اعلان اور دوبارہ پابندیاں عائد کرنا۔ | ایران نے یورپی ممالک سے معاہدے پر قائم رہنے کا مطالبہ کیا، یورینیم افزودگی کی حدود کو عبور کرنا شروع کیا۔ |
| 2019-2021 | “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم، تیل کی برآمدات، بینکنگ اور اسٹیل سیکٹرز پر سخت ترین پابندیاں۔ | ایران کی معیشت شدید متاثر، کرنسی کی قدر میں کمی، لیکن مقامی پیداوار پر زور۔ |
| 2025 | IAEA کی جانب سے جوہری وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام۔ | ایران نے مزید افزودگی مراکز قائم کیے اور جدید سینٹری فیوج مشینیں نصب کیں۔ |
| اوائل 2026 | امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی و سمندری حملے۔ | ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی و اتحادی تنصیبات پر جوابی میزائل حملے۔ |
| اگست 2026 | امریکی وزیر خزانہ کی جانب سے ایران کے خلاف “تاریخ کی سخت ترین معاشی ناکہ بندیوں” کا اعلان۔ | ایران نے امریکی پالیسیوں کو “ناکام” قرار دیا اور کہا کہ وہ دباؤ میں نہیں آئے گا۔ |
امریکی پابندیاں اور ناکہ بندی ایران کا کچھ نہ بگاڑ سکی ہے، ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان پابندیوں کے باوجود ایران نے اربوں ڈالر کمائے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کو نظرانداز کرتے ہوئے لاکھوں بیرل تیل فروخت کیا ہے اور گزشتہ ایک یا دو ماہ میں 70 ملین بیرل تیل فروخت کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے دیگر ممالک کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ کی اقتصادی جنگ میں شامل نہ ہوں، بصورت دیگر ایران انہیں دشمن تصور کرے گا اور ان کے مفادات کو براہ راست نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے امریکی پالیسیوں کو ناکام قرار دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2012 میں بھی امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیوں کو “تاریخ کی سب سے تباہ کن پابندیاں” قرار دیا تھا لیکن وہ بھی ناکام ثابت ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکمت عملی میں الفاظ اور چہرے تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکانے کی کوشش نئی نہیں اور یہ قوم کی سرشت میں نہیں ہے۔
اقتصادی چیلنجز اور اندرونی استحکام: ایران کی لچک
ایران کی معیشت ہائیڈروکاربن، زرعی اور سروس سیکٹرز کے علاوہ مینوفیکچرنگ اور مالی خدمات پر مشتمل ہے، جس میں تہران اسٹاک ایکسچینج میں براہ راست شامل 40 سے زائد صنعتیں ہیں۔ دنیا کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا 10 فیصد اور گیس کے ذخائر کا 15 فیصد کے ساتھ، ایران کو “توانائی کی سپر پاور” سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، امریکہ کی مسلسل پابندیوں نے ایرانی معیشت کو گہرے چیلنجز سے دوچار کیا ہے۔
چیلنجز میں پابندیوں کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ، مہنگائی، “مزید کمزور اور کم سرمایہ” بینکنگ نظام اور ایک “کمزور” نجی شعبہ شامل ہیں۔ ایران کی کرنسی (ایرانی ریال) کی قدر میں کمی آئی ہے اور ایران کا “اقتصادی آزادی” اور “کاروبار کرنے میں آسانی” میں نسبتاً کم درجہ ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 21 اگست 2026 کو دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت 300 فیصد مہنگائی اور کمزور کرنسی کا سامنا کر رہا ہے اور اس کی فوج کو تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اس کے باوجود، ایران نے ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرونی استحکام اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت پوری قوت و اقتدار کے ساتھ پابندیوں کا مقابلہ کرے گی اور ملک کے اقتصادی حالات اور کرنسی کی پوزیشن بہت بہتر ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بنیادی اشیاء کی فراہمی میں کسی قسم کی مشکل نہیں ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایران کو اس وقت معاشی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم ملک پائیدار حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام تر چیلنجز کے باوجود عوامی فلاح اور سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بیرونی دباؤ اور معاشی چیلنجز کے باوجود ملکی استحکام کو برقرارا رکھا گیا ہے۔
