مقبول خبریں

حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا: 2026 میں ایک سنگین چیلنج

حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے، یمن کی انصار اللہ تنظیم کے سینئر اہلکاروں نے ستمبر 2026 میں یہ دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ عالمی سطح پر ایک سنگین تشویش کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ باب المندب دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ اس دعوے کے بین الاقوامی تجارت، جہاز رانی اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یمن کے مغربی صوبے تعز میں اہم علاقوں اور فوجی اڈوں الخالد اور جبل النصر پر حوثیوں نے قبضہ کر لیا ہے، جس کے بعد اسٹریٹجک لحاظ سے اس گزرگاہ پر ان کا تسلط مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں المخا بندرگاہ اور اس کے ایئرپورٹ پر بھی حوثی جنگجوؤں کی پیش قدمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

صحت مند طرز زندگی کے لیے اہم معلومات

باب المندب کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت

باب المندب، جسے “آنسوؤں کا دروازہ” بھی کہا جاتا ہے، بحیرہ احمر کے سب سے جنوبی سرے پر یمن اور جبوتی کے درمیان ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے، اور اسے نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جوڑا جاتا ہے۔ اس کی چوڑائی تقریباً 32 کلومیٹر (20 میل) ہے اور یہ عالمی تجارت کی لائف لائن سمجھی جاتی ہے۔

یہ آبی گزرگاہ یورپ، امریکا اور دنیا کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ خلیجی برآمدات اور مشرقی ایشیا سے آنے والی مصنوعات اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ دنیا کی تقریباً 12 فیصد عالمی تجارت روزانہ اسی راستے سے گزرتی ہے، جس میں تیل، گیس اور غذائی اجناس شامل ہیں۔ روزانہ تقریباً 3.5 ملین بیرل تیل ٹینکروں میں باب المندب سے گزرتا ہے۔

اگر یہ بحری گزرگاہ متاثر ہو جائے یا بند ہو جائے تو جہازوں کو افریقہ کے گرد گھوم کر کیپ آف گڈ ہوپ کا طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس سے سامان کی ترسیل میں 10 سے 14 دن کی اضافی تاخیر ہو جاتی ہے اور بحری نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے باب المندب کا کنٹرول عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

تفریح اور ثقافت کی دنیا سے دلچسپ کہانیاں

حوثیوں کا دعویٰ اور حالیہ پیش قدمی

یمن کی انصار اللہ تنظیم کے سینیئر اہلکار محمد البخیتی نے واضح طور پر دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب حوثی جنگجوؤں نے یمن کے مغربی صوبے تعز میں الخالد اور جبل النصر کے فوجی اڈوں پر قبضہ کرلیا۔ ان پیش قدمیوں نے انہیں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک پہنچا دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، حوثیوں نے المخا ایئرپورٹ پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے، اور مزاحمت کرنے والے افراد نے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اس سے قبل حوثیوں نے بحیرہ احمر کے جغرافیائی اہمیت کے حامل جزیرے زُقَر کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا تھا۔ زُقَر جزیرہ بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں ایک اہم تزویراتی مقام رکھتا ہے، اور اس کا کنٹرول بحری نقل و حرکت کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔

  • المخا بندرگاہ کا کنٹرول: المخا بندرگاہ کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت اسے بحیرہ احمر میں جہازوں کی نگرانی کے لیے ایک اہم نقطہ بناتی ہے۔
  • جزیرہ زُقَر پر قبضہ: زُقَر جزیرہ کا کنٹرول حوثیوں کو باب المندب کے اطراف بحری نقل و حرکت پر اثر انداز ہونے کا موقع دیتا ہے۔
  • فوجی اڈوں پر پیش قدمی: الخالد اور جبل النصر کے فوجی اڈوں پر قبضے نے حوثیوں کی عسکری قوت اور علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے۔

معیشت اور توانائی کے شعبے کی تازہ ترین خبریں

عالمی برادری کا ردعمل اور سلامتی کے خدشات

باب المندب پر حوثیوں کے مبینہ کنٹرول کے دعوے نے عالمی برادری میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور ایسے تمام حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ حملے عالمی معیشت کو غیر مستحکم کرنے اور خوراک کی عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن رہے ہیں۔

سعودی عرب نے بھی حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق، حوثیوں کی کارروائیاں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان نے بھی بحیرہ احمر میں حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب اور یمن سے رابطے میں رہنے کا کہا ہے، جہاں پاکستانیوں سمیت کئی ملاح جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے صدر رشاد علیمی نے خبردار کیا ہے کہ باب المندب کے قریب عسکری صورتحال میں تبدیلی کے اثرات سوئز کینال تک پہنچ سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے یمن کے ساحلی علاقوں کے تحفظ کو عالمی برادری کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔

علاقائی سفر اور ثقافتی تجربات

سمندری تجارت اور عالمی معیشت پر اثرات

باب المندب کا کنٹرول یا اس پر حوثیوں کی جانب سے بڑھتا ہوا خطرہ عالمی سمندری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے شدید خطرات کا باعث بنتا ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش عالمی تیل کی سپلائی میں 7 فیصد تک کمی کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے سعودی عرب کی زیادہ تر تیل برآمدات خطے سے باہر نہیں نکل پائیں گی۔ بلومبرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران حوثیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کے خلاف نئی مہم شروع کریں، جس سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کی کانفرنس (UNCTAD) کی 2024 کی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر اور پاناما کینال کا بحران جاری رہا تو 2025 تک عالمی صارف قیمتوں میں 0.6 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ شپمنٹس کو متبادل راستے، جیسے کیپ آف گڈ ہوپ، منتقل کرنے سے فاصلے بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایندھن کی کھپت، شپنگ عملے کی اجرت، اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 30 فیصد تیل اور 40 فیصد خشک کارگو بحیرہ احمر اور سویز کینال کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔

