نیمل خاور عباسی، جو کہ پاکستان کی معروف اداکارہ اور سماجی شخصیت ہیں، نے خواتین کے جسم اور وزن پر ہونے والی بے جا تنقید کو سخت جواب دیا ہے۔ حال ہی میں جب ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو صارفین نے ان کی ظاہری شخصیت اور وزن کے حوالے سے غیر ضروری تبصرے کرنا شروع کر دیے۔ نیمل خاور نے اس رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی عورت کے جسم کو عوامی گفتگو یا تنقید کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ ان کا یہ موقف نہ صرف انفرادی وقار کا دفاع ہے بلکہ یہ ایک وسیع سماجی مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جسے “باڈی شیمنگ” کہا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں، جہاں خواتین کو اکثر ان کی جسمانی ساخت کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے، نیمل خاور کا یہ کرارا جواب ہزاروں خواتین کی آواز بن کر ابھرا ہے جو روزانہ ایسی تنقید کا سامنا کرتی ہیں۔ یہ مضمون نیمل خاور عباسی کے موقف کا گہرائی سے جائزہ لے گا، باڈی شیمنگ کے سماجی اثرات، خواتین میں جسمانی تبدیلیوں کی فطرتی وجوہات اور اس سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں، ان سب پر تفصیلی روشنی ڈالے گا۔
سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان اور نیمل کا پختہ موقف
گزشتہ دنوں، حمزہ علی عباسی کے ہمراہ ناروے کے شہر اوسلو میں ایک شادی کی تقریب میں نیمل خاور عباسی کی شرکت کی تصاویر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئیں۔ ان تصاویر کے سامنے آتے ہی، سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ان کی ظاہری شخصیت اور وزن کے حوالے سے مختلف تبصرے شروع ہو گئے۔ بعض صارفین نے ان کی انسٹاگرام تصاویر اور تقریب میں نظر آنے والی شخصیت میں فرق محسوس کیا، جبکہ کچھ نے ان کے وزن میں اضافے پر بھی بات کی۔ یہ تبصرے اکثر غیر مہذب اور غیر ضروری تھے، جس سے باڈی شیمنگ کا رجحان ایک بار پھر نمایاں ہوا۔
اس بے جا تنقید کے رد عمل میں، نیمل خاور نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ لوگ خواتین کے جسم کے بارے میں تبصرے کرتے ہوئے کسی جھجک کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ “وزن میں کمی یا اضافہ ایک قدرتی عمل ہے اور وقت کے ساتھ ہر انسان کی ظاہری شخصیت میں تبدیلی آتی رہتی ہے، خاص طور پر ماں بننے کے بعد خواتین کے جسم میں کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جنہیں باہر سے دیکھنے والا مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا”۔ نیمل خاور نے یہ بھی زور دیا کہ عمر، ہارمونز، ذہنی دباؤ، صحت، طرزِ زندگی، اور حمل جیسے مختلف عوامل خواتین کے جسم میں تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی وجہ لوگوں کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ کسی خاتون کے جسم یا وزن کو سرِعام تنقید کا نشانہ بنائیں۔
انہوں نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے ایک نہایت اہم پیغام دیا: “مجھے اپنے جسم میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں پر کسی کو وضاحت دینے کی ضرورت نہیں، اگر کسی خاتون کا جسم پانچ سال، ایک سال یا حتیٰ کہ ایک ماہ پہلے جیسا نہیں رہا تو یہ فطری عمل ہے اور اسے دوسروں کے لیے تفریح یا گفتگو کا موضوع نہیں بنانا چاہیے”۔ یہ بیان نہ صرف باڈی شیمنگ کی مذمت کرتا ہے بلکہ خواتین کو اپنی ذات پر اعتماد رکھنے اور دوسروں کی منفی آراء کو نظر انداز کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔
خواتین کے جسمانی تبدیلیوں کی فطرتی وجوہات
نیمل خاور عباسی نے اپنے پیغام میں خواتین کے جسم میں ہونے والی فطرتی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی جو کہ باڈی شیمنگ کے خلاف ان کے موقف کی بنیاد ہیں۔ خواتین کی زندگی میں ایسے کئی مراحل آتے ہیں جہاں ان کے جسم میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، اور یہ ایک عام حیاتیاتی عمل ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔
