افریقہ کا 2040 تک اپنی ویکسین کی ضروریات کا 60 فیصد خود تیار کرنے کا ہدف ایک انتہائی پرجوش عزائم ہے، لیکن جنوبی افریقی کمپنیوں کو درپیش سنگین چیلنجز کو دیکھتے ہوئے یہ ایک مشکل راستہ نظر آتا ہے۔ افریقی یونین نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے Gavi، ویکسین الائنس اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے مدد کی اپیل کی ہے تاکہ برصغیر میں ویکسین کی پیداوار کو بڑھایا جا سکے۔
اس وقت افریقہ میں استعمال ہونے والی 99 فیصد ویکسین درآمد کی جاتی ہیں، جو کہ وبائی امراض کی تیاری اور صحت کے تحفظ میں شدید کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ COVID-19 وبائی مرض نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کیا، جب امیر ممالک نے اپنی آبادی کو ترجیح دی اور افریقہ کو ویکسین تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مشرقی برطانیہ کے جنگلات میں خوفناک آگ
ویکسین کی مقامی پیداوار کا ہدف: کیوں اہم ہے؟
افریقہ کے لیے ویکسین کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا نہ صرف صحت کے تحفظ بلکہ اقتصادی خود مختاری کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ براعظم میں بیماریوں کا عالمی بوجھ 23% ہے، جبکہ 2022 میں عالمی ویکسین کی خوراکوں کا صرف 14% افریقہ کو فراہم کیا گیا۔ یہ عدم توازن صحت عامہ کے شدید مسائل پیدا کرتا ہے۔
مقامی پیداوار سے نہ صرف ویکسین تک رسائی بہتر ہوگی بلکہ صحت کے نظام میں لچک بھی آئے گی اور مستقبل میں وبائی امراض سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھے گی۔ افریقہ سی ڈی سی کے تحت، افریقی یونین کے سربراہان مملکت و حکومت نے 2021 میں پارٹنرشپس فار افریقن ویکسین مینوفیکچرنگ (PAVM) کی بنیاد رکھی۔ اس کا بنیادی مقصد 2040 تک براعظم میں مطلوبہ ویکسین کی 60% سے زیادہ خوراکوں کی ترقی، پیداوار اور فراہمی کو تحریک دینا ہے۔
سونے اور چاندی کی قیمت میں دوسرے دن بھی
ویکسین کی مقامی تیاری سے براعظم کو اہم بیماریوں جیسے ہیضہ اور ملیریا سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی جو ہر سال سینکڑوں ہزاروں افریقی بچوں کو ہلاک کرتی ہیں۔ اس طرح مقامی پیداوار ایک طویل مدتی صحت کی سلامتی کو فروغ دیتی ہے اور جدید بائیو ٹیکنالوجی میں مقامی مہارت کو پروان چڑھاتی ہے۔
جنوبی افریقی کمپنیوں کو درپیش مسائل
جنوبی افریقہ نے ویکسین کی پیداوار میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے، لیکن اس کی کمپنیوں کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ چیلنجز مالیاتی رکاوٹوں سے لے کر تکنیکی مہارت کی کمی اور ریگولیٹری مسائل تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ مسائل 2040 کے ہدف کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
عالمی سطح پر، جانوروں کی صحت سے متعلق ادارے بیماریوں کی روک تھام کو ایک معاشی، غذائی تحفظ اور صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم، انسانی ویکسین کی پیداوار ایک زیادہ پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے جس کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور مخصوص مہارت درکار ہوتی ہے۔ جنوبی افریقہ میں اس شعبے میں مزید ترقی کے لیے ان رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔
آئی ایم ایف کا مطالبہ 200 یونٹ سے کم بجلی اس
مالیاتی رکاوٹیں اور سرمایہ کاری کی کمی
ویکسین کی تیاری کے لیے بہت بڑے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں تحقیق و ترقی، پیداواری سہولیات کے قیام اور اہلکاروں کی تربیت شامل ہے۔ جنوبی افریقہ میں مقامی کمپنیوں کے پاس اکثر اتنی بڑی سرمایہ کاری کے لیے فنڈز کی کمی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، مغربی افریقی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں چیلنجز بھی مالیاتی رکاوٹوں میں اضافہ کرتے ہیں۔
بین الاقوامی ڈونرز اور مالیاتی اداروں کی جانب سے فنڈنگ اگرچہ موجود ہے، لیکن یہ اکثر ناکافی ہوتی ہے یا مخصوص منصوبوں تک محدود رہتی ہے۔ افریقہ کو ویکسین کی خود کفالت حاصل کرنے کے لیے اپنی فنڈنگ کی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوگا۔ صرف حکومت پر انحصار کافی نہیں ہوگا؛ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرنا ناگزیر ہے۔
