مقبول خبریں

اسرائیل اور لبنان میں مشروط جنگ بندی کا اعلان: بڑی پیش رفت کے اہم1 نکات

اسرائیل اور لبنان میں مشروط جنگ بندی کا اعلان خطے میں امن کی بحالی کی ایک نئی امید لے کر آیا ہے، تاہم اس کی شرائط، فریقین کے تحفظات اور اس پر عملدرآمد کے چیلنجز اسے ایک پیچیدہ صورتحال بنا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں جس کا مقصد جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کے جزوی انخلا کو یقینی بنانا اور سرحدی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازعات نے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے، اور حالیہ مہینوں میں حالات نے مزید سنگین صورتحال اختیار کر لی تھی جس سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔

یہ مشروط جنگ بندی نہ صرف اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ہے بلکہ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر معاہدوں کے لیے بھی ایک اہم کڑی سمجھی جا رہی ہے۔ ایران نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی وسیع تر معاہدے میں اس وقت تک پیش رفت نہیں کرے گا جب تک لبنان میں جنگ بندی کی ٹھوس ضمانتیں فراہم نہیں کی جاتیں۔ اس تناظر میں، یہ جنگ بندی محض ایک فوجی تعطل سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے؛ یہ خطے کی геоپولیٹیکل حرکیات اور مستقبل میں ممکنہ امن معاہدوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس مضمون میں ہم اس مشروط جنگ بندی کے مختلف پہلوؤں، اس کے پس منظر، فریقین کے مطالبات، بین الاقوامی کوششوں اور مستقبل کے چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

مشروط جنگ بندی کا اعلان اور پس منظر

اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کی ایک طویل تاریخ ہے جو کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ حالیہ تنازع اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد شدت اختیار کر گیا، جب حزب اللہ نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے شروع کیے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے، جس سے جنوبی لبنان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور تقریباً 1.4 ملین لبنانی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ فروری کے آخر میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد، جو امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نتیجہ قرار دی گئی، حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملوں میں مزید شدت لائی۔ اس کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے مختلف علاقوں، خاص طور پر نبطیہ، جزین اور صور میں شدید فضائی حملے کیے، جن میں رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں اور درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

اس بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھنے لگی اور امریکہ نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تیز کیں۔ جون 2026 کے اوائل میں، واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد، امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس جنگ بندی کا مقصد فوری طور پر لڑائی کو روکنا اور خطے میں استحکام لانا تھا۔ ابتدائی طور پر، یہ جنگ بندی قطر، امریکہ اور ایران کی ثالثی میں طے پائی تھی۔ تاہم، اس جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی اس کی “مشروط” نوعیت اور فریقین کے درمیان گہرے تحفظات کھل کر سامنے آ گئے، کیونکہ جنگ بندی کے فوری بعد بھی اسرائیلی حملے جاری رہے۔ لبنان نے مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

تنازع کی جڑیں اور حزب اللہ کا کردار

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد نہ ہوسکا، لبنان  میں اسرائیلی کارروائیاں جاری - BBC News اردو

اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازع کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے ہی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات، فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ اور سیکورٹی خدشات موجود رہے ہیں۔ لبنان میں 1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ اس جنگ کے دوران کئی عسکری گروپ سرگرم ہوئے، جن میں سے ایک حزب اللہ بھی تھی۔

حزب اللہ، جسے 1980 کی دہائی میں ایران کی حمایت سے تشکیل دیا گیا تھا، لبنان میں ایک طاقتور سیاسی و عسکری قوت کے طور پر ابھری۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنا اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ کرنا تھا۔ 2000 میں اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلا کے بعد بھی حزب اللہ نے اپنی عسکری قوت برقرار رکھی اور اسرائیل کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

2006 کی جنگ لبنان ایک بڑی عسکری تصادم تھی جو ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہی۔ اس جنگ میں دونوں فریقین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، لیکن اس کے بعد بھی حزب اللہ کی عسکری قوت کمزور نہیں ہوئی۔ اسرائیل حزب اللہ کو اپنے شمالی محاذ کے لیے ایک مستقل خطرہ تصور کرتا ہے اور اسے ایران کی پراکسی سمجھتا ہے۔ ایران کی جانب سے حزب اللہ کو ہزاروں راکٹ، میزائل اور ڈرون فراہم کیے گئے ہیں، جس سے یہ تنظیم مشرق وسطیٰ کی طاقتور ترین غیر ریاستی عسکری قوتوں میں سے ایک بن گئی ہے۔

