مقبول خبریں

ایران کے جزائر قشم اور کیش میں دھماکوں کی اطلاعات، کویت میں خطرے کے سائرن بج گئے: خلیجی کشیدگی میں نیا موڑ

ایران کے جزائر قشم اور کیش میں دھماکوں کی اطلاعات اور کویت میں خطرے کے سائرن بجنے کے واقعات نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں، بالخصوص خلیج فارس کے حساس خطے میں کشیدگی کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ یہ تازہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے جاری فوجی تناؤ میں شدید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بدھ، 15 جولائی 2026 کو سامنے آنے والی ان خبروں نے علاقائی سلامتی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی طاقتوں کو ایک بار پھر اس نازک صورتحال پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

قشم اور کیش کے جزائر پر دھماکے: تفصیلات اور ایرانی ردعمل

گزشتہ چند دنوں سے ایران کے دو اہم اور تزویراتی لحاظ سے حساس جزائر، قشم اور کیش، پر ہونے والے دھماکوں کی خبروں نے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی غیر یقینی بنا دیا ہے۔

  • قشم جزیرے پر حملے اور نقصانات: ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، قشم جزیرے پر متعدد دھماکے ہوئے ہیں۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، اور یہاں ایرانی بحریہ اور پاسداران انقلاب کی اہم فوجی تنصیبات بھی موجود ہیں۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے امریکا کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، قشم جزیرے میں شام 6 بج کر 45 منٹ پر متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ صوبہ ہرمزگان کے گورنر آفس نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ امریکا کی جانب سے کیا گیا۔ ماسان علاقے کو گزشتہ چند دنوں میں کئی بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ تاہم، فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
  • کیش جزیرے پر حملے اور بجلی گھر کو نقصان: جزیرہ کیش پر بھی امریکی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں، جس میں جزیرے کے پاور پلانٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ کیش واٹر اینڈ پاور انجینئرنگ کمپنی کے مطابق، حملے کے دوران ایک گولہ پاور پلانٹ کے قریب آ کر گرا، جس سے بجلی کی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقصان کے باعث بجلی پیدا کرنے والے بعض یونٹس کو عارضی طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، اطلاعات ہیں کہ جزیرے کے بندرگاہی علاقے میں بھی آگ لگی اور کئی غیر فوجی بحری جہازوں کو نقصان پہنچا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جزیرہ کیش پر حملوں کی تصدیق کی ہے، جس کا مقصد جزیرے پر موجود فوجی متعلقہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔ ایرانی حکام نے دھماکوں کی نوعیت اور مکمل نقصانات کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی ہیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

کویت میں خطرے کے سائرن اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیاں

ایران کے جزائر پر حملوں کے ساتھ ہی، خلیج کے دوسرے کنارے پر کویت میں بھی خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

  • فضائی حملوں کا خدشہ اور دفاعی ردعمل: کویت کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام مشتبہ میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف متحرک ہو گیا ہے۔ یہ سائرن امریکی حملوں کے بعد ایرانی جوابی کارروائیوں کے خدشے کے پیش نظر بجے۔ کویتی حکام نے شہریوں کو پرسکون رہنے اور محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی ہے۔ 8 جولائی 2026 کی صبح سویرے بحرین اور کویت کے اوپر فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے، جب ایران نے امریکی سینٹکام کے ایران کی جنوبی ساحلی پٹی پر 80 سے زائد اہداف پر حملوں کے جواب میں میزائل اور ڈرون داغے۔
  • نقصانات کی اطلاعات: ابتدائی طور پر کویت میں امریکی تنصیبات پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی فوری تصدیق نہیں ہوئی تھی، اور یہ کہا گیا تھا کہ جو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے اہداف کو روکنے کی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں۔ تاہم، 15 جولائی 2026 کو آنے والی حالیہ اطلاعات کے مطابق، کویت میں ایک اہم تنصیب پر ایک بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی خبر ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک میزائل حملے کے نتیجے میں ہوا ہے۔ مقامی ذرائع نے کویت کے مختلف حصوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ میڈیا آؤٹ لیٹ صابری نیوز نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ایرانی ڈرون نے کویت کے عبداللہ پورٹ پر ایک امریکی تنصیب کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور کویت میں امریکی فوجی لاجسٹک اور سپورٹ سینٹر کو نشانہ بنایا اور تباہ کیا ہے۔

خلیجی جزائر کی جغرافیائی و اقتصادی اہمیت

قشم اور کیش کے جزائر خلیج فارس میں ایران کے لیے انتہائی تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں، جو انہیں کسی بھی علاقائی تنازع میں اہم اہداف بنا دیتے ہیں۔

  • آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور عالمی تجارت: یہ جزائر آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔ دنیا بھر کے تیل کا تقریباً 20 فیصد اسی آبنائے سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی نازک شریان کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان جزائر پر حملے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں اور عالمی توانائی کی فراہمی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے دعوے اور اس کے بعد دوبارہ کھولے جانے کے باوجود، اس کا کنٹرول عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
  • اقتصادی اور فوجی اہمیت: کیش جزیرہ ایک فری ٹریڈ زون اور تفریحی مقام کے طور پر بھی مشہور ہے۔ ایران نے 2021 میں کیش کو کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فنانس کا علاقائی مرکز بنانے کے منصوبے بھی بنائے تھے، اور 2024 میں مرکزی بینک نے اسے اپنی ڈیجیٹل ریال کے پائلٹ سائٹ کے طور پر منتخب کیا، جس سے اس کی اقتصادی اہمیت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ قشم جزیرے پر ایرانی بحریہ