تکنیکی مہارت اور انفراسٹرکچر کی خامی
ویکسین کی پیداوار ایک انتہائی تکنیکی اور پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے جدید ترین لیبارٹریز، تربیت یافتہ سائنسدانوں اور انجینئرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ جنوبی افریقہ اور دیگر افریقی ممالک میں اکثر اس سطح کی تکنیکی مہارت اور انفراسٹرکچر کی کمی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، جدید ادویات کی مینوفیکچرنگ کی توسیع بھی ضروری ہے۔
سائنسدانوں اور ریسرچرز کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو کہ تحقیق اور ترقی کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ انفراسٹرکچر کی بہتری کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ ویکسین کی پیداوار کے لیے مطلوبہ معیار اور ریگولیٹری معیارات کو پورا کرنے کے لیے موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنا ایک مہنگا اور وقت طلب کام ہے۔
ایران کا یورینیم ذخیرہ ملک کے اندر ہی رہے
ریگولیٹری اور پالیسی کے چیلنجز
افریقی ممالک میں ویکسین کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے مضبوط اور ہم آہنگ ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت ہے۔ موجودہ وقت میں، مختلف ممالک میں ریگولیٹری معیارات مختلف ہیں، جو ویکسین کی منظوری اور تقسیم میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، افریقی دوا ساز کمپنیوں کو مختلف ممالک میں علیحدہ علیحدہ منظوری کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جو لاگت اور وقت دونوں میں اضافہ کرتا ہے۔
افریقہ میڈیسن ایجنسی (AMA) ایک پین افریقی ریگولیٹری ادارہ ہے جس کا مقصد افریقی ممالک میں طبی قوانین کو معیاری بنانا ہے۔ یہ ادارہ اس سمت میں ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے مکمل فعال ہونے اور اس کے فیصلوں کو تمام رکن ممالک میں تسلیم کیے جانے میں ابھی وقت لگے گا۔ پالیسیوں کی مناسب تشکیل اور ان پر عمل درآمد بھی انتہائی ضروری ہے۔
| چیلنج | وضاحت |
|---|---|
| سرمایہ کاری کی کمی | ویکسین کی تحقیق، ترقی اور پیداوار کے لیے درکار بھاری مالی وسائل کی دستیابی کا فقدان۔ |
| تکنیکی مہارت کا فقدان | ماہر سائنسدانوں، انجینئرز اور تکنیکی عملے کی کمی، جو جدید ویکسین کی تیاری کے لیے ضروری ہے۔ |
| انفراسٹرکچر کی خامی | جدید لیبارٹریز، پیداواری سہولیات اور تقسیم کے نظام کی عدم موجودگی یا ناکافی حالت۔ |
| ریگولیٹری عدم ہم آہنگی | افریقی ممالک کے درمیان ویکسین کی منظوری اور معیارات میں یکسانیت کا فقدان، جو تجارت اور رسائی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ |
| سیاسی عزم کا تسلسل | ویکسین کی خود کفالت کے لیے طویل مدتی سیاسی عزم اور پالیسیوں کے تسلسل کا چیلنج۔ |
بین الاقوامی شراکت داری اور تعاون کی اہمیت
افریقہ کے لیے 2040 تک ویکسین کی خود کفالت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری اور تعاون انتہائی اہم ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 2021 سے اس اقدام کی حمایت کے لیے 1.3 بلین یورو کی یورپی فنڈنگ کا ذکر کیا ہے، لیکن مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ اور افریقی یونین نے بھی اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ ورکنگ گروپ کے ذریعے اعلیٰ معیار کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو آگے بڑھایا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) اور Gavi جیسے ادارے افریقہ میں ویکسین کی فراہمی اور پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ نائجیریا کو ایم پاکس کے خلاف ویکسین کی 10,000 خوراکیں ملنا ایک مثبت قدم ہے جو بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
سبق نہ سیکھا تو ایران کا وجود باقی نہیں
اس تعاون میں تکنیکی معلومات کی منتقلی، تربیت کے مواقع اور مالی امداد شامل ہونی چاہیے۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ افریقی ممالک نہ صرف ویکسین تیار کر سکیں بلکہ تحقیق و ترقی میں بھی حصہ لے سکیں۔
آبنائے ہرمز میں ٹول کے نظام سے امریکہ ای
کامیابی کی راہیں: ممکنہ حل اور حکمت عملیاں