حالیہ تنازع میں، اکتوبر 2023 میں غزہ کی صورتحال کے بعد، حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے شروع کیے، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے لبنان پر شدید حملے کیے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کے ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ شمالی اسرائیل کی بستیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ دوسری جانب، حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ لبنانی سرزمین کے دفاع میں اور فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی میں یہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس مسلسل کشیدگی نے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں شہریوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔

بین الاقوامی ثالثی اور معاہدے کی تفصیلات

اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے، بھرپور سفارتی کوششیں کی گئیں۔ ان کوششوں کا مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام تھا اور انہیں وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے ضروری سمجھا گیا۔ کئی اعلیٰ سطحی مذاکرات، جن میں امریکہ، قطر اور فرانس نے ثالثی کا کردار ادا کیا، کے بعد بالآخر ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق رائے ہوا۔

رواں ماہ جون 2026 میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد، امریکہ، لبنان اور اسرائیل نے ایک سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس معاہدے کو لبنان میں امن کے لیے پیش رفت کی امید قرار دیا اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے عوام ایک محفوظ مستقبل گزار سکیں گے۔ لبنانی سفیر نے اس معاہدے کو لبنان کی خودمختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔

معاہدے کے اہم نکات

ابتدائی طور پر طے پانے والے مشروط جنگ بندی اور بعد میں دستخط کیے جانے والے فریم ورک معاہدے میں کچھ اہم دفعات شامل ہیں جن کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور طویل مدتی امن کی بنیاد رکھنا ہے۔ اگرچہ تمام تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں، لیکن دستیاب معلومات کی بنیاد پر اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • جنگ بندی کا نفاذ: اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے، اور جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے کیا گیا۔
  • اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا: معاہدے کے تحت، اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنے قائم کردہ بفر زون کے اندر واقع دو علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے گا۔ ان علاقوں میں اسرائیلی فوج کی جگہ لبنانی فوج تعینات ہوگی۔ تاہم، اسرائیل کا وزیر دفاع کا بیان ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون سے واپس نہیں بلائی جائے گی۔
  • حزب اللہ کا انخلا اور غیر مسلح کرنا: معاہدے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو لیطانی دریا کے شمال میں واپس چلے جائیں گے اور جنوبی لبنان میں صرف لبنانی فوج اور سیکیورٹی فورسز کو سرگرمیوں کی اجازت ہوگی۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس فریم ورک میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔
  • سرحدی تنازعات کا حل: دونوں فریقین نے اپنی زمینی سرحدوں پر تنازعات کو حل کرنے کے لیے بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں جو دیگر مسائل کے علاوہ متنازعہ علاقوں پر اسرائیلی افواج کی موجودگی سے متعلق تنازعات کو حل کریں گے۔
  • قیدیوں کا تبادلہ: مفاہمت کے فریم ورک کے اندر، اسرائیل نے پانچ لبنانی قیدیوں کو رہا کیا ہے جنہیں گذشتہ سال جنگی کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
  • نگرانی اور ضمانتیں: معاہدے کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی شامل ہوں گے۔ امریکہ نے اس عمل کی حمایت کے لیے انسانی امداد میں 100 ملین ڈالر اور لبنانی فوج کو 30 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔

یہ فریم ورک معاہدہ فوری سیکورٹی اقدامات اور مستقبل میں جامع مذاکرات کے لیے ایک روڈ میپ شامل کرتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے زور دیا ہے کہ یہ فریم ورک حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ آئندہ مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات کے لیے ایک بنیادی خاکہ ہے۔

معاہدے کا پہلواسرائیل کا مؤقفلبنان کا مؤقفثالثی کا کردار (بنیادی طور پر امریکہ)
جنگ بندی کا نفاذحملے روکنے پر آمادگی بشرطیکہ حزب اللہ بھی حملے روکے۔ جنگ بندی کے باوجود فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان۔مکمل اور جامع جنگ بندی کا مطالبہ۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش۔فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق رائے حاصل کیا۔
فوجی انخلابفر زون سے جزوی انخلا پر رضامندی، لیکن شمالی اسرائیل کے تحفظ کے لیے جنوبی لبنان میں سیکیورٹی زون برقرار رکھنے کا اصرار۔لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ۔ حزب اللہ دریائے لیطانی کے شمال میں واپس چلی جائے۔اسرائیلی افواج کے جزوی انخلا اور لبنانی فوج کی تعیناتی کا فریم ورک۔
حزب اللہ کا کردارحزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور اس کی عسکری سرگرمیاں ختم کرانا۔حزب اللہ کی مزاحمتی حیثیت کو برقرار رکھنے پر اصرار جب تک اسرائیلی قبضہ اور حملے جاری ہیں۔حزب اللہ کے جنگجوؤں کا دریائے لیطانی کے شمال میں واپس جانا معاہدے کا حصہ۔ فریم ورک میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا ذکر۔
سرحدی تنازعاتزمینی سرحدوں پر تنازعات کے حل کے لیے بات چیت پر رضامندی۔سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات پر آمادگی۔سرحدی مسائل کے حل کے لیے ورکنگ گروپس کی تشکیل۔
عالمی نگرانیاقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی نگرانی کا خیرمقدم۔جامع نگرانی اور جنگ بندی کی پاسداری پر زور۔معاہدے کی نگرانی کے لیے کمیٹی کی تشکیل جس میں امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی شامل۔

