بھارتی خلائی پروگرام کو سنگین سوالات کا سامنا ہے، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے بلند و بانگ ترقیاتی دعووں کو زمین بوس کر رہے ہیں۔ ایک طرف بھارت خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں دوسری جانب اس کے خلائی پروگرام کو حالیہ عرصے میں کئی ناکامیوں، مالی نقصانات اور اندرونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے ملک کی تکنیکی صلاحیت اور سٹریٹجک خود مختاری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت غربت میں کمی اور اقتصادی ترقی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔
خلائی پروگرام کی حالیہ ناکامیاں اور سنگین مالی نقصانات
بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) کے لیے حالیہ سال کوئی خاص سازگار ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV) مشنز، جسے کبھی اسرو کا “ورک ہارس” کہا جاتا تھا، مسلسل ناکامیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ 12 جنوری 2026 کو PSLV-C62 مشن کی لانچنگ ناکام رہی، جس کے نتیجے میں 16 سیٹلائٹس، جن میں اہم ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ انویشا (EOS-N1) بھی شامل تھا، تباہ ہو گئے۔ یہ مشن آندھرا پردیش کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے پرواز کے تقریباً آٹھ منٹ بعد تکنیکی خرابی کا شکار ہوا۔ اس سے قبل 18 مئی 2025 کو PSLV-C61 مشن بھی اسی طرح تیسرے مرحلے میں دباؤ کم ہونے کے باعث ناکام ہو گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، PSLV راکٹ کی یہ مسلسل ناکامیاں بھارت کے خلائی پروگرام کی صلاحیتوں پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہیں اور ملک کی عالمی خلائی ساکھ کو منفی طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔ 2021 کے بعد سے یہ PSLV راکٹ پروگرام کی پانچویں اور گزشتہ 8 ماہ میں دوسری بڑی ناکامی ہے۔ ان ناکامیوں کے نتیجے میں بھارت کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ صرف PSLV-C61 اور PSLV-C62 کی ناکامی سے تقریباً 1100 سے 1250 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہوا، جبکہ 2021 سے اب تک پانچ ناکامیوں سے مجموعی نقصان 2200 سے 2800 کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ یہ وہ وسائل ہیں جو بھارت جیسے ترقی پذیر ملک کی بنیادی ضروریات پر خرچ کیے جا سکتے تھے۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کی ناقص کارکردگی کھل کر سامنے آ گئی ہے اور عالمی چھوٹے سیٹلائٹ لانچ مارکیٹ میں بھارت کا حصہ، جو 2017 میں تقریباً 35 فیصد تھا، 2024-25 تک تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
دفاعی ٹیکنالوجی اور سٹریٹجک خدشات میں اضافہ
خلائی راکٹوں کی یہ مسلسل ناکامیاں صرف سائنسی اور مالی نقصان تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کے دفاعی اور سٹریٹجک مضمرات بھی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ PSLV راکٹ میں استعمال ہونے والی بعض ٹیکنالوجیز بھارت کے اگنی میزائل پروگرام سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ اگر خلائی راکٹ میں یہ خامیاں سامنے آ رہی ہیں تو یہی مسائل کسی جنگی صورتحال میں اسٹریٹجک میزائل نظام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلائی لانچ وہیکلز، براہموس کروز میزائل اور اگنی سیریز کے درمیان تکنیکی ربط اتنا گہرا ہے کہ ایک نظام کی ناکامی دوسرے کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہ خدشات بین الاقوامی سطح پر توجہ طلب ہیں کیونکہ PSLV-C62 کی ناکامی کو محض سائنسی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ واقعہ عالمی سلامتی سے جڑے خدشات کو بھی جنم دیتا ہے۔ 2022 میں NavIC، بھارت کے مقامی نیویگیشن سیٹلائٹ نظام، کے ایک اہم سیٹلائٹ کا ایٹمی کلاک اچانک بند ہو گیا تھا، جس نے اس نظام کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا۔ اس طرح کی تکنیکی خرابیاں نہ صرف بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرتی ہیں بلکہ خطے میں ایک نئی عدم استحکام کی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
سائنسدانوں کی ہجرت اور خلائی تحقیق میں صلاحیت کا بحران
