حوثیوں کا سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان، جو 20 جولائی 2026 کو سامنے آیا، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور کشیدگی میں ایک نیا اور تشویشناک باب کھول گیا ہے۔ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے یہ اعلان صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی حملوں کے ردعمل میں کیا، جسے وہ اپنے عوام پر مسلط کردہ “غیر منصفانہ اور ظالمانہ محاصرے” کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ اقدام “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی پر مبنی ہے اور صنعاء ایئرپورٹ کی مسلسل ناکہ بندی ناقابل قبول ہے۔ اس اعلان کے فوری بعد سعودی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہوں پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی سپلائی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بحری ناکہ بندی کی وجوہات اور حوثیوں کا مؤقف
حوثیوں کے اس تازہ اقدام کی بنیاد یمن پر سعودی عرب کی قیادت میں جاری اتحادی افواج کے محاصرے پر ہے۔ حوثی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے تقریباً 12 سال سے ان پر ایک ظالمانہ محاصرہ مسلط کر رکھا ہے، جس کے ذریعے ان کے وسائل لوٹے گئے اور ان کی زمینی، بحری اور فضائی حدود سمیت تمام بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی مکمل ناکہ بندی کی گئی۔ خاص طور پر، صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مسلسل بندش اور گزشتہ ہفتے اس پر مبینہ سعودی فضائی حملے اس بحری ناکہ بندی کے اعلان کا فوری محرک بنے۔ حوثیوں کے مطابق، ان حملوں کا مقصد ہوائی اڈے کو انسانی پروازوں کے لیے بند کرنا تھا۔ جواباً، حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔
حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا کہ صنعاء ایئرپورٹ کی بندش ناقابل برداشت ہے اور اب “محاصرے کا جواب محاصرے سے اور جارحیت کا جواب مزید جارحیت سے دیا جائے گا”۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ جب تک صنعاء ایئرپورٹ کی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، ایئرلائنز سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں۔ حوثیوں کی قیادت نے زور دیا کہ یہ ان کے عوام کا “قانونی حق” ہے کہ وہ محاصرے کا جواب محاصرے سے دیں اور کسی بھی غلط اقدام کا جواب انتہائی سخت دیا جائے گا۔
- سناء ایئرپورٹ کی ناکہ بندی: حوثیوں کے مطابق، سعودی اتحاد نے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر انسانی امداد اور مسافروں کی آمدورفت کو روک رکھا ہے، جسے وہ ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔
- ابہا ایئرپورٹ پر حملہ: صنعاء ایئرپورٹ پر مبینہ سعودی حملوں کے ردعمل میں حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
- “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی: حوثیوں نے اپنے اقدام کو سعودی عرب کی جانب سے یمن پر مسلط کردہ ناکہ بندی کا براہ راست جواب قرار دیا ہے۔
باب المندب: عالمی تجارت کی شہ رگ پر خطرہ
اگرچہ حوثیوں نے اپنے اعلان میں کسی مخصوص آبی گزرگاہ کا نام نہیں لیا، فوجی اور بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر یہ ناکہ بندی زیادہ تر باب المندب پر نافذ ہو سکتی ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ باب المندب یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تیل اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار کی نقل و حرکت کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ روزانہ تقریباً 3.8 ملین بیرل خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات اس آبنائے سے گزر کر یورپ، ایشیا اور امریکہ تک پہنچتی ہیں۔ عالمی تجارتی نقل و حرکت کا تقریباً 12 فیصد حجم باب المندب کے راستے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
سعودی عرب اپنی زیادہ تر تیل برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں، باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہ سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم متبادل راستہ بن چکا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے اس گزرگاہ پر ناکہ بندی کی دھمکی سے عالمی توانائی کی سپلائی اور بحری تجارت کے لیے نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
عالمی تیل کی منڈیوں پر ممکنہ اثرات
