سونا سستا ہوگیا ہے جبکہ اس کے برعکس چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال عالمی قیمتی دھاتوں کی منڈی میں ایک نئے رجحان کی نشاندہی کر رہی ہے، جہاں روایتی طور پر سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا تھا اور اس کی قیمتیں عموماً معاشی غیر یقینی کی صورتحال میں بڑھتی تھیں۔ تاہم، حالیہ دنوں میں بین الاقوامی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے برعکس، چاندی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اس کی قدر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام صارفین کے لیے بھی حیرت کا باعث ہے اور اس کے پیچھے متعدد عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی عوامل کارفرما ہیں، جن کا گہرا اثر پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہا ہے۔
موجودہ صورتحال کا جائزہ
قیمتی دھاتوں کی عالمی منڈی میں اس وقت ایک دلچسپ صورتحال کا سامنا ہے جہاں سونا اپنی چمک کھوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ چاندی ایک نئی تیزی کے ساتھ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ 28 اگست 2026 کو عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,576.30 ڈالر فی اونس پر آگئی۔ امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 0.8 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 4,629 ڈالر فی اونس پر آگئے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں اگرچہ سونا تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا، لیکن امریکی مالیاتی پالیسی اور شرح سود کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ دوسری جانب، چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ صنعتی طلب میں تیزی اور عالمی معاشی حالات کا بدلا ہوا تناظر ہے۔
پاکستان میں بھی عالمی رجحان کے زیر اثر سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 27 اگست 2026 کو آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق، 24 قیراط فی تولہ سونا 3500 روپے سستا ہو کر 483,036 روپے پر آ گیا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 3001 روپے کم ہو کر 414,125 روپے مقرر ہوئی۔ اس کے برعکس، فی تولہ چاندی کی قیمت 50 روپے اضافے کے ساتھ 7,329 روپے اور 10 گرام چاندی کی قیمت 43 روپے اضافے کے ساتھ 6,283 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مقامی اور عالمی دونوں سطحوں پر قیمتی دھاتوں کے رجحانات میں ایک قابل ذکر تبدیلی رونما ہوئی ہے۔
سونے کی قیمت میں کمی کے محرکات
سونے کی قیمت میں کمی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں عالمی معاشی صورتحال، شرح سود کی توقعات، اور امریکی ڈالر کی مضبوطی سرفہرست ہیں۔
- مضبوط امریکی ڈالر: امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ عام طور پر سونے کی قیمت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے، تو دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا خریدنا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی طلب میں کمی آتی ہے۔ 24 فروری 2026 کو امریکی ڈالر کی مضبوطی کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں تین ہفتوں سے زائد کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد نیچے آگئیں۔
- شرح سود میں اضافے کی توقعات: مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے یا اس میں کمی نہ کرنے کی توقعات بھی سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ سونا ایک ایسا اثاثہ ہے جس پر کوئی سود یا منافع نہیں ملتا، اس لیے جب شرح سود زیادہ ہوتی ہے، تو سرمایہ کار سود دینے والے اثاثوں جیسے بانڈز کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ 9 مارچ 2026 کو امریکی ڈالر کی مضبوطی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث شرح سود میں کمی کے امکانات مزید کمزور ہو گئے ہیں۔
- سرمایہ کاروں کا منافع سمیٹنا: جب سونے کی قیمتیں ایک خاص سطح پر پہنچ جاتی ہیں اور توقعات کے مطابق مزید بڑھنے کے امکانات کم ہوتے ہیں، تو سرمایہ کار منافع سمیٹنے (Profit-taking) کے لیے سونا فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔ 22 اکتوبر 2025 کو دنیا بھر میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جو گزشتہ پانچ سال کی سب سے بڑی ایک روزہ گراوٹ قرار دی گئی۔
- معاشی استحکام کی علامات: اگر عالمی معیشت میں استحکام کی علامات ظاہر ہوتی ہیں تو محفوظ سرمایہ کاری (Safe-haven) کے طور پر سونے کی طلب کم ہو جاتی ہے۔ سرمایہ کار زیادہ خطرناک لیکن زیادہ منافع بخش اثاثوں، جیسے اسٹاک مارکیٹ، کی طرف رخ کرتے ہیں۔
چاندی کی قیمت میں اضافے کے اسباب
چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی کئی اہم وجوہات ہیں جو اسے موجودہ معاشی منظرنامے میں ایک پرکشش سرمایہ کاری بنا رہی ہیں۔
- صنعتی طلب میں اضافہ: چاندی کو صرف ایک قیمتی دھات ہی نہیں بلکہ ایک اہم صنعتی دھات بھی سمجھا جاتا ہے۔ سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں (EVs)، مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر، الیکٹرانکس اور جدید ٹیکنالوجی میں چاندی کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بجلی کی بہترین ترسیل اور کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے یہ جدید ٹیکنالوجیز میں ناگزیر ہے۔ اس بڑھتی ہوئی صنعتی طلب نے عالمی منڈی میں چاندی کی قیمتوں کو عروج بخشا ہے۔
