مقبول خبریں

ایران سے ڈیل طے ہوئی تھی پھر ایک گھنٹے بعد ڈرون حملہ ہوگیا، صدر ٹرمپ

ایران سے ڈیل طے ہوئی تھی پھر ایک گھنٹے بعد ڈرون حملہ ہوگیا، صر ٹرمپ کا یہ دعویٰ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک انتہائی پیچیدہ اور کشیدہ دور کی عکاسی کرتا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکہ اور ایران کے تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار رہے، خاص طور پر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی تھی۔ ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار تھا، لیکن اچانک حالات تبدیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ یہ بیان عالمی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے کہ آیا واقعی کوئی ڈیل قریب تھی اور کیا ڈرون حملہ کسی ناکام سفارتی کوشش کا نتیجہ تھا۔

ایران سے ڈیل طے ہوئی تھی پھر ایک گھنٹے بعد ڈرون حملہ ہوگیا، صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ کا دعویٰ اور اس کا پس منظر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران ایٹمی پروگرام سے دستبرداری پر رضامندی ظاہر کر چکا تھا، تاہم مذاکرات کے بعد صورتحال اچانک تبدیل ہو گئی اور ایک گھنٹے کے اندر ڈرون حملہ ہو گیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ ایک روز قبل معاہدہ طے پا گیا تھا اور تہران تقریباً تمام مطالبات ماننے پر آمادہ تھا، لیکن دو گھنٹے بعد ہی ایران نے ڈرون حملے میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنا دیا۔ یہ دعویٰ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک ایسے دور سے تعلق رکھتا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکہ کی دستبرداری کے بعد کشیدگی عروج پر تھی، اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اپنائی تھی، جس میں سخت اقتصادی پابندیاں اور فوجی دھمکیاں شامل تھیں۔ اس پالیسی کا مقصد ایران کو ایک نئے اور جامع جوہری معاہدے پر مجبور کرنا تھا جو اس کے میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسی فورسز کی حمایت کو بھی محدود کرے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران ڈیل کرنے کے لیے بے قرار ہے اور اس سلسلے میں “مناسب لوگوں” کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا۔ تاہم، ایرانی حکام نے ہمیشہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی درخواستوں کو مسترد کیا۔ ایران کا موقف رہا ہے کہ اس نے امریکہ سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی، البتہ قطر کی ثالثی کی کوششوں کے تحت قطری حکام کے دورۂ ایران کا خیرمقدم کیا گیا۔

ٹرمپ کے دعووں کے مطابق، ایران معاشی بحران کا شکار تھا اور وہاں مہنگائی 250 فیصد تک پہنچ چکی تھی، جس کی وجہ سے وہ ڈیل کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس اب زیادہ آپشنز نہیں بچے تھے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تاہم، یہ دعوے اور ان کے پیچھے کے حقائق کئی مرتبہ متضاد نظر آئے، کیونکہ ایران نے باضابطہ طور پر کسی بھی ڈیل کے قریب ہونے کی تردید کی تھی۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور امریکہ ایران کشیدگی

جنرل قاسم سلیمانی، جو ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے سپہ سالار اعلیٰ تھے، 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس ہلاکت کو صدر ٹرمپ نے “مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک” قرار دیا۔ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ سلیمانی 5 امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے اور ان کی ہلاکت کی کارروائی منصوبہ بند حملے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل کی گئی تھی۔ اس واقعے نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو ایک نئی انتہا پر پہنچا دیا اور جنگ کا خطرہ شدید ہو گیا تھا۔

سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 8 جنوری 2020 کو عراق میں واقع امریکی فضائی مستقر عین الاسد پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔ یہ حملے اس بات کا واضح پیغام تھے کہ ایران امریکی کارروائیوں کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس واقعے سے قبل بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کئی چھوٹے بڑے واقعات پیش آئے تھے، جن میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے اور امریکی ڈرون کا مار گرایا جانا شامل تھے۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی کہ کہیں یہ واقعہ ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار نہ کر جائے۔ کئی ممالک نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی، لیکن امریکہ اور ایران دونوں ہی اپنے اپنے موقف پر قائم رہے۔ ٹرمپ نے سلیمانی کو “دہشت ناک شخص” قرار دیا اور کہا کہ ایرانی حکومت بھی ان سے خوفزدہ تھی۔ دوسری جانب، ایران نے سلیمانی کو قومی ہیرو کا درجہ دیا اور ان کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔

ڈرون حملے سے قبل کے حالات اور سفارتی کوششیں

جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملے سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے تھے۔ ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر جواب نہ ملنے سے سخت برہم تھے اور بڑھتی ہوئی مایوسی کے بعد انہوں نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی منظوری دے دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، بظاہر حملوں کا فوری سبب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کا واقعہ بنا، تاہم اصل پس منظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی بے چینی شامل تھی۔

