مقبول خبریں

اے آئی کمپنیوں کے خلاف عالمی کاپی رائٹ اتحاد: 40+ میڈیا اداروں کی سنگین جنگ 2024-2026

اے آئی کمپنیوں کے خلاف ایک عالمی کاپی رائٹ اتحاد تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے، جس میں اب 40 سے زائد بڑے میڈیا ادارے شامل ہو چکے ہیں۔ یہ اتحاد مصنوعی ذہانت (AI) کی کمپنیوں کے ہاتھوں صحافتی مواد کے غیر مجاز استعمال کو روکنے کے لیے ایک سنگین جنگ لڑ رہا ہے اور ناشرین کے حقوق کا تحفظ چاہتا ہے۔ یہ اقدام اس بڑھتی ہوئی تشویش کا عکاس ہے کہ AI ماڈلز کی تربیت کے لیے میڈیا کے قیمتی مواد کو بغیر اجازت استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے صحافت کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہے۔

یہ تنازعہ اس وقت زور پکڑ رہا ہے جب میڈیا ادارے اپنے مواد کی چوری اور اس سے ہونے والے مالی نقصانات کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اعلیٰ معیار کی صحافت کو تسلیم کیا جائے اور اس کا منصفانہ معاوضہ ادا کیا جائے جو AI سسٹمز کی بنیاد بنتی ہے۔

قذافی اسٹیڈیم میں فائنل سے قبل رنگا رنگ تقریب

“اسپر” اتحاد کا قیام اور بنیادی مقاصد

اس عالمی کاپی رائٹ اتحاد کو ایس پی یو آر (Standards for Publisher Usage Rights – SPUR) کا نام دیا گیا ہے، جسے رواں سال فروری میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے قیام کا مقصد مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو صحافتی مواد کو اجازت کے بغیر استعمال کرنے سے روکنا ہے۔ اتحاد میں ابتدائی طور پر بی بی سی، فنانشل ٹائمز اور ایسوسی ایٹڈ پریس جیسے بڑے ادارے شامل تھے۔

حال ہی میں، اس اتحاد میں نیویارک ٹائمز، دی اکانومسٹ اور خبر رساں ادارے اے ایف پی سمیت 40 سے زائد نئے میڈیا ادارے شامل ہوئے ہیں۔ اس نئی توسیع کے بعد اتحاد میں شریک ناشرین کی تعداد تقریباً دوگنی ہو کر 80 سے زائد ہو گئی ہے اور یہ 20 سے زیادہ ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔

نیپرا فکسڈ چارجز بجلی کے بلوں میں نئے اضافے کا سبب

اتحاد کا بنیادی مقصد میڈیا اداروں کو اپنے صحافتی مواد کے استعمال کا سراغ لگانے، کاپی رائٹ کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے اور چیٹ جی پی ٹی و کلاڈ جیسی مصنوعی ذہانت کی خدمات تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے لیے مذاکرات میں مدد دینا ہے۔ یہ کوشش ایک منصفانہ اور پائیدار معلوماتی معیشت کے قیام کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

مواد کے غیر مجاز استعمال کی بڑھتی ہوئی لہر

مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں اپنے بڑے لسانی ماڈلز (Large Language Models) کو تربیت دینے کے لیے عوامی طور پر دستیاب مواد کو استعمال کرتی ہیں۔ اس مواد میں صحافتی مضامین، خبریں، تجزیے اور آراء شامل ہوتی ہیں جو بغیر اجازت اور معاوضے کے حاصل کیے جاتے ہیں۔ میڈیا اداروں کا مؤقف ہے کہ یہ عمل نہ صرف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ان کی آمدنی کے ذرائع کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

AI سے تیار کردہ خلاصے اکثر اصل مضامین کا متبادل بن جاتے ہیں، جس سے صارفین کو اصل ویب سائٹس پر جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کے نتیجے میں میڈیا اداروں کی ویب سائٹس پر ٹریفک میں کمی آتی ہے، جو ان کی اشتہاری اور سبسکرپشن آمدنی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ یہ عمل عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ AI اکثر اصل ذرائع کا حوالہ نہیں دیتا یا غلط معلومات کو اصلی مواد کے طور پر پیش کرتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے میشا شفیع کی اپیل پر علی ظفر کو نوٹس جاری کر دیا

عالمی میڈیا اداروں کے اہم تحفظات اور موقف

میڈیا اداروں کا بنیادی موقف یہ ہے کہ اعلیٰ معیار کی صحافت مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ AI سسٹمز جو معلومات پیدا کرتے ہیں، ان کا بڑا حصہ صحافیوں کی جمع کردہ اور تصدیق شدہ معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لیے، اصل صحافتی کام کو تسلیم کرنا، اس کا حوالہ دینا اور اس کا منصفانہ معاوضہ ادا کرنا انتہائی ضروری ہے۔

