مقبول خبریں

سنسنی خیزی اور فیک نیوز میں بھارتی میڈیا سب سے آگے، امریکی سفیر کی بھارتی میڈیا پر سخت تنقید

سنسنی خیزی اور فیک نیوز آج کے دور میں دنیا بھر کے میڈیا کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہیں، لیکن حالیہ واقعات اور بین الاقوامی رپورٹس سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ بھارتی میڈیا اس میدان میں سب سے آگے نکل چکا ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ خود امریکی سفیر کو بھارتی میڈیا پر سخت تنقید کرنا پڑی ہے۔ امریکی سفیر سرجیو گور نے بھارتی میڈیا میں سنسنی خیزی اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے رجحان کو شدید الفاظ میں ہدفِ تنقید بنایا، جس سے عالمی سطح پر بھارتی میڈیا کی ساکھ پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ اس تنقید نے نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ عالمی برادری میں بھی اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا بھارتی میڈیا اب صحافتی اصولوں اور اخلاقیات سے مکمل طور پر روگردانی کر چکا ہے۔

سنسنی خیزی اور فیک نیوز کا بڑھتا ہوا رجحان: ایک عالمی مسئلہ

ڈیجیٹل دور میں معلومات کی فراوانی کے ساتھ ساتھ غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ بھی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر ملک میں میڈیا کو اس چیلنج کا سامنا ہے کہ وہ کیسے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو برقرار رکھے جب کہ ریٹنگز کی دوڑ اور سیاسی دباؤ مسلسل موجود ہو۔ تاہم، بھارتی میڈیا میں یہ رجحان خاص طور پر نمایاں ہو چکا ہے، جہاں سنسنی خیزی اور حقیقت سے بعید دعوے اب عام بات بن چکے ہیں۔ اس سے عوام میں نہ صرف گمراہی پھیلتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ملک کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ بھارتی میڈیا کی یہ روش کئی سالوں سے زیر بحث ہے، لیکن حالیہ دنوں میں امریکی سفیر کی براہ راست تنقید نے اس مسئلے کو ایک نئی شدت عطا کی ہے۔

فیک نیوز کا پھیلاؤ ایک منظم طریقے سے کیا جاتا ہے، اور اس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا کردار بھی نمایاں ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق، جھوٹی خبریں پھیلانے کے لیے “مبوٹس” (خودکار اکاؤنٹس) اور “جعلی پروفائلز” کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بوٹس ہزاروں بار ایک ہی خبر کو شیئر کرتے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ خبر حقیقی ہے، اور چونکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا الگورتھم ایسی خبروں کو ترجیح دیتا ہے جو زیادہ مقبول ہو رہی ہوں، چاہے وہ جھوٹی ہی کیوں نہ ہوں، فیک نیوز تیزی سے وائرل ہو جاتی ہے۔ 2021 میں “کیو ایمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل” نے یہ ثابت کیا کہ کیسے ڈیٹا کا غلط استعمال کر کے صارفین کے جذبات کو ہیرا پھیرا جا سکتا ہے۔ آج کل “ڈیپ فیک ویڈیوز” اور “اے آئی جنریٹڈ نیوز” نے فیک نیوز کو ایک نئے خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے۔

بھارتی میڈیا پر امریکی سفیر کی کڑی تنقید: حقائق کیا ہیں؟

25 اگست 2026 کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بھارتی میڈیا پر انتہائی سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا میں سنسنی خیزی کی انتہا ہے، اور خبر، تجزیے اور حقیقت کا فرق مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ امریکی سفیر نے بھارتی ٹاک شوز کی صورتحال کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ شام 6 بجے 8 افراد اور رات 10 بجے 12 افراد بیک وقت چیختے ہیں، جس سے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ نیوز شو ہے یا محض شور شرابا۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ مہمانوں کو مداخلت اور روکنے کے باوجود مسلسل چیخنے کی تربیت کہاں سے ملتی ہے۔

سرجیو گور نے مزید کہا کہ وہ امریکہ میں فیک نیوز کو ایک بڑا مسئلہ سمجھتے تھے، لیکن بھارتی میڈیا تو اس معاملے میں سب سے آگے نکل گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے امریکی سفیر کے ان تبصروں کو بھارتی ذرائع ابلاغ میں گمراہ کن رپورٹنگ اور فیک نیوز کے بڑھتے رجحان کا بے نقاب کرنا قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، امریکی بیانیے، سنسنی خیزی اور غیر مصدقہ دعوؤں سے بھارتی میڈیا اپنی عالمی ساکھ مسلسل کھو رہا ہے۔ یہ تنقید اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت کا میڈیا صرف حکومتی بیانیے اور سیاسی پروپیگنڈا کا ذریعہ بن چکا ہے، جس سے اس کی پیشہ ورانہ اخلاقیات اور آزادی شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ صورتحال بھارت میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے تاثر کو مزید تقویت دیتی ہے جہاں ذرائع ابلاغ پر حکومتی اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا میں سنسنی خیزی کی انتہا: “نیوز شو ہے یا شور شرابا؟”

بھارتی میڈیا میں سنسنی خیزی کا رجحان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اسے “اوور ایکٹنگ” اور “جنگی ماحول کا ڈرامہ رچانے” سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔ 2026 میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض بھارتی چینلز نے ایسے ماحول پیدا کیا جیسے کوئی ہائی وولٹیج فلم چل رہی ہو، جہاں خبر کم اور اوور ایکٹنگ زیادہ نظر آتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہر چینل ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہا ہو کہ کون سب سے بڑا، سب سے تیز اور سب سے تخلیقی جھوٹ پیش کرتا ہے۔

“گودی میڈیا” (حکومتی حمایت یافتہ میڈیا) کی جانب سے دعوے کیے گئے کہ پاکستان پر بڑے پیمانے پر حملے کر دیے گئے، کہیں یہ کہا گیا کہ بین الاقوامی سرحد پار کر کے فیصلہ کن کارروائی ہو چکی ہے، اور کہیں تو یہ بھی سننے کو ملا کہ عام شہریوں کو تباہ کر دیا گیا۔ سب سے دلچسپ دعویٰ وہ تھا جس میں لاہور پورٹ کو تباہ ہونے کی خبر چل گئی، حالانکہ حقیقت میں لاہور میں کوئی پورٹ ہے ہی نہیں۔ یہ مثالیں بھارتی میڈیا کی اس روش کو واضح کرتی ہیں جہاں حقائق کی تصدیق کے بجائے سنسنی خیزی کو ترجیح دی جاتی ہے، اور تخیلاتی نقشوں پر جنگیں جیت لی جاتی ہیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف سامعین کو الجھن کا شکار کرتا ہے بلکہ انھیں خوف، عدم تحفظ اور بے چینی میں بھی مبتلا کرتا ہے۔

فیک نیوز کی فیکٹری: جھوٹ اور پروپیگنڈا کے پیچھے کون؟

بھارتی میڈیا کی فیک نیوز کی فیکٹری مسلسل متحرک رہتی ہے اور جھوٹے پروپیگنڈا کی تیاری میں پیش پیش ہے۔ یہ رجحان حالیہ برسوں میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں جھوٹے دعوے، من گھڑت کہانیاں اور گمراہ کن ویڈیوز عام ہیں۔ مثال کے طور پر، 2023 میں ایک بھارتی خبر رساں ادارے نے حیدرآباد کی ایک قبر کی تصویر شائع کر کے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان میں قبروں پر تالے لگائے جاتے ہیں تاکہ مردہ خواتین کی بے حرمتی نہ ہو۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ تصویر دراصل بھارت کی ہی تھی اور قبر کو غیر قانونی تدفین سے بچانے کے لیے تالا لگایا گیا تھا۔ یہ واقعہ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی ایک اور کڑی تھا۔

اسی طرح، 2019 میں بھارتی نیوز چینل سدرشن نیوز نے ایک پرانی ویڈیو کو ایڈٹ کر کے یہ تاثر دیا کہ آر ایس ایس کے کارکنوں کے قتل کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں ویڈیو کا آر ایس ایس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے نے بھی بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعووں اور گمراہ کن ویڈیوز کو بے نقاب کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ایک بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے پاکستان کے شہر سیالکوٹ پر مبینہ حملے کی ویڈیو شیئر کی، مگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ویڈیو ایک ماہ پرانی تھی اور دراصل ممبئی میں گیس سلنڈر دھماکے کی تھی۔ مزید برآں، ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک جعلی ویڈیو بھی گردش کرتی رہی، جس میں ان کے اصل بیانات کو مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تبدیل کیا گیا تھا۔ بھارتی اکاؤنٹس سے امریکی صدر کے نام سے بھی ایک جعلی ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں انہیں بھارتی جارحیت کی حمایت کرتے دکھایا گیا تھا، حالانکہ صدر ٹرمپ نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا۔