علاقائی ثالث، جن میں قطر بھی شامل تھا، دونوں فریقوں کے درمیان رابطے میں تھے اور مذاکرات کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششیں جاری تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق، واشنگٹن کئی ہفتوں سے تہران کے جواب کا منتظر تھا لیکن ایران نے امریکی تجاویز پر حتمی ردعمل دینے میں تاخیر کی۔ امریکہ نے ایران کو یہ پیغام بھی پہنچایا تھا کہ مذاکرات کے لیے وقت محدود ہے اور جلد جواب درکار ہے۔

ان کوششوں کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر دباؤ برقرار رہا۔ اس دوران متعدد بار ٹرمپ نے ایران کو مکمل تباہی کی دھمکیاں بھی دیں اگر اس نے کسی نئے معاہدے پر دستخط نہ کیے۔ اپریل 2026 میں طے پانے والی ایک “کمزور جنگ بندی” بھی خطے میں امن قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی اور فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی جانے والی بمباری نے جنگ کے جلد خاتمے کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔

یہ تناظر اس بات کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے کہ ایک طرف تو ڈیل کی بات کی جا رہی تھی اور دوسری طرف فوجی کارروائیوں کی تیاریاں بھی عروج پر تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی اور فوجی دباؤ کی متضاد پالیسیاں ایک ساتھ چل رہی تھیں۔

ڈیل کے دعوے کی حقیقت: امریکی اور ایرانی موقف

صدر ٹرمپ کے دعوے کہ ایران سے ڈیل طے ہونے والی تھی اور پھر ایک گھنٹے بعد ڈرون حملہ ہو گیا، ہمیشہ ایرانی حکام کی جانب سے مسترد کیے گئے۔ ایران نے واضح طور پر کہا کہ اس نے امریکہ سے مذاکرات جاری رکھنے کی کوئی درخواست نہیں کی، بلکہ قطری حکام کے دورہ ایران کا خیرمقدم کیا گیا تھا، جو ثالثی کی کوششوں کا حصہ تھا۔

یہاں امریکہ اور ایران کے بیانات کا موازنہ ایک جدول کی صورت میں پیش کیا گیا ہے تاکہ دونوں فریقوں کے موقف کو واضح کیا جا سکے:

پہلوامریکی موقف (صدر ٹرمپ)ایرانی موقف
ڈیل کی نوعیتایران ایٹمی پروگرام سے دستبرداری پر رضامند تھا، ڈیل قریب تھی۔کوئی ڈیل نہیں ہوئی، امریکی دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔
مذاکرات کی درخواستایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی۔ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی۔
ڈرون حملے کا سببایران کی جانب سے تجارتی جہاز پر حملہ یا امریکی تجاویز پر جواب میں تاخیر۔ سلیمانی 5 امریکی اڈوں پر حملے کی تیاری کر رہا تھا۔امریکی جارحیت اور خطے میں امریکی موجودگی کو چیلنج کرنے کا حق۔
سفارتی پیش رفتبات چیت جاری تھی، لیکن تعطل کا شکار ہو گئی۔کشیدگی کے دوران قطر جیسے ثالثوں کے ساتھ بالواسطہ رابطے۔
جنگ بندی کی صورتحالجنگ بندی کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔اگر امریکہ خلاف ورزی کرے گا تو ایران متناسب جواب دے گا۔

یہ تضادات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی اور ایرانی بیانات میں واضح فرق تھا، اور ہر فریق اپنی مرضی کے مطابق بیانیہ پیش کر رہا تھا۔ ٹرمپ نے کئی بار یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ایران کو عسکری لحاظ سے شکست دی، جبکہ ایران نے ان حملوں کا بھرپور جواب دینے کا دعویٰ کیا۔ اس صورتحال میں یہ طے کرنا مشکل ہے کہ آیا واقعی کوئی ڈیل قریب تھی یا یہ صرف سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے ٹرمپ کا ایک حربہ تھا۔

عالمی ردعمل اور سفارتی کوششوں کی ناکامی

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خاص طور پر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عالمی برادری میں شدید تشویش پائی گئی۔ کئی عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچنے کی اپیل کی۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے سفارتی حل کی اہمیت پر زور دیا، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان ہر کوشش میں رکاوٹ بنا رہا۔

