مریخ پر زلزلہ، جسے ‘مارس کویکس’ بھی کہا جاتا ہے، سائنسدانوں کے لیے طویل عرصے سے تحقیق کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی نئی تحقیقات نے سرخ سیارے پر چٹانوں کے لڑھکنے کے پیچھے کی حیرت انگیز ممکنہ وجوہات کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ دریافتیں مریخ کی ارضیاتی سرگرمی اور اس کے ارتقاء کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہیں۔
ناسا کے انزائٹ لینڈر نے مریخ پر اترنے کے بعد ہزاروں مارس کویکس کا پتا لگایا، جن میں سے کئی کی شدت اتنی تھی کہ وہ چٹانوں کو لڑھکانے کا سبب بن سکتے تھے۔ ان زلزلوں کے بعد لی گئی ہائی ریزولوشن تصاویر میں سینکڑوں نئے نشانات پائے گئے جو لڑھکنے والی چٹانوں نے چھوڑے تھے، یہ ستمبر 2024 میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا۔
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی پوسٹیں تباہ کر دیں
مریخ کے زلزلوں کی نوعیت اور ان کا پتہ لگانا
مریخ پر زلزلے زمین کے زلزلوں سے مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ زمین پر زلزلے ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت سے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ مریخ کی پرت ایک ٹھوس پلیٹ پر مشتمل ہے۔ مریخ کے زلزلے زیادہ تر سیارے کے اندرونی حصے کے آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے کریکس (faults) کے نتیجے میں آتے ہیں۔
ناسا کے انزائٹ لینڈر نے 2018 میں مریخ کی سطح پر اترنے کے بعد سے 1,300 سے زیادہ مارس کویکس کا پتہ لگایا۔ یہ لینڈر مریخ کی ارضیاتی سرگرمی کو سمجھنے کے لیے ایک سیسمومیٹر کا استعمال کرتا تھا، جس نے سیارے کے گہرے ڈھانچے کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
جناح اسپتال نے کینسر کے علاج میں اہم سنگ میل عبور کر لیا
ان زلزلوں میں سے سب سے بڑا زلزلہ مئی 2022 میں ریکارڈ کیا گیا تھا جس کی شدت تقریباً 5 تھی۔ سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر اس زلزلے کی وجہ کسی شہاب ثاقب کے ٹکرانے کو سمجھا تھا، لیکن بعد میں کی گئی تحقیق سے پتا چلا کہ یہ زلزلہ ٹیکٹونک سرگرمی کا نتیجہ تھا۔
- P-لہریں (Primary Waves): یہ سب سے تیز لہریں ہوتی ہیں جو ٹھوس، مائع اور گیس سے گزر سکتی ہیں۔ یہ سیسمومیٹر پر سب سے پہلے پہنچتی ہیں اور زلزلے کے مقام اور حجم کے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کرتی ہیں۔
- S-لہریں (Secondary Waves): یہ P-لہروں سے سست ہوتی ہیں اور صرف ٹھوس مواد سے گزر سکتی ہیں۔ یہ زلزلے کے ماخذ کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہیں۔
- سطحی لہریں (Surface Waves): یہ لہریں سیارے کی سطح پر سفر کرتی ہیں اور عموماً سب سے زیادہ تباہ کن ہوتی ہیں۔
تربوز کھانے والوں کے لیے خوشخبری، نئی تحقیق
زلزلوں اور چٹانوں کے لڑھکنے کا تعلق
جس طرح زمین پر زلزلے چٹانوں کے گرنے کا سبب بنتے ہیں، اسی طرح مریخ پر بھی مارس کویکس چٹانوں کو لڑھکنے کا باعث بنتے ہیں۔ سائنسی شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مریخ پر آنے والے زلزلوں کے جھٹکے بڑے پتھروں کو ڈھلوانوں سے نیچے گرانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ انزائٹ لینڈر سے حاصل کردہ ڈیٹا اور مریخ کی ہائی ریزولوشن تصاویر نے اس تعلق کو مزید واضح کیا ہے۔
مریخ کی سطح پر چٹانوں کے لڑھکنے سے بننے والے ہزاروں ٹریکس کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ یہ ٹریکس خاص طور پر ‘سربیرس فوسا’ (Cerberus Fossae) نامی علاقے میں زیادہ نمایاں ہیں، جو کہ مریخ کا ایک آتش فشاں علاقہ ہے۔ یہ علاقہ مریخ پر سب سے مضبوط زلزلوں کا مرکز بھی رہا ہے۔
ایران سے مذاکرات کے لیے ٹرمپ نے حملوں میں نرمی کر دی
ممکنہ وجوہات: برف اور تھرمل دباؤ
مریخ پر چٹانوں کے لڑھکنے کی وجوہات صرف زلزلوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں دیگر قدرتی عوامل بھی شامل ہیں۔ کشش ثقل، کھڑی ڈھلوانیں، ڈھیلی مٹی، تیز ہوائیں، درجہ حرارت میں تبدیلیاں اور موسمی ٹھنڈ بھی چٹانوں کی حرکت میں معاون ہو سکتی ہیں۔ یہ عوامل وقت کے ساتھ ساتھ مریخ کے مناظر کو متحرک رکھتے ہیں۔
ایک اہم عنصر تھرمل دباؤ (Thermal Stress) ہے جو مریخ پر چٹانوں کی حرکت میں کردار ادا کرتا ہے۔ مریخ پر درجہ حرارت میں شدید اتار چڑھاؤ ہوتا ہے، جس سے چٹانوں میں پھیلاؤ اور سکڑاؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس مسلسل تبدیلی کی وجہ سے چٹانوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں اور وہ کمزور ہو کر گر سکتی ہیں۔
