اسلام آباد ایئرپورٹ پر پاکستان کی پہلی پریمیم میٹ اینڈ اسسٹ سروس ’’خوش آمدید‘‘ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے، جو ملک کے ہوا بازی کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اس سروس کا مقصد مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنا اور ان کے سفری تجربے کو غیر معمولی طور پر بہتر بنانا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق، یہ اقدام وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف/چیف آف ڈیفنس فورسز کے اس وژن کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان کے ہوابازی کے شعبے کو جدید بنانا اور اسے مزید فعال بنانا ہے۔ اس سروس کا افتتاح وفاقی سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی نے 26 اگست 2026 کو ایک پروقار تقریب میں کیا، جس میں سرکاری اداروں، ایئرلائنز، ہوابازی، سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔
سروس ’’خوش آمدید‘‘: ہوائی سفر میں ایک انقلابی تبدیلی
’’خوش آمدید‘‘ سروس پاکستان میں ایئرپورٹ پر مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ سروس خاص طور پر ان مسافروں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو ہوائی اڈے پر ایک آرام دہ، ہموار اور ذاتی نوعیت کے سفری تجربے کے خواہاں ہیں۔ اس کا آغاز پاکستان کے ایئرپورٹس کو دنیا کے ممتاز ہوائی اڈوں کے برابر لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ سروس مسافروں کے لیے ایک پریشانی سے پاک ماحول فراہم کرتی ہے، جہاں انہیں چیک ان سے لے کر سیکیورٹی کلیئرنس اور بورڈنگ تک ہر مرحلے پر ذاتی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے قبل مسافروں کو بورڈنگ کارڈ اور امیگریشن کے لیے لمبے انتظار کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب اس جدید سروس سے مسافروں کے رش اور کلیئرنس کے طویل انتظار میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔
ضرورت و اہمیت: بین الاقوامی سطح پر پریمیم ایئرپورٹ سروسز کی بڑھتی ہوئی مانگ
عصری عالمی ہوابازی میں مسافروں کی توقعات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ آج کے مسافر صرف منزل تک پہنچنا نہیں چاہتے، بلکہ وہ سفر کے دوران آرام، سہولت اور وقت کی بچت بھی چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے بڑے ہوائی اڈوں پر پریمیم میٹ اینڈ اسسٹ سروسز کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ سروسز خاص طور پر کاروباری مسافروں، سفارت کاروں، بزرگ شہریوں، خاندانوں اور ان افراد کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں جو خصوصی توجہ یا فوری کارروائی کے متلاشی ہوتے ہیں۔ پاکستان، جو ایک اہم جغرافیائی محل وقوع پر واقع ہے اور علاقائی تجارت و سیاحت کا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے ہوائی اڈوں پر بھی عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرے تاکہ مسافروں کو جدید اور پرسکون سفری تجربات میسر آ سکیں۔ ’’خوش آمدید‘‘ کا آغاز اسی ضرورت کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سروس کا موازنہ دبئی ایئرپورٹ پر چلنے والی ‘مرحبا’ سروس کے طرز پر کیا جا رہا ہے، جو اس کی بین الاقوامی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ: جدید سہولیات کا ایک مرکز