ان حملوں نے کئی عالمی شپنگ کمپنیوں کو اپنے بحری جہازوں کے راستے تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے، جس سے سفر کا وقت اور اخراجات دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

اہم پہلو تفصیل
محل وقوع یمن اور جبوتی کے درمیان، بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے
عالمی تجارت میں حصہ تقریباً 12 فیصد عالمی تجارت، بشمول تیل اور گیس
حوثیوں کا دعویٰ باب المندب اور متعلقہ ساحلی علاقوں پر مکمل کنٹرول
اقتصادی اثرات تیل کی سپلائی میں کمی، شپنگ لاگت میں اضافہ، عالمی مہنگائی

عالمی سیاسی صورتحال اور اہم بیانات

یمن میں جاری تنازعہ اور حوثیوں کا کردار

حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، یمن کی زیدی شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک طاقتور سیاسی و عسکری تحریک ہے۔ یہ تحریک ابتدا میں سیاسی ناانصافی اور بدعنوانی کے خلاف مزاحمت کے طور پر سامنے آئی تھی، لیکن وقت کے ساتھ عسکری قوت بن گئی۔ 2014 میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا اور یمن کے شمالی و مغربی حصوں میں بڑے پیمانے پر اقتدار سنبھال لیا۔

حوثیوں کو ایران کا اتحادی سمجھا جاتا ہے، اور امریکہ و سعودی عرب طویل عرصے سے ایران پر انہیں ہتھیار اور عسکری مدد فراہم کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں، تاہم ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ یمن میں جاری تنازع کو ایران سعودی عرب کی پراکسی جنگ کا ایک محاذ سمجھا جاتا ہے۔ 2015 میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کے سعودی عرب پہنچنے کے بعد سعودی قیادت میں عرب اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔

اگرچہ 2022 کے بعد لڑائی میں نمایاں کمی آئی اور سعودی عرب و حوثیوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات بھی ہوئے، لیکن حالیہ حملوں نے ظاہر کیا ہے کہ تنازع ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یمن میں جاری لڑائی میں گزشتہ ہفتے سے کم از کم 500 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 20 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں، جس کے جواب میں سعودی عرب فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔

علاقائی دفاعی آپریشنز اور اہم کامیابیاں

مستقبل کے امکانات اور علاقائی استحکام

باب المندب پر حوثیوں کے کنٹرول کے دعوے اور بحیرہ احمر میں ان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے، اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یمنی حکومتی فورسز نے عالمی برادری سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں حمایت کی اپیل کی ہے۔

یمن میں امن اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب تمام فریقوں کے متفقہ روڈ میپ کی بنیاد پر حقیقی مذاکرات کیے جائیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مطالبہ ہے کہ بحیرہ احمر میں تمام حملے بند کیے جائیں اور علاقائی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ امریکی فوجی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیاں ہیں۔

تنازعہ کے دوبارہ وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں اہم بحری راستے شدید کشیدگی کی زد میں ہیں۔ مستقبل میں اس مسئلے کا حل سفارتی اور سیاسی کوششوں پر منحصر ہوگا تاکہ اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور عالمی تجارت کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔

جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت

سیکیورٹی چیلنجز اور بین الاقوامی کوششیں

بحیرہ احمر میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اور باب المندب پر ان کے کنٹرول کے دعوے نے سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ یہ نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی اور حفاظت کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی قوتیں بحیرہ احمر میں بحری موجودگی کے ذریعے جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن حوثیوں کے حملے اب بھی جاری ہیں۔ جنوری 2024 میں سلامتی کونسل نے قرارداد 2722 منظور کی جس میں ریڈ سی میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی گئی۔ اس کے باوجود، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملے جاری رہے ہیں، جس سے پاکستانیوں سمیت کئی ملاح اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ یمن میں تنازعے کا فوجی حل ممکن نہیں اور ایک جامع سیاسی حل ہی خطے میں دیرپا امن لا سکتا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں حوثیوں کی پیش قدمی نے ان کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور بحیرہ احمر میں سلامتی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی حکمت عملی

سماجی اور ثقافتی امور پر بصیرت افروز تجزیے

نتیجہ

حوثیوں کے باب المندب پر مکمل کنٹرول کے دعوے نے عالمی برادری کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے، جس کے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ المخا بندرگاہ اور زُقَر جزیرے پر ان کی حالیہ پیش قدمیوں نے بحیرہ احمر میں ان کے اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور حملوں کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

یمن میں جاری خانہ جنگی اور بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک جامع سیاسی حل ناگزیر ہے، تاکہ اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ جب تک یمن میں بنیادی تنازعات حل نہیں ہوتے، باب المندب پر سیکیورٹی کے خدشات برقرار رہیں گے۔ مزید تفصیلات کے لیے، آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