باب المندب کی ممکنہ بندش کے عالمی تیل کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر یہ آبنائے مکمل طور پر بند کر دی گئی تو عالمی تیل کی رسد میں تقریباً 7 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، شپنگ اخراجات میں تیزی اور سپلائی چین میں شدید خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی جنگ کے باعث پہلے ہی عالمی تیل کی سپلائی تقریباً 10 فیصد متاثر ہو چکی ہے، ایسے میں باب المندب کی ممکنہ بندش توانائی کی عالمی منڈی کو مزید شدید بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔
ماضی میں بھی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہاز افریقہ کے گرد طویل سمندری راستے سے گزارنا شروع کر دیے تھے، جس سے نقل و حمل کی لاگت اور سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر بڑھ گیا تھا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
| پہلو | حوثیوں کا مؤقف/دعوے | سعودی عرب/بین الاقوامی ردعمل | ممکنہ اثرات |
|---|---|---|---|
| ناکہ بندی کی وجہ | سعودی عرب کی جانب سے یمن پر 12 سالہ ‘ظالمانہ’ محاصرہ اور صنعاء ایئرپورٹ پر حملے۔ “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی۔ | سعودی عرب کی جانب سے الزامات کی مذمت، یمنی عوام اور قانونی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا عزم۔ | خطے میں مزید کشیدگی، یمنی تنازع کا شدید ہونا۔ |
| ناکہ بندی کا ہدف | سعودی عرب کے خلاف “فوری سمندری پابندیاں” اور بحری ناکہ بندی۔ فوجی ماہرین کے مطابق باب المندب کا ہدف۔ | سعودی اتحاد کا باب المندب میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا اعلان، طاقت سے جواب دینے کی دھمکی۔ | باب المندب کی اہمیت کے پیش نظر عالمی تیل اور تجارتی سپلائی پر براہ راست اثر۔ |
| اقتصادی اثرات | سعودی عرب پر دباؤ ڈال کر صنعاء ایئرپورٹ کی ناکہ بندی ختم کرانا۔ | عالمی تیل کی سپلائی میں 7% کمی کا خدشہ، قیمتوں میں اضافہ، شپنگ اخراجات میں تیزی، سپلائی چین میں خلل۔ | عالمی معیشت پر منفی اثرات، مہنگائی کا بڑھنا۔ |
| بین الاقوامی قانونی حیثیت | اپنے عوام پر عائد محاصرے کے جواب میں جائز حق۔ | اقوام متحدہ کا تشویش کا اظہار، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور۔ غیر مؤثر یا شہری آبادی کو متاثر کرنے والی ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت قابل اعتراض۔ | عالمی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات، بین الاقوامی سطح پر قانونی بحث۔ |
علاقائی کشیدگی میں اضافہ اور بین الاقوامی ردعمل

حوثیوں کے اس اعلان نے خطے میں کشیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سعودی وزارت خارجہ نے حوثیوں کے ان بیانات کی شدید مذمت کی ہے جن میں سعودی عرب پر یمن کا محاصرہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے بحری نقل و حرکت اور بین الاقوامی تجارت کی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے باب المندب میں اپنے تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے اور حوثیوں کی جانب سے جہازوں پر حملوں کی دھمکی کا طاقت سے جواب دیں گے۔
عالمی سطح پر اقوام متحدہ نے حوثیوں کی بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کی دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے خبردار کیا ہے کہ اس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ، ایندھن کی فراہمی میں خلل اور عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو آبنائے ہرمز کی تقریبا ًبندش کے اثرات سے تشبیہ دی جو پہلے ہی عالمی معیشت کو متاثر کر چکے ہیں۔
پاکستان نے بھی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک پاکستانی عہدیدار نے خبر ایجنسی روئٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران کو اعلیٰ ترین سطح پر واضح کر دیا ہے کہ سعودی عرب “ہماری ریڈ لائن ہے” اور اس پر ہونے والا کوئی بھی حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا۔ مزید برآں، سعودی عرب اور یمن کی سرحد کے قریب پاکستانی فوجی تعینات ہیں، جس کے باعث لڑائی میں شدت آنے کی صورت میں ان اہلکاروں کے براہ راست متاثر ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
ایران نے مبینہ طور پر حوثیوں پر زور دیا ہے کہ اگر امریکہ ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھتا ہے تو وہ بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔
حوثیوں کی بحری صلاحیتیں اور ماضی کے حملے