قطر سمیت مختلف ممالک نے ثالثی کی کوششیں کیں، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اور ایران کے سخت موقف نے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ ٹرمپ نے خود بھی کئی مواقع پر کہا کہ ایران سے ڈیل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ وہ معاہدوں کا احترام نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ، امریکی صدر نے بعض اتحادی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں امریکہ کی حمایت نہیں کر رہے تھے، جیسے کہ اسپین اور اٹلی۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی، پابندیوں اور باہمی عدم اعتماد کی علامت رہے ہیں۔ ہر بار جب مذاکرات کے ذریعے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی، کوئی نہ کوئی واقعہ اس عمل کو سبوتاژ کر دیتا رہا۔ سلیمانی کی ہلاکت بھی انہی واقعات میں سے ایک تھی جس نے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اگرچہ امریکہ نے فوجی کارروائیوں کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا کہ حملے محدود نوعیت کے ہوں اور جانی نقصان کم سے کم ہو تاکہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہ ہو، لیکن اس قسم کی کارروائیاں اعتماد سازی کے عمل کو مزید مشکل بناتی ہیں۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، پر بھی دنیا کی گہری نظر رہی۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں کو براہ راست متاثر کر سکتی تھی۔ اس لیے عالمی برادری کی جانب سے مسلسل سفارتی حل کی تلاش جاری رہی، لیکن یہ تمام کوششیں اس وقت تک تعطل کا شکار رہیں جب تک دونوں فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ مزید معلومات کے لیے، ڈان نیوز کی امریکا-ایران کشیدگی کی تاریخ پر رپورٹ پڑھنا مفید ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی کا تجزیہ

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو “زیادہ سے زیادہ دباؤ” (Maximum Pressure) کی حکمت عملی کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کا مقصد ایران کو اس کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل کی تیاری اور علاقائی پراکسی فورسز کی حمایت سے روکنا تھا۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ نے 2018 میں ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔

اس پالیسی کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ یہ پابندیاں ایران کی معیشت کو کمزور کر دیں گی اور اسے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر دیں گی۔ ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا کہ ان کی پالیسی کامیاب ہو رہی ہے اور ایران معاشی دباؤ میں ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا تھا کہ اس پالیسی نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا اور جنگ کے خطرے کو بڑھایا، جبکہ سفارتی حل کے دروازے بند کر دیے۔

سلیمانی کی ہلاکت اس پالیسی کا ایک اہم موڑ تھا، جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تصادم کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا۔ ٹرمپ نے اس حملے کو جواز دیتے ہوئے کہا کہ سلیمانی امریکی مفادات کے لیے خطرہ تھے۔ تاہم، اس اقدام کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ دباؤ کی پالیسی یکطرفہ نہیں بلکہ اس کا ردعمل بھی ہوتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے تحت، امریکہ نے ایران کے اندر عسکری نگرانی کی صلاحیتوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی مراکز کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے “بلا جواز اور مسلسل جارحیت” کے جواب میں کی گئیں۔ تاہم، ان کارروائیوں کے باوجود ایران نے اپنے علاقائی اثر و رسوخ اور میزائل پروگرام کو ترک نہیں کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اپنے مکمل مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

اس پالیسی کی وجہ سے امریکہ کو اپنے اتحادیوں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جو اس بات پر زور دے رہے تھے کہ سفارتی حل کو ترجیح دی جائے اور جوہری معاہدے کو برقرار رکھا جائے۔ مجموعی طور پر، ٹرمپ کی ایران پالیسی نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا اور امریکہ-ایران تعلقات کو ایک مشکل دور میں دھکیل دیا۔

مستقبل کے مضمرات اور امریکہ ایران تعلقات

امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ اور کشیدگی کے واقعات کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا نازک پل ٹوٹ سکتا ہے۔ اس کے اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرق وسطیٰ سے لے کر عالمی منڈیوں تک ہر سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

خطے میں پہلے ہی غزہ، لبنان، شام، عراق اور یمن کے تنازعات موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر امریکہ اور ایران پھر آمنے سامنے آ گئے تو یہ بحران کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گا۔ اس سے بحری راستے، توانائی کی تنصیبات اور بین الاقوامی تجارت براہ راست متاثر ہو گی۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکیاں یا وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔

مستقبل میں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا انحصار کئی عوامل پر ہو گا، جن میں عالمی طاقتوں کی ثالثی، ایران کی داخلی سیاسی صورتحال اور امریکہ کی آئندہ انتظامیہ کی پالیسیاں شامل ہیں۔ اگر امریکہ نئی انتظامیہ کے تحت سفارتی راستہ اختیار کرتا ہے اور ایران بھی لچک دکھاتا ہے، تو شاید کشیدگی میں کمی آ سکے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پرانی عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے انسانی، اقتصادی اور سیاسی نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی کوشش ہونی چاہیے کہ مذاکرات اور سفارتی حل کو ہر قیمت پر ترجیح دی جائے تاکہ خطے اور عالمی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

نتیجہ

صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران سے ڈیل طے ہوئی تھی اور پھر ایک گھنٹے بعد ڈرون حملہ ہو گیا، امریکہ اور ایران کے تعلقات کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی نے خطے میں کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا تھا، جس کا سب سے بڑا ثبوت جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت تھی۔ اگرچہ امریکہ نے ڈیل کے قریب ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن ایران نے اس دعوے کو ہمیشہ مسترد کیا اور امریکی کارروائیوں کا بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے بغیر حقیقی امن کا قیام مشکل نظر آتا ہے، اور عالمی برادری کو اس پیچیدہ مسئلے کے پرامن حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