- افراط زر کے خلاف ہیج: عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی افراط زر کی وجہ سے بھی سرمایہ کار چاندی کو ایک محفوظ اثاثہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ جب کرنسی کی قدر گرتی ہے، تو قیمتی دھاتیں اپنی قوت خرید برقرار رکھتی ہیں۔ چاندی، سونے کی نسبت سستی ہونے کی وجہ سے، عام آدمی کے لیے بھی افراط زر کے خلاف ایک سستی اور قابل رسائی ہیج کے طور پر کام کرتی ہے۔
- سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی دلچسپی: سونے کی قیمتوں میں کمی کے رجحان اور چاندی کی بڑھتی ہوئی صنعتی اہمیت نے سرمایہ کاروں کو اپنی توجہ چاندی کی طرف موڑنے پر مجبور کیا ہے۔ بہت سے تجزیہ کار چاندی کو مستقبل کی ‘سبز معیشت’ کی دھات قرار دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس میں سرمایہ کاری کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2025 اور 2026 کے دوران پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے چاندی میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے۔
- رسد کے مسائل: بعض اوقات کان کنی کی پیداوار میں کمی یا سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ جب طلب کے مقابلے میں رسد کم ہو تو قیمتیں قدرتی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔
پاکستانی مارکیٹ پر اثرات
عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستانی صرافہ بازاروں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سونے اور چاندی کو نہ صرف زیورات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے بلکہ اسے ایک اہم سرمایہ کاری اور محفوظ اثاثہ بھی سمجھا جاتا ہے۔
| دھات | یونٹ | پرانی قیمت (27 اگست 2026) | نئی قیمت (28 اگست 2026) | قیمت میں تبدیلی |
|---|---|---|---|---|
| سونا (24 قیراط) | فی تولہ | 486,536 روپے | 483,036 روپے | 3,500 روپے کمی |
| سونا (24 قیراط) | 10 گرام | 417,126 روپے | 414,125 روپے | 3,001 روپے کمی |
| چاندی | فی تولہ | 7,279 روپے (تخمینی) | 7,329 روپے | 50 روپے اضافہ |
| چاندی | 10 گرام | 6,239 روپے (تخمینی) | 6,283 روپے | 43 روپے اضافہ |
سونے کی قیمتوں میں کمی جہاں ایک طرف صارفین کو سستے زیورات خریدنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے، وہیں دوسری جانب سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم، چاندی کی قیمت میں اضافہ ان سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے جنہوں نے وقت پر چاندی میں سرمایہ کاری کی تھی۔ مقامی معیشت میں ڈالر کی قدر، افراط زر اور بین الاقوامی تجارت کے تعلق سے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ عموماً سونے کی قیمت کو اوپر لے جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی عوامل کا غلبہ نمایاں ہے۔
اکتوبر 2025 میں پاکستان میں 24 قیراط سونے کی قیمت 1500 ڈالر فی تولہ اور ایک کلو چاندی کی قیمت 1600 ڈالر تھی۔ تاہم، حالیہ اعداد و شمار میں واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے، جہاں سونا سستا ہوا ہے اور چاندی مہنگی۔ مقامی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، شادیوں کے سیزن میں بھی سونے کی طلب متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ چاندی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اسے ایک قابل توجہ سرمایہ کاری کا ذریعہ بنا رہی ہیں۔
تاریخی تناظر اور ماضی کے رجحانات
قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں؛ تاریخ میں کئی ایسے ادوار آئے ہیں جب سونے اور چاندی کے رجحانات میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ تاریخی طور پر، سونا کو ہمیشہ افراط زر اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال میں ایک ‘محفوظ پناہ گاہ’ (Safe-haven) کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ جب عالمی جنگیں، سیاسی تناؤ یا مالیاتی بحران سر اٹھاتے ہیں تو سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ جیسے خطرناک اثاثوں سے نکل کر سونے کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ 2025 کے آغاز سے اب تک سونا تقریباً 60 فیصد تک بڑھ چکا تھا، جس کی وجہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، شرح سود میں ممکنہ کمی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے بھاری خریداری بتائی جاتی ہے۔
چاندی کی تاریخ بھی اتار چڑھاؤ سے بھرپور ہے۔ 1970 کی دہائی کے آخر میں چاندی کی قیمتیں 2 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر تقریباً 50 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جس کی بڑی وجہ مہنگائی اور کمزور امریکی ڈالر تھا۔ 2011 میں بھی چاندی کی قیمتیں دوبارہ 50 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچی تھیں، جس کے بعد مارکیٹ میں شدید مندی آئی۔ کورونا وبا کے بعد 2020 کی دہائی میں چاندی کی قیمتوں نے دوبارہ تیزی پکڑی، اور 2025 میں صنعتی طلب اور معاشی بے یقینی کے باعث قیمتوں میں 130 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تاریخی جائزے بتاتے ہیں کہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ کبھی بھی یکطرفہ نہیں ہوتی اور اس میں مختلف عالمی عوامل کے تحت تیزی اور مندی دونوں آتی رہتی ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر، سرمایہ کاروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیں۔ دونوں دھاتوں کے اپنے فوائد اور خطرات ہیں۔