یہاں کچھ عام حربے اور ان کے مقاصد درج ذیل ہیں جو بھارتی میڈیا میں فیک نیوز اور سنسنی خیزی کے لیے استعمال ہوتے ہیں:

حربہتفصیلمقصد
پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات کے طور پر پیش کرناکسی پرانے واقعے کی ویڈیو کو نئے تناظر میں دکھانا تاکہ حالیہ دعووں کی تصدیق ہو سکے۔صورتحال کو زیادہ سنگین یا حکومتی دعووں کو زیادہ مؤثر ثابت کرنا۔
من گھڑت کہانیاں اور بے بنیاد دعوےمکمل طور پر جھوٹ پر مبنی خبریں بنانا جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو، جیسے پاکستان میں قبروں پر تالے لگانے کی کہانی۔کسی خاص ملک یا کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا پھیلانا۔
سیاسی جماعتوں کے آئی ٹی سیلز کا استعمالسیاسی جماعتیں بڑے پیمانے پر آئی ٹی سیل ورکرز اور بوٹس کو ہائر کرتی ہیں جو سوشل میڈیا پر اپوزیشن کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔انتخابی مہمات میں مخالفین کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اپنے ایجنڈے کو فروغ دینا۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا غلط استعمالڈیپ فیک ویڈیوز اور AI جنریٹڈ خبریں تیار کرنا تاکہ اہم شخصیات کے جعلی بیانات اور واقعات کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔ناظرین کو دھوکہ دینا اور جھوٹی معلومات کو مزید قابلِ یقین بنانا۔
ریٹنگز کے لیے سنسنی خیزیخبروں کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنا، بریکنگ نیوز کے نام پر غیر اہم خبروں کو بڑھا چڑھا کر دکھانا، اور خوف و ہراس پھیلانا۔زیادہ سے زیادہ ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور اشتہارات سے آمدنی بڑھانا۔

بین الاقوامی ساکھ پر منفی اثرات: بھارت کی عالمی تنہائی

بھارتی میڈیا میں سنسنی خیزی اور فیک نیوز کے بڑھتے رجحان نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عرب ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جعلی خبروں کی وجہ سے بھارتی میڈیا پر اعتماد کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے اور صحافتی معیار میں زبردست کمی آئی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ بھارتی میڈیا حکومتی بیانیے کی تائید کرنے والا ایک آلہ بن چکا ہے اور اس نے اپنی آزادی اور غیر جانبداری کھو دی ہے۔

یہاں تک کہ نومبر 2023 میں بھی، سی این اے انسائیڈر کی ایک خصوصی ڈاکومنٹری میں یہ حقائق سامنے آئے کہ دنیا بھر میں جھوٹ کے پھیلاؤ میں بھارت نمبر ون پر ہے۔ اس سے قبل بھی، مختلف بین الاقوامی ادارے اور میڈیا گروپس بھارتی میڈیا کے جھوٹ کو بے نقاب کرتے رہے ہیں۔ جب بھارتی میڈیا کی جانب سے غلط معلومات اور حقائق کے برعکس دعوے کیے جاتے ہیں، تو عالمی برادری میں اس کی اعتبار پر شک کیا جاتا ہے۔ یہ مسلسل جھوٹی رپورٹنگ بھارت کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کر رہی ہے اور اس کی اخلاقی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا رہی ہے۔ عالمی سطح پر مودی حکومت کی پالیسیوں اور بیانیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جیسا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بھارت کی خارجہ پالیسی پر عالمی تنقید سامنے آئی ہے۔ یہ تمام عوامل بھارت کی عالمی سطح پر پوزیشن کو کمزور کر رہے ہیں۔ ایک پاکستانی خبر رساں ادارے نے بھی بھارتی میڈیا کی ساکھ سے متعلق رپورٹ کیا۔