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پاکستان کے دارالحکومت میں خدمات انجام دینے والا ایک جدید اور اہم ہوائی اڈہ ہے۔ یہ رقبے اور مسافروں کی گنجائش کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے، جو سالانہ 9 ملین مسافروں کی خدمت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کا دوسرا مصروف ترین ایئرپورٹ ہے بلکہ یہ ایئربس A380 کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ملک کا پہلا اور واحد ایئرپورٹ بھی ہے۔ حالیہ برسوں میں، اسلام آباد ایئرپورٹ نے مسافروں کی سہولت کے لیے کئی جدید اقدامات کیے ہیں۔ جن میں مکمل طور پر کیش لیس ہونے کا اعزاز حاصل کرنا بھی شامل ہے، جہاں ایئرلائن ٹکٹس، پارکنگ، فوڈ آؤٹ لیٹس اور ریٹیل شاپس کی ادائیگیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، سیلف بورڈنگ کیوسک بھی متعارف کروائے گئے ہیں تاکہ مسافروں کا چیک اِن کا عمل مزید آسان اور تیز ہو سکے۔ ’’خوش آمدید‘‘ سروس کا آغاز ان تمام اقدامات کو مزید تقویت بخشتا ہے اور اسلام آباد ایئرپورٹ کی حیثیت کو ایک جدید بین الاقوامی مرکز کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔ یہ ایئرپورٹ سی پیک (CPEC) کے مرکزی راستے پر بھی واقع ہے، جو اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
’’خوش آمدید‘‘ کی منفرد خصوصیات اور مسافروں کے لیے فوائد
’’خوش آمدید‘‘ سروس کا ڈیزائن مسافروں کو ہوائی اڈے کے اندر اور باہر ایک ہموار، پرسکون اور ذاتی نوعیت کا تجربہ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ سروس مسافروں کے لیے درج ذیل اہم خصوصیات اور فوائد پیش کرتی ہے:
- ترجیحی چیک اِن اور سیکیورٹی رسائی: مسافروں کو طویل قطاروں میں انتظار سے بچنے کے لیے ترجیحی چیک اِن کاؤنٹرز اور تیز رفتار سیکیورٹی کلیئرنس کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
- ذاتی معاونت: ایئرپورٹ کے تربیت یافتہ اہلکار مسافروں کو ان کی آمد سے لے کر روانگی تک ہر قدم پر ذاتی معاونت فراہم کرتے ہیں، بشمول بیگج ہینڈلنگ، بورڈنگ پاس کے حصول، اور امیگریشن کاؤنٹرز کی رہنمائی۔
- پریمیم لاؤنج کی سہولیات: مسافروں کو آرام دہ اور پرتعیش پریمیم لاؤنجز تک رسائی حاصل ہوتی ہے، جہاں وہ اپنی پرواز کا انتظار پرسکون ماحول میں کر سکتے ہیں۔
- ایئرپورٹ پک اینڈ ڈراپ کی خدمات: مخصوص پیکیجز کے تحت مسافروں کو ایئرپورٹ سے گھر تک اور گھر سے ایئرپورٹ تک آرام دہ گاڑیوں میں پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
- بگی سروس اور وہیل چیئر کی فراہمی: بزرگ شہریوں، معذور افراد، یا زیادہ سامان والے مسافروں کے لیے ایئرپورٹ کے اندر بگی سروس اور وہیل چیئر کی سہولت دستیاب ہے۔
- ڈیجیٹل بکنگ اور ہموار عمل: یہ سروس مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت کام کرتی ہے، جس سے بکنگ کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔ مسافروں کو اپنی پرواز سے کم از کم 6 گھنٹے پہلے بکنگ کروانا لازمی ہوتا ہے۔
مختلف پیکیجز اور ان کی پیشکشیں
’’خوش آمدید‘‘ سروس مسافروں کی مختلف ضروریات اور بجٹ کے مطابق تین مختلف پیکیجز پیش کرتی ہے: پلاٹینیم، گولڈ اور سلور۔ یہ پیکیجز مسافروں کو اپنی مرضی کے مطابق خدمات کا انتخاب کرنے کی لچک فراہم کرتے ہیں۔
| پیکیج کا نام | قیمت (امریکی ڈالر) | شامل خدمات کی تفصیل |
|---|---|---|