- حمل اور زچگی کے بعد کی تبدیلیاں: ماں بننے کا عمل خواتین کے جسم میں بہت سی تبدیلیاں لاتا ہے۔ حمل کے دوران وزن کا بڑھنا اور زچگی کے بعد اس کا آہستہ آہستہ کم ہونا ایک قدرتی بات ہے۔ جسم کو حمل کے بعد اپنی پہلی حالت میں آنے میں وقت لگتا ہے، اور یہ ہر عورت کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ اس دوران ہونے والی جسمانی تبدیلیوں پر تنقید کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ نئی ماؤں کے لیے ذہنی دباؤ کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
- ہارمونل تبدیلیاں: خواتین کے جسم میں ہارمونز ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہواری کے دوران، حمل کے دوران، اور رجونورتی (مینوپاز) کے دوران ہارمونز کی سطح میں اتار چڑھاؤ آتا ہے جو وزن، جلد اور موڈ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ Polycystic Ovarian Syndrome (PCOS) جیسی حالتیں بھی ہارمونل عدم توازن کا سبب بنتی ہیں جس کے نتیجے میں وزن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تھائیرائیڈ کے مسائل (Hypothyroidism) بھی میٹابولزم کو متاثر کر کے وزن بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
- عمر کا بڑھنا: جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، انسان کے جسم کا میٹابولزم سست ہوتا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وزن کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے۔ جلد کی لچک میں کمی، بالوں میں سفیدی، اور جسمانی ساخت میں تبدیلی عمر کے ساتھ آنے والے فطرتی عمل ہیں جنہیں قبول کرنا چاہیے۔
- طرزِ زندگی اور صحت کے مسائل: ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، اور بعض طبی حالات جیسے Cushing’s syndrome بھی وزن میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ادویات کے استعمال سے بھی بعض اوقات وزن پر اثر پڑتا ہے۔ ایک صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے باوجود بھی کچھ افراد جینیاتی یا طبی وجوہات کی بنا پر ایک خاص جسمانی ساخت رکھتے ہیں۔
ان تمام وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خواتین کے جسمانی وزن اور ساخت میں تبدیلی ایک پیچیدہ اور فطرتی عمل ہے جس پر محض تنقید کرنا کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے۔
باڈی شیمنگ: ایک سماجی بیماری اور اس کے نقصانات
باڈی شیمنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی شخص کے جسمانی خدوخال، وزن، قد، رنگ یا کسی بھی جسمانی “خامی” کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا اس پر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ عمل پاکستان سمیت دنیا بھر کے معاشروں میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کی جعلی دنیا بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق، باڈی شیمنگ ایک سنگین مسئلہ ہے جو افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔
- ذہنی صحت پر اثرات: باڈی شیمنگ کا شکار افراد میں کم خود اعتمادی، ڈپریشن، اضطراب، اور کھانے کی خرابی (eating disorders) جیسے مسائل عام ہیں۔ بار بار کی تنقید انہیں اپنی ذات سے نفرت پر مجبور کر سکتی ہے اور وہ سماجی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات، یہ اتنا شدید ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنی جان لینے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔
- سماجی دباؤ اور تعلقات: پاکستانی معاشرے میں، خاص طور پر خواتین کو، رشتوں کے لیے ان کی ظاہری شکل و صورت کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ “موٹی” یا “پتلی” ہونے کے طعنے رشتے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، جس سے خواتین کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ نہ صرف ذاتی تعلقات کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے۔