- سونے میں سرمایہ کاری: سونا طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور محفوظ آپشن سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر معاشی غیر یقینی کی صورتحال میں۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں اس کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، ماہرین اب بھی اسے دولت کے تحفظ کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق، مرکزی بینک بھی اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں سونے کا حصہ بڑھا رہے ہیں۔ لہذا، سونا ان افراد کے لیے موزوں ہے جو اپنی دولت کو افراط زر اور مالیاتی بحرانوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔
- چاندی میں سرمایہ کاری: چاندی، سونے کے مقابلے میں زیادہ اتار چڑھاؤ دکھاتی ہے، لیکن اس میں صنعتی طلب کی وجہ سے زیادہ منافع کمانے کا امکان بھی موجود ہے۔ سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں اس کا بڑھتا ہوا استعمال اس کی قدر میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، اس میں زیادہ خطرہ بھی ہوتا ہے اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔ چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے چاندی، سونے کی نسبت ایک کم قیمت متبادل ہے جس کے ذریعے وہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں داخل ہو سکتے ہیں۔
- متوازن پورٹ فولیو: زیادہ تر مالیاتی ماہرین ایک متوازن سرمایہ کاری پورٹ فولیو کی سفارش کرتے ہیں جس میں مختلف اثاثے شامل ہوں، بشمول سونا اور چاندی۔ یہ حکمت عملی خطرے کو کم کرنے اور مختلف مارکیٹ حالات میں منافع کمانے میں مدد دیتی ہے۔
سرمایہ کاری کے فیصلے ہمیشہ ذاتی مالی اہداف، رسک برداشت کرنے کی صلاحیت اور مارکیٹ کے تفصیلی تجزیے کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ مزید تحقیق اور ماہرین سے مشورہ لازمی ہے۔ اس ضمن میں آپ ڈان نیوز کی متعلقہ رپورٹ بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں، جو سونے اور چاندی کی قیمتوں پر مزید بصیرت فراہم کرتی ہے۔
مستقبل کے امکانات اور چیلنجز
سونے اور چاندی کی عالمی منڈی مستقبل میں بھی کئی اہم عوامل سے متاثر ہو گی، جن میں عالمی معاشی نمو، مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیاں، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور صنعتی ترقی شامل ہیں۔
- عالمی معاشی نمو: اگر عالمی معیشت میں تیزی آتی ہے تو صنعتی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے چاندی جیسی دھاتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ تاہم، معاشی استحکام سونے کی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت کو کمزور کر سکتا ہے۔
- مرکزی بینکوں کی پالیسیاں: امریکی فیڈرل ریزرو اور دیگر مرکزی بینکوں کی شرح سود کے حوالے سے پالیسیاں سونے کی قیمتوں پر گہرا اثر ڈالیں گی۔ اگر شرح سود میں کمی آتی ہے تو سونا زیادہ پرکشش ہو سکتا ہے، جبکہ شرح سود میں اضافہ سونے پر دباؤ ڈالے گا۔
- جغرافیائی سیاسی صورتحال: عالمی سطح پر سیاسی تناؤ، جنگیں یا تجارتی تنازعات سونے کی طلب کو بڑھا سکتے ہیں کیونکہ سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور امریکی تجارتی پالیسیاں ماضی میں بھی سونے کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔
- ٹیکنالوجی اور صنعتی جدت: شمسی توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں چاندی کا بڑھتا ہوا استعمال اس کی طویل مدتی طلب کو یقینی بنائے گا۔ یہ عوامل مستقبل میں چاندی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے یا بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
مجموعی طور پر، ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سرمایہ کاروں کو ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے باخبر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
نتیجہ
سونے کا سستا ہونا اور چاندی کا مہنگا ہونا عالمی معیشت میں بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی شرح سود کی توقعات، امریکی ڈالر کی مضبوطی اور معاشی استحکام کی علامات سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں، وہیں دوسری جانب صنعتی طلب میں غیر معمولی اضافہ، افراط زر کے خلاف ہیج کے طور پر کردار اور ٹیکنالوجی کی ترقی چاندی کی قیمتوں کو نئی بلندیوں پر لے جا رہی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور عام صارفین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کو سمجھیں اور اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کو اسی کے مطابق ڈھالیں۔ اگرچہ سونے کی تاریخی اہمیت ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر برقرار ہے، چاندی اب ایک ابھرتی ہوئی اور ممکنہ طور پر زیادہ منافع بخش دھات کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ مستقبل میں دونوں دھاتوں کی قدر عالمی معاشی صورتحال، تکنیکی ترقی اور جغرافیائی سیاسی استحکام پر منحصر ہوگی۔ لہٰذا، سرمایہ کاری کے فیصلوں میں احتیاط اور باخبر تجزیہ کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