| عامل | مریخ پر اثر |
|---|---|
| زلزلے (مارس کویکس) | چٹانوں کو ڈھیلا کرکے ڈھلوانوں سے گرنے کا سبب بنتے ہیں۔ |
| کشش ثقل | ڈھلوانوں پر موجود چٹانوں کو نیچے کی طرف حرکت دیتی ہے۔ |
| تھرمل دباؤ (درجہ حرارت میں تبدیلی) | چٹانوں میں دراڑیں پیدا کرتا اور انہیں کمزور کرتا ہے۔ |
| ہوائیں اور مٹی کا کٹاؤ | چٹانوں کی سطح کو رگڑتا ہے اور انہیں بے ثبات کرتا ہے۔ |
| برف کا پگھلنا اور جمنا | چٹانوں کے اندرونی حصوں میں دباؤ پیدا کرکے انہیں توڑ سکتا ہے۔ |
2026 میں امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی
مریخ پر پانی کی برف کی موجودگی بھی چٹانوں کے استحکام کو متاثر کرتی ہے۔ قطبی علاقوں اور زمین کی سطح کے قریب بڑی مقدار میں پانی کی برف موجود ہے۔ جب یہ برف پگھلتی اور جمتی ہے، تو یہ چٹانوں کے اندرونی حصوں میں دباؤ پیدا کر سکتی ہے، جس سے وہ ٹوٹ سکتی ہیں اور لڑھک سکتی ہیں۔
ہانیہ عامر نے اپنی جعلی ڈھولکی کی حقیقت بتا دی
انزائٹ لینڈر کی تحقیق اور اہم دریافتیں
ناسا کے انزائٹ لینڈر (InSight Lander) نے مریخ کی ارضیاتی ساخت اور اس پر آنے والے زلزلوں کے بارے میں بے شمار قیمتی معلومات فراہم کیں۔ اس نے 1,300 سے زیادہ مارس کویکس ریکارڈ کیے جن میں سے کچھ کی شدت خاصی زیادہ تھی۔ یہ ڈیٹا سائنسدانوں کو سیارے کی اندرونی ساخت اور اس کی ارضیاتی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
انزائٹ کے سیسمومیٹر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مریخ کی پرت (crust) تین ذیلی تہوں پر مشتمل ہے، جو زمین کی پرت سے ملتی جلتی ہے۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مریخ کے زلزلے عموماً 30 سے 50 کلومیٹر کی گہرائی میں رونما ہوتے ہیں، جو کہ زمین کے زلزلوں کے مقابلے میں کافی گہرے ہوتے ہیں۔
وسیم عباس نے رجب بٹ اور فہد مصطفیٰ کے تنازعے پر ردعمل دے دیا
شہاب ثاقب کے ٹکرانے سے بھی مریخ پر زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ انزائٹ نے ستمبر 2021 میں ایک شہابیے کے ٹکرانے کے اثرات کو ریکارڈ کیا، جس کے نتیجے میں تین نئے گڑھے بنے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مریخ مسلسل بیرونی اجسام کی زد میں ہے، اور ان اثرات سے بھی سطح پر چٹانیں متاثر ہوتی ہیں۔
تہران، پاسداران انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کو بھگا دیا
مریخ کی ارضیاتی سرگرمی اور مستقبل کی تحقیق
مریخ کو طویل عرصے سے ایک ارضیاتی طور پر غیر فعال سیارہ سمجھا جاتا تھا، لیکن انزائٹ لینڈر کے ڈیٹا نے اس سوچ کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ واضح ہے کہ مریخ پر اب بھی فالٹس موجود ہیں جو فعال ہیں اور سیارے کا اندرونی حصہ آہستہ آہستہ سکڑ اور ٹھنڈا ہو رہا ہے، جس سے اس کی پرت میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔
مریخ کی ارضیاتی سرگرمی کو سمجھنا نہ صرف سیارے کی اپنی تاریخ کے لیے اہم ہے بلکہ یہ نظام شمسی کے دیگر چٹانی سیاروں کی تشکیل اور ارتقاء کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے مشن، جیسے کہ پرسیویرنس روور، مریخ کی سطح پر مزید چٹانوں اور مٹی کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
بلال قریشی نے شوبز انڈسٹری کے رویوں پر سخت تنقید کر دی
یہ تحقیقات مستقبل میں انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کے منصوبوں کے لیے بھی ضروری ہیں، کیونکہ یہ سیارے پر ممکنہ خطرات اور وسائل کو سمجھنے میں مدد دیں گی۔ مریخ کے قطبی علاقوں میں موجود برف میں اس کے موسمیاتی ماضی کے اہم ریکارڈز محفوظ ہیں جو یہ جاننے میں مدد دے سکتے ہیں کہ آیا مریخ پر کبھی زندگی ممکن تھی یا نہیں۔ مزید معلومات کے لیے آپ ڈان نیوز کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔
نتیجہ
مریخ پر زلزلے اور چٹانوں کا لڑھکنا سیارے کی متحرک ارضیاتی سرگرمی کا حصہ ہیں۔ انزائٹ لینڈر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات نے چٹانوں کے لڑھکنے کی وجوہات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جہاں زلزلوں، کشش ثقل، تھرمل دباؤ اور برف کی موجودگی جیسے عوامل شامل ہیں۔ یہ دریافتیں مریخ کے اسرار کو کھولنے اور انسانیت کے لیے خلائی تحقیق کے نئے دروازے کھولنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