- جسمانی صحت پر اثرات: باڈی شیمنگ کے نتیجے میں لوگ بعض اوقات غیر صحت مندانہ طریقے سے وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کی صحت مزید بگڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ذہنی دباؤ جسمانی بیماریوں کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
- سوشل میڈیا کا کردار: سوشل میڈیا نے باڈی شیمنگ کو ایک نئی جہت دی ہے۔ فلٹرز اور ایڈیٹ شدہ تصاویر ایک غیر حقیقی خوبصورتی کے معیار قائم کرتی ہیں، جس سے لوگ اپنی اصلی شکل کا موازنہ کرتے ہوئے احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مشہور شخصیات، جنہیں عوام کی نظروں میں رہنا ہوتا ہے، اس کا سب سے زیادہ شکار ہوتی ہیں، جیسا کہ نیمل خاور عباسی کے ساتھ ہوا।
ماضی کے واقعات اور کاسمیٹک سرجری کی افواہیں
نیمل خاور عباسی کو جسمانی ساخت اور ظاہری شخصیت پر تنقید کا سامنا صرف حال ہی میں نہیں ہوا، بلکہ اس سے قبل بھی وہ ایسی صورتحال سے گزر چکی ہیں۔ جون 2023 میں، نیمل خاور کی نئی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو صارفین نے ان کے چہرے کے خدوخال میں نمایاں تبدیلی اور فرق دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی تھی کہ نیمل خاور نے کاسمیٹک سرجری کروائی ہے اور بعض صارفین نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ انہوں نے اپنی قدرتی خوبصورتی کو خراب کر دیا ہے۔
اس وقت یہ افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ یہ مبینہ سرجری ان کی نند فضیلہ عباسی نے کی ہے، جو کہ ایک ڈرماٹولوجسٹ ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی تھی۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ “یہ سوشل میڈیا پر کی جانے والی تنقید اور قیاس آرائیاں بلا جواز اور مکمل طور پر غیر ضروری ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “یہ واقعی افسوسناک ہے کہ کس طرح بے بنیاد اور غلط مفروضے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگیوں پر حملہ کرنے کے لیے پھیلائے جاتے ہیں”۔
اس وقت بھی حمزہ علی عباسی نے اپنی اہلیہ کی حوصلہ افزائی کی تھی اور ان کی شیئر کی گئی ویڈیو پر محبت پر مبنی ایموجیز کے ساتھ کمنٹ کیا تھا۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مشہور شخصیات کو کس طرح عوامی تنقید اور قیاس آرائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کس طرح ان کی ذاتی زندگی کو سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ نیمل خاور کا حالیہ جواب اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ انہیں اپنی جسمانی تبدیلیوں یا انتخاب پر کسی کو وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
صحت اور وزن: تنقید یا فلاحی تشویش میں فرق
باڈی شیمنگ اور کسی کی صحت کے بارے میں حقیقی فلاحی تشویش میں واضح فرق ہوتا ہے، لیکن اکثر اوقات لوگ ان دونوں کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ نیمل خاور عباسی جیسے معاملات میں، جہاں عوامی شخصیات کو ان کے جسمانی وزن پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ فرق سمجھنا انتہائی اہم ہے۔
| پہلو | باڈی شیمنگ | فلاحی تشویش (صحت سے متعلق) |
|---|---|---|
| مقصد | شخص کو شرمندہ کرنا، مذاق اڑانا، یا اس کی توہین کرنا۔ | شخص کی صحت اور فلاح و بہبود کے بارے میں حقیقی فکر کا اظہار۔ |
| انداز | اکثر عوامی، غیر حساس، ذاتی اور غیر مطلوبہ تبصرے۔ | نجی، ہمدردانہ، مددگار اور باخبر گفتگو۔ |
| اثرات | ذہنی دباؤ، خود اعتمادی میں کمی، اضطراب، کھانے کی عادات میں خرابی۔ | شخص کو اپنی صحت بہتر بنانے کی ترغیب، سپورٹ اور حل کی طرف رہنمائی۔ |
| تناظر | جسمانی شکل پر توجہ مرکوز کرنا۔ | صحت کے ممکنہ خطرات اور ان کے حل پر توجہ۔ |