افریقہ کو 2040 تک ویکسین کی خود کفالت حاصل کرنے کے لیے جامع اور کثیر جہتی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ یہ حکمت عملیاں مقامی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، مالیاتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور ریگولیٹری ماحول کو بہتر بنانے پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ براعظم کو اپنے وسائل کو یکجا کرنا ہوگا اور ایک واحد مارکیٹ کے طور پر کام کرنا ہوگا۔
- مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا: افریقی حکومتوں اور نجی شعبے کو ویکسین کی پیداوار میں سرمایہ کاری کے لیے ترغیبات فراہم کرنی چاہئیں۔ یہ مالیاتی فوائد، ٹیکس میں چھوٹ اور آسان قرضوں کی فراہمی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔
- تکنیکی منتقلی اور تربیت: بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تکنیکی معلومات اور مہارت کی منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔ اس میں افریقی سائنسدانوں اور ماہرین کی تربیت شامل ہے۔
- مضبوط ریگولیٹری فریم ورک: افریقہ میڈیسن ایجنسی (AMA) کو فعال اور موثر بنایا جائے تاکہ ویکسین کی منظوری کا عمل تیز اور ہموار ہو سکے۔
- پین افریقی نقطہ نظر: براعظم کو ایک واحد مارکیٹ کے طور پر دیکھنا چاہیے تاکہ ویکسین کی پیداوار اور تقسیم میں پیمانے کی معیشتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
آواز سے آگ بجھانا جیف کی جدید اور محفوظ
اس کے علاوہ، تحقیق و ترقی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا ضروری ہے تاکہ افریقہ اپنی مخصوص بیماریوں کے لیے ویکسین تیار کر سکے۔ تحقیق میں نمایاں پیش رفت چائلڈ ہیلتھ ریسرچ کونسل جینومکس پلیٹ فارم افریقہ کے اندر جدت طرازی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
ایف بی آر شارٹ فال ٹیکس ہدف میں کمی کیلئے
مستقبل کے امکانات اور افریقی یونین کا کردار
افریقی یونین اور افریقہ سی ڈی سی نے ویکسین کی خود کفالت کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کیا ہے۔ ان کے اقدامات میں Partnerships for African Vaccine Manufacturing (PAVM) کا قیام شامل ہے، جس کا مقصد 2040 تک براعظم کی ویکسین کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا ہدف ہے جو نہ صرف صحت کو بہتر بنائے گا بلکہ اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دے گا۔
افریقی یونین کے حتمی مقاصد میں ایک واحد کرنسی اور مشترکہ دفاعی افواج کی تشکیل کے ساتھ ساتھ جمہوریت، انسانی حقوق اور ایک قابل برداشت معیشت کا استحکام بھی شامل ہے۔ ویکسین کی خود کفالت ان وسیع تر مقاصد کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس کے لیے تمام افریقی ممالک کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا اور طویل مدتی منصوبوں پر ثابت قدمی سے عمل کرنا ہوگا۔
صبا فیصل گھریلو خواتین شوہر جاسوسی بیا
2040 تک افریقہ کا ویکسین کی 60 فیصد ضروریات کو پورا کرنا ایک قابل حصول ہدف ہو سکتا ہے اگر تمام چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جائے۔ اس کے لیے مستقل سیاسی عزم، کافی مالی سرمایہ کاری، تکنیکی مہارت کی ترقی اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ افریقی ممالک کو صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنانا ہوگا تاکہ تیار کردہ ویکسین کو عوام تک پہنچایا جا سکے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ بی بی سی اردو کی رپورٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
افریقہ کا 2040 تک اپنی ویکسین کی 60 فیصد ضروریات کو پورا کرنے کا ہدف ایک اہم اور ضروری اقدام ہے جو براعظم کی صحت اور خود مختاری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ جنوبی افریقی کمپنیوں اور مجموعی طور پر براعظم کو مالیاتی، تکنیکی اور ریگولیٹری سمیت کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
مضبوط سیاسی عزم، مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری، تکنیکی مہارت کی منتقلی، اور ایک مربوط پین افریقی نقطہ نظر ان چیلنجز پر قابو پانے میں مدد کر سکتا ہے۔ ان مشترکہ کوششوں سے ہی افریقہ نہ صرف ویکسین کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکے گا بلکہ مستقبل میں صحت کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے بھی زیادہ لچکدار بنے گا۔