| پلاٹینیم پیکیج | 100 | وی آئی پی پروٹوکول، ترجیحی چیک اِن، فاسٹ ٹریک سیکیورٹی، ذاتی معاونت، پریمیم لاؤنج رسائی، بگی سروس، پک اینڈ ڈراپ (گھر سے ایئرپورٹ اور ایئرپورٹ سے گھر) |
| گولڈ پیکیج | 75 | ترجیحی چیک اِن، فاسٹ ٹریک سیکیورٹی، ذاتی معاونت، پریمیم لاؤنج رسائی، بگی سروس، ایئرپورٹ پک اینڈ ڈراپ (ایک طرفہ) |
| سلور پیکیج | 50 | ترجیحی چیک اِن، ذاتی معاونت (چیک اِن اور سیکیورٹی تک)، فاسٹ ٹریک سیکیورٹی |
یہ پیکیجز اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ چاہے مسافر کاروباری ہو، سفارت کار، بزرگ شہری، یا کوئی عام مسافر جو آرام دہ اور تیز رفتار سفر چاہتا ہو، اسے اس کی ضرورت کے مطابق بہترین سہولیات میسر آئیں۔ ڈائریکٹر کمرشل، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی، رابعہ سلمیٰ نے واضح کیا کہ کمپنی کے اہلکار مسافروں کے پاسپورٹ یا سفری دستاویزات کو خود ہینڈل نہیں کریں گے اور تمام مروجہ قوانین کی سختی سے پیروی کی جائے گی۔
بین الاقوامی معیار اور پاکستانی مہمان نوازی کا امتزاج
’’خوش آمدید‘‘ سروس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ بین الاقوامی ہوابازی کے اعلیٰ ترین معیارات کو پاکستانی مہمان نوازی کے منفرد انداز کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ پاکستانی ثقافت میں مہمان نوازی کو ہمیشہ سے ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے، اور یہ نئی سروس اسی روایت کو ایئرپورٹ کے ماحول میں لے کر آتی ہے۔ عملے کی تربیت، مسافروں کے ساتھ دوستانہ اور پیشہ ورانہ رویہ، اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا عزم اس سروس کا بنیادی جزو ہیں۔ اس سروس کے ذریعے نہ صرف مسافروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ پاکستان کے ہوابازی کے شعبے کی ساکھ بھی عالمی سطح پر مضبوط ہوگی۔ یہ سروس پاکستان کے ایئرپورٹس کو جدید معاشی اور ثقافتی گیٹ وے میں تبدیل کرنے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے ملک کے عالمی تشخص کو بہتر بنایا جائے گا۔ مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے ایسے اقدامات پاکستان کے سیاحتی شعبے کو بھی فروغ دیں گے، کیونکہ ایک خوشگوار سفری تجربہ سیاحوں کو دوبارہ ملک کا رخ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس حوالے سے مزید معلومات ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہیں جو ایئرپورٹ پر مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات پر روشنی ڈالتی ہے۔
مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع پر اثرات
’’خوش آمدید‘‘ جیسی پریمیم سروسز کا آغاز صرف مسافروں کی سہولت تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے وسیع تر اقتصادی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ یہ منصوبہ مقامی معیشت میں مثبت کردار ادا کرتا ہے، بالخصوص روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے۔ اس سروس کے آپریشن کے لیے تربیت یافتہ عملے، انتظامیہ، اور دیگر معاون سروسز کی ضرورت ہوگی، جس سے سینکڑوں افراد کو ملازمت کے مواقع ملیں گے۔ اس کے علاوہ، ایئرپورٹ پر مسافروں کی تعداد میں اضافہ اور ان کے بہتر تجربے سے ریٹیل، فوڈ اینڈ بیوریج اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کو اس منصوبے سے ماہانہ 23 ہزار ڈالر کی آمدنی متوقع ہے، نیز کمپنی کے کل ریونیو میں سے 10 فیصد حصہ بھی اتھارٹی کو ملے گا۔ یہ مالی فوائد ملک کے انفراسٹرکچر کی مزید بہتری اور ہوابازی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