دی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، مواد کے استعمال کا سراغ لگانے کا معاملہ صرف دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) تک محدود نہیں ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر AI سسٹم غلط یا بغیر کریڈٹ کے معلومات فراہم کرتے رہیں تو عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے اور غلط معلومات کا پھیلاؤ بڑھ سکتا ہے۔

تنزانیہ میں جدید کرکٹ اسٹیڈیم عالمی معیار کے مقابلوں کی میزبانی کے لیے تیار

ڈیجیٹل پبلشنگ کو شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا ہے، جیسا کہ 2024 کے آخر سے 2025 کے آخر تک گوگل نامیاتی تلاش سے حوالہ جاتی ٹریفک میں عالمی سطح پر 33 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ کمی AI سے تیار کردہ سرچ اوور ویوز اور چیٹ ایجنٹس کی وجہ سے ہے جو صارفین کو سرچ پلیٹ فارمز پر ہی روکے رکھتے ہیں۔

نمایاں میڈیا ادارہ اہم تحفظات/قانونی کارروائی
نیویارک ٹائمز (The New York Times) OpenAI اور Microsoft کے خلاف دسمبر 2023 میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ۔
نیوز کارپوریشن (News Corp) اکتوبر 2024 میں Perplexity AI کے خلاف مقدمہ۔ جولائی 2026 میں Brave AI کے خلاف مقدمہ۔
یو ایس اے ٹوڈے (USA Today) اکتوبر 2026 میں OpenAI کے خلاف $250 ملین سے زائد کا کاپی رائٹ مقدمہ۔
ایجنس فرانس پریس (AFP) SPUR اتحاد کا حصہ اور AI کمپنیوں سے منصفانہ معاوضے کا مطالبہ۔
بی بی سی (BBC) SPUR کے بانی اراکین میں شامل، AI کے غیر مجاز استعمال کے خلاف موقف۔

موجودہ قانونی چیلنجز اور عدالتی پیش رفت

مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے خلاف قانونی چیلنجز میں شدت آ رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے دسمبر 2023 میں OpenAI اور Microsoft کے خلاف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ ان کمپنیوں نے لاکھوں مضامین کو AI ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔ اس مقدمے میں Microsoft کے ایک ڈائریکٹر نے اس عمل کو “غیر معمولی پیمانے پر چوری” قرار دیا۔

اسی طرح، نیوز کارپوریشن نے اکتوبر 2024 میں Perplexity AI اور جولائی 2026 میں Brave AI کے خلاف مقدمات دائر کیے ہیں۔ ان مقدمات میں الزام ہے کہ AI سرچ انجن اور چیٹ بوٹس نے نیوز کارپوریشن کے کاپی رائٹ شدہ مواد کی بڑے پیمانے پر چوری کی اور اسے اپنے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے استعمال کیا۔ ان مقدمات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ Perplexity AI “جعلی خبریں” بھی پیدا کرتا ہے اور وال سٹریٹ جرنل کے حوالے سے من گھڑت کہانیاں تخلیق کرتا ہے۔

کلاڈ 4: اے آئی مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک انقلاب

یو ایس اے ٹوڈے اور اس سے منسلک 18 اشاعتی اداروں نے بھی اکتوبر 2026 میں OpenAI کے خلاف 250 ملین ڈالر سے زائد کا کاپی رائٹ مقدمہ دائر کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ OpenAI نے سینکڑوں ہزاروں مضامین کو اجازت کے بغیر کاپی کیا اور انہیں اپنے GPT ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔ یہ مقدمات ان قانونی حدود کو واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ AI کمپنیاں کس طرح کاپی رائٹ شدہ مواد کو استعمال کر سکتی ہیں۔

اے آئی کمپنیوں کا ردعمل اور صنعت پر اثرات

اے آئی کمپنیاں اکثر “منصفانہ استعمال” (Fair Use) کے اصول کا دفاع کرتی ہیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ان کے ماڈلز کی تربیت کے لیے مواد کا استعمال “تبدیلی” (Transformative) نوعیت کا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ مواد کو براہ راست پیش نہیں کرتے بلکہ اسے نئے سرے سے تجزیہ اور ترکیب کرکے ایک نئی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ تاہم، ناشرین کا کہنا ہے کہ AI کی جانب سے تیار کردہ مواد بعض اوقات اصل متن کی نقل ہوتا ہے یا اتنا ملتا جلتا ہوتا ہے کہ اسے “تبدیلی” قرار نہیں دیا جا سکتا۔