یہ داخلی پالیسیاں اور لچک ہی ہے جو ایران کو امریکہ کے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم کا مقابلہ کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ ایرانی حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور وہ بیرونی دباؤ یا دھمکیوں کے تحت اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ عزم ایکسپریس اردو کی رپورٹ میں بھی واضح ہوتا ہے، جہاں ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا کہ امریکی پابندیاں اور ناکہ بندی ایران کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔
مستقبل کی راہ: کشیدگی کا ممکنہ انجام اور ایران کا کردار
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا ممکنہ انجام کیا ہوگا، یہ ایک ایسا سوال ہے جو عالمی مبصرین اور پالیسی سازوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ دونوں فریق اپنی پوزیشنوں پر سختی سے قائم ہیں اور لچک کا مظاہرہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی 107 روزہ خونریز جنگ اور شدید فوجی کشیدگی کے بعد بالآخر ایک عبوری فریم ورک امن معاہدہ طے پایا تھا، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کیا تھا۔ تاہم، یہ امن معاہدہ بھی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوسکا اور جنگ بندی کے چند روز بعد ہی شدید اختلافات کا شکار ہو گیا۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح طور پر کہا ہے کہ “ایک بار پھر دنیا پر واضح ہو گیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط قابلِ اعتماد نہیں رہے”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ خطے میں جنگ کو ہوا دے رہا ہے اور ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے بارہا زور دیا ہے کہ دشمن جنگ شروع کرنے کے تو قابل ہو سکتے ہیں لیکن اسے ختم وہ نہیں بلکہ ایران کرے گا۔
ایران کی طویل مدتی حکمت عملی خطے میں ایک آزاد، خود مختار اور مقامی سطح پر تشکیل دیے گئے سیکیورٹی نظام کے قیام پر مرکوز ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ نے اپنی دھونس اور دباؤ کی پالیسی اور اسرائیل کے مفادات کی خاطر اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات انہیں اپنی بقا بھی خطرے میں محسوس ہونے لگی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کو اپنے ہمسایہ ممالک کی جانب سے نئے علاقائی سیکیورٹی انتظامات اور اقتصادی تعاون تشکیل دینے سے متعلق متعدد پیغامات موصول ہوئے ہیں، کیونکہ ان کے بقول مقامی سطح پر تشکیل دیا گیا ایک آزاد اور خودمختار نظام ہی حقیقی معنوں میں خطے میں امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر ایران کا جواب آیا ہے، جس میں کچھ شقیں ایران کے لیے “ناقابل قبول” تھیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی بند کرے، آبنائے ہرمز کھولے اور اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم ہوں، جبکہ ایران جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی دشمن کو واضح پیغام دیا کہ شہدا کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، آبنائے ہرمز کو بند رہنا چاہیے اور مشرق وسطیٰ سے امریکی اڈے بند کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ اڈے بند نہ ہوئے تو حملے جاری رہیں گے۔ یہ بیانات ایران کے مستقبل کے کردار اور خطے میں امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کی پیچیدگی کو واضح کرتے ہیں۔
نتیجہ
“امریکا پرانی فلم ہے ہم نمٹنا جانتے ہیں، ایران کا کرارا جواب” یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایران کی اس دہائیوں پرانی پالیسی کا نچوڑ ہے جس میں اس نے عالمی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ کے دباؤ کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا۔ 1953 کی بغاوت سے لے کر 1979 کے انقلاب اور حالیہ فوجی کشیدگیوں تک، ایران نے اپنی خود مختاری کا دفاع کرنے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ امریکی پابندیوں کی شدید ترین لہروں کے باوجود، ایران نے اپنی اقتصادی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے اور خطے میں اپنا اثرو رسوخ برقرار رکھا ہے۔ اس کی فوجی حکمت عملی میں آنے والی تبدیلیاں اور مقامی طور پر دفاعی سازوسامان کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایران کا مؤقف واضح ہے: وہ دباؤ یا دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک خود مختار اور علاقائی سیکیورٹی نظام کے قیام کا خواہاں ہے۔ یہ نڈر مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ ایران امریکہ کی “پرانی فلم” کو دہرانے کے بجائے ایک نئے باب کا آغاز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