مسافروں کے لیے نئے اور بہتر تجربات
سفر کو آسان، محفوظ اور خوشگوار بنانا ہر مسافر کی خواہش ہوتی ہے۔ ’’خوش آمدید‘‘ سروس اس خواہش کو حقیقت کا روپ دیتی ہے۔ یہ سروس خاص طور پر ان مسافروں کے لیے ایک نعمت ہے جو پہلی بار پاکستان کا سفر کر رہے ہیں یا جو ایئرپورٹ کے طریقہ کار سے ناواقف ہیں۔ ذاتی معاونت انہیں کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچاتی ہے اور ایک مثبت تاثر قائم کرتی ہے۔ بین الاقوامی مسافر جو اکثر لمبے سفر کے بعد تھکے ہوئے ہوتے ہیں، ان کے لیے فاسٹ ٹریک سیکیورٹی اور پریمیم لاؤنجز جیسی سہولیات انتہائی راحت کا باعث بنتی ہیں۔ یہ سروس نہ صرف سفر کے دوران ہونے والے تناؤ کو کم کرتی ہے بلکہ مسافروں کو ایک آرام دہ اور یادگار تجربہ فراہم کرتی ہے، جس سے پاکستان کے بارے میں ان کا مجموعی تاثر بہتر ہوتا ہے۔ ایئرپورٹس ملک کے ثقافتی اور اقتصادی دروازوں کے طور پر کام کرتے ہیں، اور وہاں فراہم کی جانے والی معیاری خدمات پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مستقبل کے امکانات اور ہوابازی کا شعبہ
’’خوش آمدید‘‘ سروس کا آغاز پاکستان میں پریمیم ایئرپورٹ سروسز کے مستقبل کے لیے روشن امکانات کا حامل ہے۔ اگرچہ اس وقت یہ سروس صرف اسلام آباد ایئرپورٹ پر دستیاب ہے، تاہم منصوبے کے مطابق مستقبل میں اسے ملک کے دیگر بڑے شہروں کے ایئرپورٹس پر بھی پھیلایا جاسکتا ہے۔ یہ توسیع نہ صرف مزید مسافروں کو فائدہ پہنچائے گی بلکہ پورے ملک کے ہوابازی کے شعبے کے لیے ایک اعلیٰ معیار قائم کرے گی۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی انتظامیہ پاکستانی ایئرپورٹس پر مسافروں کے لیے سہولیات کے معیار کو دنیا کے جدید ترین ایئرپورٹس کے برابر لانے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے، اور یہ سہولت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ملک کے ایوی ایشن سیکٹر کو جدید بنانے اور اسے عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لیے ایسے اقدامات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، یہ سروس پاکستان کو لاجسٹکس اور ایوی ایشن کے مرکز کے طور پر تیار کرنے کے وسیع تر وژن کو پورا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
نتیجہ
اسلام آباد ایئرپورٹ پر پاکستان کی پہلی پریمیم میٹ اینڈ اسسٹ سروس ’’خوش آمدید‘‘ کا افتتاح ملک کے ہوابازی کے شعبے میں ایک اہم اور خوش آئند پیشرفت ہے۔ یہ سروس مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کر کے ان کے سفری تجربے کو نہ صرف بہتر بنائے گی بلکہ پاکستان کے ایئرپورٹس کی بین الاقوامی ساکھ میں بھی اضافہ کرے گی۔ ترجیحی چیک اِن، فاسٹ ٹریک سیکیورٹی، ذاتی معاونت، اور پریمیم لاؤنجز جیسی خصوصیات کے ساتھ، ’’خوش آمدید‘‘ ڈپلومیٹس، کارپوریٹ ایگزیکٹوز، خاندانوں اور دیگر مسافروں کی ضروریات کو پورا کرے گی۔ یہ اقدام مقامی معیشت کو فروغ دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ یہ سروس ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب پاکستان اپنے ہوابازی کے شعبے کو جدید بنانے اور عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے، اور بلاشبہ یہ ملک کو اس ہدف کے حصول میں نمایاں مدد فراہم کرے گی۔