حوثی گروپ نے یمن جنگ کے دوران اپنی عسکری صلاحیتوں، خاص طور پر میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کا بارہا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے ماضی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تیل کی تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ بحیرہ احمر میں بھی حوثیوں نے کئی بین الاقوامی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جن کا مقصد غزہ کی جنگ میں فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ 2025 میں، حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دو بحری جہاز ڈبونے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس کے نتیجے میں عملے کے افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں سے بحیرہ احمر میں تجارتی ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حوثیوں کے پاس اینٹی شپ کروز میزائل بھی ہیں، جنہیں وہ امریکی جنگی بحری جہازوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ یہ صلاحیتیں انہیں باب المندب جیسے اہم آبی راستوں پر مؤثر طریقے سے ناکہ بندی کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ مارچ 2026 میں بھی حوثیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ جنگ میں شامل ہو جائیں گے اور بحیرہ احمر کو کسی بھی مسلم ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔
قانونی پہلو اور عالمی برادری کے خدشات
بین الاقوامی قانون سمندری ناکہ بندی کو معاشی جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر تسلیم تو کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ اہم شرائط اور حدود بھی وابستہ ہیں۔ بین الاقوامی ماہرین قانون کے مطابق، ناکہ بندی کے قانونی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مؤثر ہو اور تمام جہازوں پر یکساں لاگو ہو۔ اس کے علاوہ، ناکہ بندی کی ایک بڑی شرط یہ بھی ہے کہ اس سے عام شہریوں کی زندگیوں پر برا اثر نہیں پڑنا چاہیے اور عام آبادی کو بھوکا مارنا یا انہیں زندگی بچانے والی خوراک اور ادویات سے محروم کرنا اس کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر کسی بھی ملک کی ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے، جیسا کہ 2026 میں امریکہ کی جانب سے ایران پر بحری ناکہ بندی کے اعلان پر قانونی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
حوثیوں کے اس اعلان نے عالمی برادری میں گہرے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے شہریوں کی ضروریات سے متعلق اہم تنصیبات، جن میں اسپتال اور پانی کی فراہمی کا نظام شامل ہیں، کی حفاظت پر زور دیا ہے اور تمام فریقوں سے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مزید کشیدگی کی صورت میں اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی ترسیل، امن مشنوں کے لیے سامان کی فراہمی، عالمی تجارت اور توانائی کی تجارت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں، ایکسپریس اردو کی رپورٹ جیسے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات اس تنازع کے پیچیدہ اور کثیر جہتی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
نتیجہ: مستقبل کے مضمرات اور سفارتی کوششیں
حوثیوں کا سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو ایک خطرناک موڑ پر لے آیا ہے۔ یہ اعلان نہ صرف سعودی عرب کے لیے ایک براہ راست چیلنج ہے بلکہ عالمی توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر حوثی اس ناکہ بندی کو عملی جامہ پہناتے ہیں تو بحیرہ احمر اور باب المندب میں عالمی جہاز رانی بری طرح متاثر ہوگی، جس کے عالمی معیشت پر دور رس اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے “طاقت سے جواب” دینے کا اعلان اور پاکستان جیسے ممالک کی جانب سے سعودی سلامتی کو “ریڈ لائن” قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں عسکری تصادم کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار اس صورتحال کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے، اور وہ تمام فریقوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔
اس نازک مرحلے پر، سفارتی کوششیں اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں جو اس بحران کو مزید بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔ یمنی عوام کے انسانی حقوق اور امن کے قیام کو یقینی بنانا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام آ سکے۔ عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔


