مقبول خبریں

ماسکو فارمیٹ اجلاس 2026: افغانستان کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر مؤثر مشاورت

ماسکو فارمیٹ اجلاس، افغانستان کی پیچیدہ صورتحال اور وسیع تر علاقائی سلامتی کے خدشات پر اہم مشاورت کے لیے ایک کلیدی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ یہ فارمیٹ خطے کے ممالک کو افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے اپنے نقطہ نظر کو ہم آہنگ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سال 5 اکتوبر 2026 کو منعقد ہونے والا آٹھواں ماسکو فارمیٹ اجلاس، علاقائی تعاون اور مشترکہ حکمت عملیوں کی تشکیل کی کوششوں میں ایک مؤثر قدم تھا۔

اس اجلاس کا بنیادی مقصد افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا، علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات کا جائزہ لینا اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔ اس پلیٹ فارم پر ہونے والی بات چیت خطے کے لیے دور رس نتائج کی حامل ہے۔

پاکستانی افواج کی دفاعی کامیابیاں

ماسکو فارمیٹ کی اہمیت اور اس کا ارتقاء

ماسکو فارمیٹ مشاورت ایک کثیر الجہتی طریقہ کار ہے جسے 2017 میں افغانستان کے مسئلے پر علاقائی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ روس نے اس پلیٹ فارم کو برقرار رکھا ہے تاکہ یوریشیا بھر کے اپنے شراکت داروں کو اکٹھا کیا جا سکے، جو افغانستان کے بارے میں مختلف نقطہ نظر رکھنے کے باوجود، اس ملک کے اندر اور اس کے ارد گرد کی صورتحال پر اپنے خیالات اور خدشات کا تبادلہ کر سکیں۔

یہ فارمیٹ افغانستان میں قومی مفاہمت کی حمایت اور امن کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ اس نے علاقائی ممالک کو افغان امن عمل کے لیے عملی طریقہ کار کو مربوط کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں ترقی

افغانستان کی موجودہ صورتحال: علاقائی چیلنجز

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، ملک کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں سکیورٹی کی صورتحال، انسانی بحران، اور ایک جامع سیاسی ڈھانچے کی تشکیل شامل ہیں۔ علاقائی ممالک ان چیلنجز کے علاقائی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں گہری تشویش رکھتے ہیں۔

دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششیں بڑھانا بھی ماسکو فارمیٹ مشاورت کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا عزم بھی اس اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہوتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال

اجلاس کے اہم شرکاء اور ان کے موقف

ماسکو فارمیٹ کے 8ویں اجلاس میں افغانستان، روس، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندوں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ بیلاروس اور مصر کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا۔

اس اجلاس میں شریک تمام ممالک نے افغانستان کے ایک آزاد، متحد اور پرامن ریاست کے طور پر ترقی کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کابل کو انسداد دہشت گردی اور منشیات کے خلاف کوششوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے اپنی تیاری کا اظہار کیا۔

  • روس: روس نے افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا۔
  • پاکستان: پاکستان نے افغانستان سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر سرحد پار دہشت گردی اور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو نظرانداز نہ کرنے کے موقف پر زور دیا۔
  • افغانستان (طالبان): طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اجلاس میں اپنے وفد کی قیادت کی اور ملک کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

پاکستان کا وسطی ایشیائی ممالک سے تجارتی تعاون

پہلو تفصیل
سیاسی تعاون افغانستان اور علاقائی ممالک کے درمیان سیاسی و اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا۔
انسداد دہشت گردی افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے اور ان کی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد۔
اقتصادی رابطہ افغانستان کو شامل کرتے ہوئے علاقائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو فروغ دینا اور اقتصادی و تجارتی تبادلے بڑھانا۔
انسانی امداد افغانستان کے لیے بین الاقوامی انسانی امداد کی اہمیت پر زور دینا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
جامع حکومت افغانستان میں تمام نسلی گروہوں کو شامل کرنے والے ایک جامع سیاسی ڈھانچے کی تشکیل کے ذریعے دیرپا استحکام حاصل کرنا۔

علاقائی سلامتی پر اثرات اور مشترکہ کوششیں

افغانستان کی سکیورٹی صورتحال کے علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عدم استحکام، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے مسائل سرحد پار پھیلے ہوئے ہیں، جو پڑوسی ممالک کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔

ماسکو فارمیٹ ایسے معاملات پر علاقائی ہم آہنگی اور مشترکہ کوششوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انسداد دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام میں تعاون بڑھانا اس مشاورت کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔

اس طرح کے اجلاسوں کا مقصد علاقائی سطح پر بات چیت کے ذریعے ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے جو افغانستان کی صورتحال سے پیدا ہوتے ہیں۔ روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی رابطوں پر زور دیا ہے۔

ایران کے دفاعی ہتھیار

پاکستان کا کردار اور خدشات

پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا سب سے بڑا خواہشمند ہے۔ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود مسلح گروہوں اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

پاک افغان تعلقات میں مسلسل تناؤ کے باعث ماسکو اجلاس کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور باہمی اختلافات پر علاقائی سطح پر بات چیت کا ایک اور موقع ملا۔

پاکستانی وفد کی قیادت افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق خان نے کی۔ پاکستانی حکام افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے افغان حکام کے ساتھ قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

آذربائیجان میں سیاسی استحکام

طالبان حکومت کا موقف اور بین الاقوامی توقعات

افغان طالبان کی جانب سے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ماسکو اجلاس میں شرکت کی۔ افغان حکام کا موقف ہے کہ وہ ملک میں سکیورٹی کو یقینی بنانے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم، بین الاقوامی برادری کی جانب سے طالبان سے ایک جامع سیاسی ڈھانچہ قائم کرنے، انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرنے، اور افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ جاری ہے۔

طالبان حکام نے بین الاقوامی برادری سے افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر نئی حکومت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کی حمایت نہیں کی گئی تو افغانستان میں سکیورٹی کو خطرہ پہنچانے والے گروہ مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

افغان کرکٹ میں گل بدین نائب کا کردار

اقتصادی تعاون اور ترقی کے امکانات

ماسکو فارمیٹ کے اجلاس میں افغانستان اور علاقائی ممالک کے درمیان سیاسی و اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر بھی غور کیا گیا۔ علاقائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے جن میں افغانستان بھی شامل ہے، اور اقتصادی و تجارتی تبادلے کو مزید فروغ دینا ایک امید افزا پہلو ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے افغانستان کے لیے بین الاقوامی انسانی امداد کی اہمیت کو بھی نوٹ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ امداد سیاسی محرکات پر مبنی نہیں ہونی چاہیے۔ افغانستان کی معیشت کی بحالی اور ترقی کے لیے علاقائی ممالک کا تعاون نہایت ضروری ہے۔

طویل مدتی اور پرجوش منصوبے جیسے ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت (TAPI) گیس پائپ لائن یا ٹرانس-افغان ریلوے روڈ، جن میں روسی کمپنیاں بھی دلچسپی رکھتی ہیں، ابھی دور رس ہیں۔ تاہم، یہ علاقائی اقتصادی انضمام کے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔

مشہور شخصیات اور تفریحی خبریں

آگے کا راستہ: چیلنجز اور مواقع

ماسکو فارمیٹ کی مشاورت افغانستان کے مسئلے پر علاقائی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ تاہم، اس کے راستے میں چیلنجز بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، 2026 کے اجلاس میں افغان اور پاکستانی نمائندوں کے درمیان مشترکہ بیان کے مسودے پر اختلافات کی وجہ سے کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں ہو سکا۔

روسی حکام نے واضح کیا کہ ماسکو فارمیٹ کا بنیادی مقصد علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے نہ کہ دوطرفہ تنازعات کو حل کرنا۔ یہ پلیٹ فارم مذاکرات اور سیاسی رابطوں کے ذریعے اختلافات کو کم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

آگے کا راستہ مستقل بات چیت، لچکدار سفارت کاری اور مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز کرنے میں پنہاں ہے۔ افغانستان میں پائیدار امن صرف تب ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جب تمام علاقائی فریقین ایک دوسرے کے خدشات کو سمجھتے ہوئے جامع اور پائیدار حل کی تلاش میں ہوں۔

دیہی خواتین کو بااختیار بنانا

افغانستان کی صورتحال پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تشویش برقرار ہے، اور ماسکو فارمیٹ جیسے پلیٹ فارم ان خدشات کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ روس، چین اور ایران جیسے ممالک خطے میں امریکی موجودگی کے بغیر استحکام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
ڈان نیوز کی رپورٹ

نتیجہ

ماسکو فارمیٹ اجلاس افغانستان کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر اہم مشاورت کے لیے ایک ضروری پلیٹ فارم ہے۔ 2026 کا آٹھواں اجلاس، اگرچہ مشترکہ بیان کے بغیر اختتام پذیر ہوا، اس نے علاقائی ممالک کو اپنے خدشات اور ترجیحات کا تبادلہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کے لیے علاقائی اتفاق رائے اور مشترکہ حکمت عملیوں کی ضرورت آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی پہلے تھی۔