اسرو کو صرف تکنیکی ناکامیوں کا ہی نہیں بلکہ اندرونی انسانی وسائل کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ جولائی 2026 میں، اسرو کے سو سے زائد تجربہ کار سائنس دانوں کے اچانک استعفوں نے ادارے میں پریشانی کی صورتِ حال پیدا کر دی۔ ان سائنس دانوں کے جانے کی سب سے بڑی وجہ نجی شعبے یعنی پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے ملنے والی پرکشش مراعات اور کام کا شدید دباؤ ہے۔ نجی خلائی اسٹارٹ اپس انہیں سرکاری ملازمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہیں، بہتر عہدے اور جدید سہولیات پیش کر رہے ہیں۔
دوسری بڑی وجہ گگن یان اور چندریان جیسے بڑے اور حساس قومی مشنز کا شدید دباؤ ہے، جہاں دن رات کام کرنے کی وجہ سے بہت سے سائنس دان ذہنی سکون اور ذاتی زندگی کو وقت دینے کے لیے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگرچہ اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے اس صورتحال کو زیادہ تشویشناک قرار نہیں دیا ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ان جانے والے سائنسدانوں کے پاس برسوں کا قیمتی تجربہ ہے، جسے نئے لوگوں کو بھرتی کر کے فوری طور پر پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اسرو میں صلاحیت کا یہ بحران اس کے آئندہ کے منصوبوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جن میں انسان بردار خلائی مشن گگن یان اور خلائی اسٹیشن کا قیام شامل ہیں۔
| خلائی مشن کا نام | تاریخ ناکامی | ناکامی کی وجہ | متوقع مالی نقصان (بھارتی روپے) |
|---|---|---|---|
| PSLV-C62 (انویشا EOS-N1) | 12 جنوری 2026 | تیسرے مرحلے میں تکنیکی خرابی | 550-625 کروڑ (اندازاً) |
| PSLV-C61 (EOS-09) | 18 مئی 2025 | تیسرے مرحلے کے سالڈ موٹر میں دباؤ میں کمی | 550-625 کروڑ (اندازاً) |
| NVS-02 نیویگیشن سیٹلائٹ | جنوری 2025 | انجن والو کا کام نہ کرنا | نامعلوم |
| EOS-02 (SmallSat) | 7 اگست 2022 | سینسرز کی خرابی، سیٹلائٹس کا غیر مستحکم ہونا | نامعلوم |
| EOS-03 | 12 اگست 2021 | کریوجینک اسٹیج میں ہائیڈروجن ٹینک والو لیک | نامعلوم |
مودی کے ترقیاتی دعوے اور زمینی حقیقت
جہاں ایک طرف بھارت کا خلائی پروگرام مشکلات کا شکار ہے، وہیں وزیر اعظم نریندر مودی اپنی حکمرانی کے تحت ترقی کے بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومت نے 25 کروڑ شہریوں کو غربت سے باہر نکالا ہے اور بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ حکومت کا اصرار ہے کہ “سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس” کے جذبے کے ساتھ سماجی اور اقتصادی شعبوں میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، اور غربت کی شرح 2022-23 میں 5.3 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔
تاہم، ان دعووں کے برعکس، زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اور ماہرین مودی حکومت کی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔ ملک کے بہت بڑے حصے کو اب بھی بنیادی سہولیات اور وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ غربت اور بے روزگاری کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار حکومت کے دعووں کی قلعی کھول دیتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت کی سنگین صورتحال
مودی سرکار کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے دعووں کے باوجود، بھارت بے روزگاری کے باعث شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ لیبر فورس سروے کے اعدادوشمار مودی کے کھوکھلے دعووں کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مودی کے زیر اقتدار بھارت میں بے روزگاری اور غربت انتہائی سنگین حد تک پہنچ گئی ہے۔ 2023 اور 2024 میں بے روزگاری کی شرح میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی، بلکہ مجموعی طور پر بے روزگاری کی شرح 2.9 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد تک پہنچ گئی۔
نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح خاصی بلند ہے۔ بھارتی ریاست کیرالہ میں 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد ہے، جس میں خواتین میں یہ شرح 47 فیصد اور مردوں میں 19 فیصد ہے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر، ناگالینڈ، منی پور اور اروناچل پردیش میں بھی نوجوانوں کی بے روزگاری کی بلند شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔ انڈین ایمپلائمنٹ رپورٹ کے مطابق، بھارت کی بے روزگار عوام کا 83 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بے روزگاری اور حکومت کی بے حسی سے تنگ آ کر پڑھے لکھے نوجوان معمولی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں، اور تقریباً 70 فیصد تعمیراتی مزدور کم سے کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے باعث بہت سے بھارتی شہری غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور ہیں، جس سے انسانی سمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ سما نیوز کی رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر بگڑتی ساکھ اور انسانی حقوق کی پامالیاں
خلائی اور اقتصادی چیلنجز کے ساتھ ساتھ، مودی حکومت کو انسانی حقوق اور اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ جولائی 2026 میں، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف جاری مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مودی کے ساتھ ملاقات میں بھارت میں صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو درپیش دباؤ اور خوف کے ماحول کا نوٹس لے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کا فوری خاتمہ کرے اور انہیں تحفظ فراہم کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ حکمران جماعت بی جے پی ہندوتوا کے نظریے کو فروغ دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ متنازع شہریت قوانین کے ذریعے مسلم اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ نفرت انگیز تقاریر اور بیانات، جن میں ہندوتوا پاپ میوزک بھی شامل ہے، تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، جو معاشرے میں خوف، غصہ اور تقسیم کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ صورتحال مودی حکومت کے نام نہاد جمہوری چہرے کو بے نقاب کر رہی ہے اور بھارت کی عالمی ساکھ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
چیلنجز کے درمیان آگے کا راستہ
ان تمام چیلنجز کے باوجود، بھارت کا خلائی پروگرام کچھ امید افزا پہلو بھی رکھتا ہے۔ نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے اور جولائی 2026 میں اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے وکرم ون راکٹ نے پہلی ہی کوشش میں کامیابی سے مدار تک رسائی حاصل کی۔ یہ نجی شعبے کی کامیابی بھارت کو امریکا اور چین کے بعد تیسرا ملک بناتی ہے جہاں نجی شعبے نے کامیابی سے راکٹ مدار میں پہنچایا۔ بھارت میں اب 285 خلائی اسٹارٹ اپس موجود ہیں جنہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 871 ملین ڈالر کا سرمایہ حاصل کیا ہے۔
اسرو بھی چاند اور مریخ کے مزید گہرے مشنز، انسان بردار خلائی مشن گگن یان، اور 2035 تک اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ وہ عالمی خلائی مارکیٹ میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھرے اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو خلائی خدمات فراہم کرے۔ تاہم، ان عزائم کی تکمیل کے لیے موجودہ تکنیکی ناکامیوں، مالی نقصانات، اور انسانی وسائل کے بحران پر قابو پانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مودی حکومت کو اپنی داخلی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی اور ترقی کے دعووں کو زمینی حقائق کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ ایک پائیدار اور جامع ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
نتیجہ
بھارتی خلائی پروگرام کو درپیش سنگین سوالات اور وزیر اعظم مودی کے ترقیاتی دعووں کے درمیان بڑھتا ہوا تضاد ملک کے لیے ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ مسلسل تکنیکی ناکامیاں، بھاری مالی نقصانات، اور تجربہ کار سائنسدانوں کی ہجرت خلائی تحقیق کے میدان میں بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ چیلنجز ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب حکومت ملک کی اقتصادی ترقی اور غربت میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور انسانی حقوق کی پامالیاں ان دعووں کی حقیقت کو مشکوک بنا رہی ہیں۔ بھارت کو نہ صرف اپنے خلائی پروگرام کی خامیوں کو دور کرنا ہوگا بلکہ ایک جامع اور مساوی ترقیاتی ماڈل اپنانا ہوگا تاکہ وہ حقیقی معنوں میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اپنی جگہ بنا سکے۔ محض بلند و بانگ دعوے، زمینی حقائق کو چھپا نہیں سکتے اور آخر کار عوامی اعتماد اور عالمی ساکھ کو زک پہنچاتے ہیں۔