یہاں یہ بات اہم ہے کہ موٹاپا یا کم وزن ہونا صحت کے کچھ خطرات سے وابستہ ہو سکتا ہے، جیسے دل کی بیماریاں، ذیابیطس، اور جوڑوں کے مسائل۔ تاہم، کسی کو “موٹا” کہہ کر یا اس کے وزن پر عوامی تنقید کر کے یہ مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ حقیقی تشویش کا اظہار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک مددگار اور نجی ماحول میں بات کی جائے، اور پیشہ ورانہ مشورے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
نیمل خاور عباسی کے معاملے میں، زیادہ تر تبصرے تنقیدی اور غیر فلاحی نوعیت کے تھے، جن کا مقصد صحت کی بہتری نہیں بلکہ شرمندہ کرنا تھا۔ یہ باڈی شیمنگ کی واضح مثال ہے، جو کہ اسلامی اقدار اور اخلاقیات کے بھی خلاف ہے۔ ماہرین نفسیات بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تنقید سے بہتر ہے کہ مثبت رویہ اپنایا جائے اور دوسروں کے احساسات کا احترام کیا جائے۔
پاکستانی معاشرے میں باڈی شیمنگ کے گہرے اثرات
پاکستانی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں جسمانی خوبصورتی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ یہ رجحان باڈی شیمنگ کو تقویت دیتا ہے اور اس کے گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
- شادی کے رشتوں میں رکاوٹیں: خواتین کو اکثر ان کی ظاہری شکل، رنگ، اور وزن کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے جب رشتہ دیکھا جاتا ہے۔ “ماڈل جیسی بہو” کی تلاش میں اکثر ایسی لڑکیوں کو مسترد کر دیا جاتا ہے جو صحت مند اور خود اعتماد ہوتی ہیں لیکن سماجی معیارات پر پوری نہیں اترتیں۔ یہ لڑکیوں میں شدید احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے اور انہیں غیر فطری طریقوں سے خود کو بدلنے پر مجبور کرتا ہے۔
- خود اعتمادی میں کمی: بچپن سے ہی وزن یا رنگ پر ہونے والے طعنے لڑکیوں اور لڑکوں دونوں میں خود اعتمادی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ یہ انہیں شرمیلا بنا دیتا ہے اور وہ سماجی محفلوں میں شرکت سے کتراتے ہیں۔ کئی افراد اپنی شخصیت کی دیگر خوبیوں کو نظر انداز کر کے صرف اپنی ظاہری شکل پر ہی پریشان رہتے ہیں۔
- سوشل میڈیا کا منفی کردار: سوشل میڈیا، جہاں فلٹرز اور ایڈیٹ شدہ تصاویر ایک غیر حقیقی خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہیں، اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ لوگ ان تصاویر سے اپنی شکل و صورت کا موازنہ کرتے ہیں اور خود کو کمتر محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک شیطانی چکر بن جاتا ہے جہاں افراد خود کو مسلسل پرکھتے اور ناپسند کرتے ہیں۔
- خواتین پر غیر متناسب اثرات: اگرچہ باڈی شیمنگ مردوں اور عورتوں دونوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن پاکستان میں خواتین کو اس کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حمل کے بعد، ہارمونل تبدیلیوں، یا عمر بڑھنے کے ساتھ ان کے جسم میں آنے والی تبدیلیاں عوامی تنقید کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہ نہ صرف ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ انہیں معاشرتی دباؤ میں زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے۔
- صحت کے غلط تصورات: بعض اوقات، صحت مند ہونے کے بجائے “پتلا” ہونے کو ترجیح دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ غیر صحت بخش طریقوں سے وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف جسمانی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ کھانے کی خرابیوں کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے، جیو نیوز کی ایک رپورٹ میں پاکستانی معاشرے میں باڈی شیمنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے اثرات پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔
مشہور شخصیات کی ذمہ داری اور کردار
مشہور شخصیات، جیسے کہ نیمل خاور عباسی، کا معاشرے پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ان کے اقدامات اور بیانات عوام میں نئے رجحانات کو فروغ دے سکتے ہیں اور سماجی مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کر سکتے ہیں۔ باڈی شیمنگ کے خلاف نیمل خاور کا واضح موقف اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔
- آواز اٹھانے کی طاقت: جب کوئی مشہور شخصیت باڈی شیمنگ جیسے حساس موضوع پر بات کرتی ہے تو اس سے ان ہزاروں افراد کو حوصلہ ملتا ہے جو روزانہ اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن اپنی آواز بلند نہیں کر پاتے۔ نیمل خاور کے بیان نے یہ ثابت کیا کہ جسمانی تبدیلیوں پر تنقید کو خاموشی سے برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔
- مثبت باڈی امیج کا فروغ: مشہور شخصیات اپنے پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے مثبت باڈی امیج اور خود اعتمادی کو فروغ دے سکتی ہیں۔ وہ یہ پیغام دے سکتی ہیں کہ خوبصورتی کا کوئی ایک معیار نہیں ہوتا اور ہر شخص اپنی ذات میں منفرد اور خوبصورت ہے۔
- سماجی آگاہی: ان کی جانب سے باڈی شیمنگ کے خلاف بات کرنے سے عوام میں اس مسئلے کی سنگینی کے بارے میں آگاہی پیدا ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ان کے تبصرے دوسروں پر کیا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
- مثبت رول ماڈلنگ: جب ایک عوامی شخصیت اپنی جسمانی تبدیلیوں کو فخر سے قبول کرتی ہے اور دوسروں کی تنقید کا جواب پختگی سے دیتی ہے تو یہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک رول ماڈل بن جاتی ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے جو میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات سے متاثر ہوتے ہیں۔
- سرحدیں متعین کرنا: نیمل خاور کا بیان ایک قسم کی “سرحدیں متعین” کرنے کی بھی مثال ہے، جہاں انہوں نے واضح کر دیا کہ ان کی ذاتی زندگی اور جسمانی ساخت عوامی بحث کا موضوع نہیں ہے۔ یہ دوسروں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر شخص کی نجی حدود کا احترام کیا جانا چاہیے۔
اس طرح، مشہور شخصیات صرف تفریح فراہم کرنے والے نہیں ہوتے بلکہ وہ سماجی تبدیلی کے محرک بھی بن سکتے ہیں۔ نیمل خاور عباسی کا یہ اقدام باڈی شیمنگ کے خلاف جاری عالمی جدوجہد میں ایک قابل تحسین اضافہ ہے۔
نتیجہ: خود اعتمادی اور باہمی احترام کا فروغ
نیمل خاور عباسی کا خواتین کے جسم اور وزن پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب باڈی شیمنگ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، اور پاکستانی معاشرہ بھی اس سے بری طرح متاثر ہے۔ ان کا یہ جرات مندانہ موقف نہ صرف ان کی اپنی ذات کا دفاع ہے بلکہ یہ ان تمام خواتین کی آواز بھی ہے جو روزانہ ایسی بے جا تنقید کا سامنا کرتی ہیں۔
یہ واضح ہے کہ خواتین کے جسم میں عمر، ہارمونز، صحت، طرزِ زندگی، اور حمل جیسے عوامل کی وجہ سے فطرتی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، اور ان تبدیلیوں پر عوامی سطح پر تنقید کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ یہ متاثرہ شخص کی ذہنی صحت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ باڈی شیمنگ خود اعتمادی میں کمی، ڈپریشن، اور سماجی تعلقات میں بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔
اس سماجی بیماری سے نمٹنے کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی جسمانی ساخت پر تبصرہ کرنے کی بجائے ان کی شخصیت، صلاحیتوں اور اخلاق کو اہمیت دیں۔ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جائے اور غیر حقیقی خوبصورتی کے معیارات کو چیلنج کیا جائے۔ مشہور شخصیات کا کردار اس سلسلے میں بہت اہم ہے کہ وہ مثبت باڈی امیج کو فروغ دیں اور اپنے پلیٹ فارمز کو سماجی آگاہی کے لیے استعمال کریں۔
بالآخر، ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں ہر فرد کو اس کی جسمانی ساخت سے قطع نظر، احترام اور وقار کے ساتھ قبول کیا جائے، اور جہاں خود اعتمادی اور باہمی احترام کی اقدار کو فروغ دیا جائے۔ نیمل خاور عباسی کا پیغام ایک یاد دہانی ہے کہ ہر عورت کو اپنے جسم کا مالک ہونے کا حق ہے اور اسے کسی کو اپنے جسمانی وجود کے لیے وضاحت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