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور چیلنجز

اسرائیل اور لبنان کے درمیان مشروط جنگ بندی کا اعلان اگرچہ ایک مثبت پیش رفت تھی، لیکن اس پر عملدرآمد کے ابتدائی دنوں سے ہی شدید چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ جنگ بندی کے نافذ ہونے کے باوجود، جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ لبنانی شہری دفاع کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 28 افراد جاں بحق ہوئے اور کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ لبنانی میڈیا نے بھی جنگ بندی کے فوری بعد اسرائیلی فضائی اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی، جن میں رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی افواج شمالی اسرائیل کے تحفظ کے لیے اپنی موجودہ پوزیشنوں پر برقرار رہیں گی اور ضرورت پڑنے پر لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون سے انخلا نہیں کرے گی اور فوج کو لبنان میں کارروائیاں کرنے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی۔ یہ بیان لبنانی فریق کے اس مطالبے سے براہ راست متصادم ہے کہ اسرائیلی افواج مکمل طور پر لبنان سے انخلا کریں۔

دوسری جانب، حزب اللہ نے امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے، اسے “شرم ناک” قرار دیا اور لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ “مذاکرات” کے نام پر ہونے والی “تذلیل” کا سلسلہ بند کریں۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کا اطلاق پورے لبنان پر ہونا چاہیے اور اسرائیلی افواج کو پورے جنوب سے انخلا کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک دیہات پر قبضہ اور بمباری جاری ہے، حزب اللہ کے عناصر جنوب سے نہیں نکلیں گے اور نہ ان کی موجودگی کو جنگ بندی یا اسرائیلی فوج کے انخلا سے مشروط کیا جائے گا۔ حزب اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعہ کی شام سے جنگ بندی کی مکمل پابندی کی ہے، جبکہ اسرائیل نے جنگ بندی کے اولین لمحات سے ہی اس کی خلاف ورزیاں شروع کر دی تھیں۔

لبنان نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد اس کی خلاف ورزی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے باعث جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی یہ نشاندہی کی ہے کہ جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود بہت سے بے گھر خاندانوں کی زندگیوں میں ابھی تک کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی ہے۔ حالات اس قدر محفوظ نہیں ہوئے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔

یہ جنگ بندی محض اسرائیل اور لبنان کا دوطرفہ معاملہ نہیں بلکہ اس کا ایران اور امریکہ کے درمیان جاری وسیع تر مذاکرات پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ ختم نہیں ہوتی، وہ امریکہ کے ساتھ کسی وسیع تر معاہدے سے متعلق مذاکرات میں آگے نہیں بڑھے گا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کی صورتحال خطے کے پائیدار امن کے لیے ایک کلیدی عنصر ہے اور اس میں پائے جانے والے عدم استحکام سے دیگر اہم علاقائی معاہدات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

لبنان کے مطالبات اور مستقبل کے امکانات

لبنان کی جانب سے جنگ بندی کے حوالے سے واضح اور غیر متزلزل مطالبات سامنے آئے ہیں۔ لبنانی سابق سفارتکار ٹریسی شمعون نے کہا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے لبنان اور اسرائیل کے مذاکرات زیادہ بہتر انداز میں آگے نہیں بڑھ رہے کیونکہ جنگ بندی اور اسرائیلی انخلا سے متعلق شرائط اب بھی غیر واضح اور غیر حل شدہ ہیں۔ لبنان ایک جامع اور مکمل جنگ بندی کے حصول پر زور دے رہا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا ہے۔ تاہم، اسرائیل واضح طور پر یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ اس کی افواج لبنان میں موجود رہیں گی۔ لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ جنگ بندی ان کے ملک کا بنیادی مطالبہ تھی۔ لبنان نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کی کوششیں کر رہا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران، لبنان نہ صرف جنگ بندی کی مدت بڑھانے کا مطالبہ کرے گا بلکہ ان علاقوں میں اسرائیلی بمباری اور تباہی روکنے پر بھی زور دے گا جہاں اسرائیلی افواج موجود ہیں۔

