سعودی اتحادی افواج نے یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے 127 اسلحہ ڈپو اور میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا ہے، جس کا اعلان اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کیا۔ یہ کارروائیاں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ ان حملوں کا مقصد حوثی ملیشیا کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
یمن کا تنازعہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری ہے، جہاں حوثی ملیشیا اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائیاں کر رہی ہیں تاکہ حوثیوں کے حملوں کو روکا جا سکے اور یمن میں ریاستی اداروں کی بحالی ممکن ہو سکے۔
آپریشن کی تفصیلات اور اہداف
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق، یمن کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی ان فضائی کارروائیوں میں حوثیوں کے 127 اسلحہ ڈپو اور میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے۔ یہ اہداف خاص طور پر صنعاء، صعدہ اور عمران کے پہاڑی علاقوں میں واقع گوداموں میں چھپائے گئے تھے، جنہیں حوثی ملیشیا حملوں کے لیے لانچنگ مراکز کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔
ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا، بالخصوص ان کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک اور ڈرون حملوں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ اتحادی افواج نے واضح کیا ہے کہ وہ یمن کی آئینی حکومت اور عوام کی حمایت جاری رکھیں گی تاکہ حوثی بغاوت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ آپریشنز بین الاقوامی فضائی آمدورفت اور سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی حوثی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔
علاقائی امن و استحکام کی کوششیں
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں حوثیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں، کیونکہ ان کے اہم جنگی وسائل کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تباہ شدہ ذخیرہ گاہیں حوثیوں کو سعودی عرب کے شہروں پر حملے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی تھیں، جن میں ریاض، خمیس مشیط اور ابھا کے ہوائی اڈے شامل ہیں۔
حوثیوں کی عسکری صلاحیتیں اور خطرات
حوثی ملیشیا نے گزشتہ کئی سالوں سے اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے، جس میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال نمایاں ہے۔ یہ ملیشیا اکثر سعودی عرب کے شہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بناتی رہی ہے، جس سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو ہدف بنایا جاتا رہا ہے۔
حال ہی میں، حوثیوں نے اکتوبر 2026 میں کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 20 حملے کیے، جن میں 17 افراد جاں بحق اور 330 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ حملے مصروف اوقات میں کیے گئے، جو مسافروں اور حرمین شریفین کے زائرین کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستوں پر بھی حملے کیے ہیں، جس سے عالمی جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔
حوثیوں کی جانب سے باب المندب کی آبنائے کو نشانہ بنانے کی کوششیں عالمی تجارت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ یہ آبنائے یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کا ایک اہم راستہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ سعودی دفاعی نظام نے حوثیوں کے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنایا ہے۔
| حوثیوں کے حملوں کی اقسام | نشانہ بنائے گئے اہداف |
|---|---|
| بیلسٹک میزائل | شہری آبادیاں، فوجی اڈے، تیل کی تنصیبات |
| دھماکہ خیز ڈرون | ہوائی اڈے، تجارتی مراکز، اہم انفراسٹرکچر |