میڈیا کا حکومتی بیانیے کا آلہ کار بننا: صحافت کی آزادی پر سوال

بھارتی میڈیا پر یہ الزام عام ہو چکا ہے کہ وہ حکومتی بیانیے کو فروغ دینے والا ایک آلہ بن چکا ہے، اور اس نے اپنی آزادی اور غیرجانبداری کھو دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا سچائی کے بجائے صرف حکومتی بیانیے اور سیاسی پروپیگنڈا کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ذرائع ابلاغ پر بڑھتا ہوا سخت حکومتی اثر و رسوخ بھارت میں ایک “غیر اعلانیہ ایمرجنسی” کے تاثر کو تقویت دیتا ہے۔

ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں بھارتی ریاست کی طرف سے میڈیا پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مخصوص انٹرویوز نہ کریں یا کچھ خبروں کو دبا دیں۔ اس دباؤ کا مقصد حکومت کے خلاف منفی رپورٹنگ کو روکنا اور اس کے حق میں سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ یہ صورتحال صحافت کے بنیادی اصولوں، جیسے حقائق کی اطلاع دینا، غیر جانبداری اور آزادی رائے کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ جب میڈیا حکومت کے اشاروں پر چلتا ہے تو وہ عوام کی آواز نہیں بن پاتا اور انہیں صحیح معلومات سے محروم رکھتا ہے۔ اس سے نہ صرف جمہوریت کمزور ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں بے یقینی اور عدم اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

معاشرتی اور علاقائی امن پر اثرات

فیک نیوز صرف آن لائن تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے معاشرے پر گہرے اور خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جھوٹی خبریں اور جعلی ویڈیوز معاشرے میں اشتعال اور غلط فہمیاں پیدا کر سکتی ہیں۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور جھوٹے دعوے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی ٹی وی چینلز نے جعلی فوٹیج اور ویڈیو گیمز کی ویڈیوز استعمال کرتے ہوئے فوجی فتوحات کی جھوٹی خبریں نشر کیں، جس سے عوام میں گمراہی پھیلی۔

سنسنی خیزی اور غلط معلومات کا یہ سیلاب عوام کو حقائق سے دور کر دیتا ہے اور انہیں جذباتی بنا کر ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے جو منطق کے منافی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جب میڈیا حقائق کی جانچ اور سچائی سے نظریں چراتا ہے اور مکمل طور پر غیر متوازن اطلاعات پر توجہ مرکوز کرتا ہے، تو یہ ایک “ففتھ جنریشن وار” کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ جنگ نفسیاتی اور معلوماتی محاذ پر لڑی جاتی ہے، جہاں غلط معلومات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ دشمن ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے اور اس کے عوام میں بے یقینی پیدا کی جا سکے۔ بھارتی میڈیا کا یہ رویہ نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ بھارت کے اپنے معاشرے میں بھی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے، جہاں نوجوانوں نے اب “گودی میڈیا” کو مسترد کر کے سوشل میڈیا کو اپنی طاقت بنا لیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی میڈیا کی یہ روش بھارت کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔

نتیجہ: ذمہ دار صحافت کی ضرورت

بھارتی میڈیا میں سنسنی خیزی اور فیک نیوز کا بے لگام پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس پر عالمی برادری کی جانب سے بھی تنقید سامنے آ رہی ہے۔ امریکی سفیر کے حالیہ بیانات نے اس صورتحال کی شدت کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جہاں خبروں کو شور شرابے اور پروپیگنڈا میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف صحافتی اقدار کی دھجیاں بکھیر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ فیک نیوز اور سنسنی خیزی معاشرتی تفریق، غلط فہمیوں اور علاقائی کشیدگی کو ہوا دیتی ہے، جس کے دور رس منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ایسے میں یہ ضروری ہے کہ میڈیا اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو سمجھے اور حقائق پر مبنی، غیر جانبدارانہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی طرف واپس لوٹے۔ صحافت کا مقصد سچائی کی تلاش اور عوام تک درست معلومات پہنچانا ہوتا ہے، نہ کہ ریٹنگز کی دوڑ میں جھوٹ اور سنسنی خیزی کو فروغ دینا۔ جب تک بھارتی میڈیا اس روش کو ترک نہیں کرتا، تب تک اس کی عالمی ساکھ بحال ہونا مشکل ہے اور اسے بین الاقوامی برادری میں مسلسل سوالات اور تنقید کا سامنا رہے گا۔ ذمہ دار صحافت ہی ایک مضبوط اور باخبر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے، اور اسی میں بھارت اور خطے کا بہتر مستقبل پنہاں ہے۔