مستقبل کے امکانات کے حوالے سے، فریم ورک معاہدہ اس امید پر مبنی ہے کہ یہ لبنان میں امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔ امریکہ، لبنان اور اسرائیل نے مستقبل قریب میں ایک جامع امن و سلامتی معاہدہ تیار کرنے کے لیے ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ جنوبی لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم، حزب اللہ کی جانب سے معاہدے کے کچھ حصوں کو مسترد کرنے اور اسرائیلی افواج کی جانب سے جنوبی لبنان میں موجودگی برقرار رکھنے کے اعلانات نے صورتحال کو غیر یقینی بنا رکھا ہے۔ جب تک حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہیں ہوتا، اس وقت تک پائیدار امن کا حصول ایک بڑا چیلنج رہے گا۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ لبنانی علاقوں سے غیر ریاستی مسلح گروہوں کے خطرات کو ختم کرنے سے لبنان میں مستقبل میں اسرائیلی فوجی موجودگی کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

خطے میں جاری کشیدگی، جس میں ایران اور امریکہ کے درمیان وسیع تر معاہدات بھی شامل ہیں، اس جنگ بندی کے مستقبل پر براہ راست اثر انداز ہو گی۔ یہ جنگ بندی مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب ایک نازک قدم ہے، جس کی کامیابی کا انحصار تمام فریقین کی نیک نیتی، بین الاقوامی ثالثوں کی مسلسل کوششوں اور زمینی حقائق میں عملی تبدیلیوں پر ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ مشروط جنگ بندی کس حد تک پائیدار امن کی بنیاد رکھے گی، لیکن یہ ایک آغاز ضرور ہے۔ لبنانی میڈیا نے امریکی سفارت کار کے حوالے سے کہا ہے کہ واشنگٹن دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ اس پیش رفت کے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے ڈان نیوز کی رپورٹس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی بحران

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری تنازع نے ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، لبنان میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں، اور انہیں خوراک، رہائش اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی ادارہ مہاجرت (IOM) کا اندازہ ہے کہ اس وقت لبنان میں تقریباً 1 لاکھ 24 ہزار لوگ بے گھر ہیں، جبکہ 4,370 افراد ملک بھر میں قائم 42 پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو “امید کی ایک نئی کرن” قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان کو کئی ماہ سے جاری اسرائیلی فوجی حملوں کے باعث سنگین انسانی بحران کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے لبنان کی صورتحال کے حوالے سے چھ اہم مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں کشیدگی میں مستقل اور طویل مدتی کمی اور ضرورت مند افراد تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ فلیچر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے لبنانی خاندانوں کی محفوظ، رضاکارانہ اور باوقار واپسی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس (یونیفیل) نے جنوبی لبنان میں امدادی کارروائیوں میں سہولت فراہم کی ہے اور اپنے زیر عمل علاقوں میں بے گھر افراد تک خوراک اور دیگر ضروری امداد پہنچانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) نے بتایا ہے کہ نومبر 2024 میں لبنان میں جنگ بندی کے بعد بھی اب تک 4 خواتین اور 3 بچوں سمیت کم از کم 27 شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی سطح پر انسانی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے اور جنگ بندی کے باوجود تحفظ کے خدشات برقرار ہیں۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدے کو امید کی نئی کرن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کو کئی ماہ سے جاری اسرائیلی فوجی حملوں کے باعث سنگین انسانی بحران کا سامنا ہے۔۔

نتیجہ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان مشروط جنگ بندی کا اعلان خطے میں امن کی جانب ایک اہم لیکن نازک قدم ہے۔ امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والا فریم ورک معاہدہ اگرچہ کشیدگی میں کمی لانے اور طویل مدتی امن کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم فریقین کے گہرے تحفظات اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں اس کے پائیدار ہونے پر سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہیں۔ اسرائیل کا جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا اصرار اور حزب اللہ کا مکمل انخلا اور غیر مسلح ہونے سے انکار اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

لبنان کا مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ ایک جائز تشویش کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ہزاروں بے گھر افراد کا مسئلہ اور جاری انسانی بحران فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی کوششیں، جن میں امدادی کارروائیاں اور نگرانی شامل ہے، اس صورتحال کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم، پائیدار امن کے حصول کے لیے تمام فریقین کی جانب سے حقیقی compromiso، بین الاقوامی برادری کی مؤثر ثالثی اور زمینی حقائق میں مثبت تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی۔ اس جنگ بندی کی کامیابی نہ صرف اسرائیل اور لبنان کے مستقبل کے لیے اہم ہے بلکہ یہ وسیع تر مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی کوششوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