OpenAI نے کچھ خبر رساں اداروں کے ساتھ مواد کی لائسنسنگ کے معاہدے بھی کیے ہیں، جن میں وال سٹریٹ جرنل، واشنگٹن پوسٹ اور لی مونڈ شامل ہیں۔ ان معاہدوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ AI کمپنیاں صحافتی مواد کی تجارتی قدر کو تسلیم کرتی ہیں اور اسے استعمال کرنے کے لیے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہیں۔

قدرتی آفات اور تحفظ میں ایران کا کردار

اے آئی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے سسٹمز صحافت اور عام امریکیوں کے لیے ایک مثبت قوت ہیں۔ اس کے باوجود، میڈیا انڈسٹری میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ AI کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مواد کے غیر مجاز استعمال سے صحافت کی مالی پائیداری کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس سے پبلشرز کو اشتہار اور سبسکرپشن آمدنی میں بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے۔

ڈیجیٹل دور میں مواد کی حفاظت: ایک عالمی ضرورت

ڈیجیٹل دور میں مواد کی حفاظت ایک عالمی ضرورت بن چکی ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر۔ SPUR اتحاد نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تکنیکی حل بھی پیش کیے ہیں، جن میں “کونٹینٹ ٹیلی میٹری سٹینڈرڈ” (Content Telemetry Standard) شامل ہے۔ یہ سٹینڈرڈ AI ایجنٹس کے ذریعے میڈیا مواد کے استعمال، انجیسشن اور اس سے ہونے والی آمدنی کو ٹریک کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

کلاؤڈ فلیئر (Cloudflare) جیسی کمپنیوں نے بھی “پے پر کرال” (Pay Per Crawl) جیسے ٹولز متعارف کروائے ہیں، جو پبلشرز کو بوٹس سے مواد تک رسائی کے لیے چارج کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ تکنیکی رکاوٹیں AI کمپنیوں کے لیے غیر مجاز مواد کی سکریپنگ کو کم پرکشش بنا سکتی ہیں، اور قانونی لائسنسنگ کو زیادہ آسان راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔

آئی سی سی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر شاہین آفریدی پر جرمانہ عائد کیا

یہ اقدامات مواد کی ملکیت کے حقوق کو مضبوط بنانے اور تخلیق کاروں کو ان کے کام کا منصفانہ معاوضہ یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں مواد کی حفاظت کے لیے ایک ایسا فریم ورک بنایا جائے جہاں تخلیقی کام کی قدر کو تسلیم کیا جائے اور اسے مناسب طریقے سے معاوضہ دیا جائے۔

پالیسی سازی اور ریگولیٹری فریم ورک کی اہمیت

AI کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر، عالمی سطح پر پالیسی سازی اور ریگولیٹری فریم ورک کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ AI کے بے لگام استعمال سے بچنے اور انسانیت کے مفادات کو محفوظ رکھنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر قوانین بنانا ضروری ہیں۔ امریکی کاپی رائٹ آفس بھی اس مسئلے پر غور کر رہا ہے کہ آیا AI کے نئے دور کے لیے کاپی رائٹ قوانین میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

امریکی کاپی رائٹ آفس کا مؤقف ہے کہ AI کی مدد سے تیار کردہ کام کو اس صورت میں کاپی رائٹ حاصل ہو سکتا ہے جب اس میں کافی حد تک انسانی تخلیقی صلاحیت شامل ہو۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ کاپی رائٹ کے قوانین انسانی تخلیقی کاموں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں 70 سے زائد کاپی رائٹ خلاف ورزی کے مقدمات AI کمپنیوں کے خلاف دائر کیے جا چکے ہیں۔

امریکی فوج کی ایران کے خلاف نئی کارروائی

ان قانونی اور ریگولیٹری کوششوں کا مقصد AI کمپنیوں کو مواد کے غیر مجاز استعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرانا ہے۔ آئی اے بی (Interactive Advertising Bureau) نے “AI اکاؤنٹیبلٹی فار پبلشرز ایکٹ” (AI Accountability for Publishers Act) کی تجویز دی ہے، جو AI کمپنیوں کو مواد سکریپ کرنے سے پہلے واضح اجازت حاصل کرنے کا پابند بنائے گا۔ یہ اقدامات ایک ایسے فریم ورک کی تشکیل میں مدد کر سکتے ہیں جہاں AI ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

بی بی سی اردو: مصنوعی ذہانت کے قانونی اور اخلاقی چیلنجز

آگے کا راستہ: تعاون یا محاذ آرائی؟

میڈیا اور AI کی صنعت کے درمیان تعلق کا مستقبل تعاون یا محاذ آرائی کے درمیان جھول رہا ہے۔ میڈیا ادارے منصفانہ لائسنسنگ معاہدوں کے ذریعے AI سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ قانونی چارہ جوئی بھی ایک اہم حربہ بنی ہوئی ہے۔ یہ جنگ طویل اور مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ناشرین اپنے وجود اور صحافت کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