مقبول خبریں

پاکستان کے 7 شہروں میں 40 فیصد بچوں میں سیسے کی خطرناک مقدار کا انکشاف

پاکستان کے 7 شہروں میں 40 فیصد بچوں میں سیسے کی خطرناک مقدار کا انکشاف ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جو ملک میں بچوں کی صحت اور مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے سات زیادہ خطرے والے شہروں میں 12 سے 36 ماہ کی عمر کے تقریباً 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے (Lead) کی مقدار عالمی سطح پر تسلیم شدہ محفوظ حد سے زیادہ پائی گئی ہے۔ یہ انکشاف لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پروجیکٹ (LEEP) پاکستان، یونیسیف پاکستان اور کامزمین کنسلٹنٹس کے اشتراک سے منعقدہ ایک صحافتی تربیتی ورکشاپ میں سامنے آیا، جہاں ماہرین صحت نے اس سنگین مسئلے کی نشاندہی کی۔ یہ مسئلہ نہ صرف بچوں کی فوری صحت پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ ان کی ذہنی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت اور مجموعی بہبود کے لیے بھی طویل مدتی خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین نے اس خاموش قاتل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کو اس تباہ کن آلودگی سے بچایا جا سکے۔

سیسے کی آلودگی کا پھیلاؤ اور اثرات

سیسہ ایک زہریلی دھات ہے جو ماحول میں کئی ذرائع سے شامل ہو کر انسانی جسم میں داخل ہو سکتی ہے۔ بچوں کے لیے یہ خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ ان کا جسم سیسے کو بالغوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جذب کرتا ہے اور ان کا بڑھتا ہوا اعصابی نظام اس کے مضر اثرات کے لیے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ یونیسیف کے مطابق، سیسے کی کوئی بھی محفوظ سطح موجود نہیں ہے اور بہت کم مقدار بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ یہ خون میں آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، ہڈیوں میں جمع ہوتا ہے اور جسم کے مختلف نظاموں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

پاکستان میں سیسے کی آلودگی کا مسئلہ کئی سالوں سے زیر بحث ہے، لیکن حالیہ سروے کے نتائج نے اس کی شدت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ سیسے کے زہر سے متاثرہ بچوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے سرِ فہرست ممالک میں شامل ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش مسئلہ ہے جس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں اور اکثر والدین کو اس وقت تک علم نہیں ہوتا جب تک کہ بچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیسے کی آلودگی کو ایک “خاموش عوامی صحت کا مسئلہ” قرار دیا جاتا ہے۔

سیسے کی بلند سطح بچوں کی نشوونما کو روک سکتی ہے، انہیں خون کی کمی (انیمیا) کا شکار بنا سکتی ہے اور ان کے مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بچوں کی ذہانت (IQ) کو کم کرنے، توجہ کے دورانیے کو محدود کرنے اور یادداشت کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے سیکھنے کی مشکلات اور رویے کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سنگین صورتوں میں، یہ دماغی نقصان، دوروں اور کومہ کا باعث بھی بن سکتی ہے، جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ صنعتی علاقوں کے قریب رہنے والے بچوں میں، جہاں سیسے کی آلودگی کے ذرائع زیادہ ہوتے ہیں، یہ خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

متاثرہ شہر اور بچوں کی صحت پر سیسے کے اثرات

پاکستان چائلڈ ہُڈ لیڈ ایکسپوژر سروے (Pakistan Childhood Lead Exposure Survey) کے تحت سات زیادہ خطرے والے شہروں میں 12 سے 36 ماہ کی عمر کے 2 ہزار 175 بچوں کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان شہروں میں ہری پور، اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی کے صنعتی اور زیادہ خطرے والے علاقے شامل تھے۔ سروے کے نتائج نے شہروں کے اندر بھی سیسے کی مقدار میں نمایاں فرق دکھایا ہے۔

  • ہری پور (حطار): خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے صنعتی علاقے حطار میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک پائی گئی، جہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی بلند سطح ریکارڈ کی گئی۔
  • کراچی: کراچی کے منتخب علاقوں میں تقریباً 39 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار محفوظ حد سے زیادہ پائی گئی ہے۔
  • اسلام آباد: اس کے برعکس، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیسے کی موجودگی کی شرح محض 1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
  • لاہور، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی: ان شہروں کے صنعتی اور ہائی رسک علاقوں میں بھی سیسے کی مختلف سطحیں سامنے آئیں۔ خاص طور پر لاہور اور کراچی میں خون کی کمی (انیمیا) کی شرح بالترتیب 66 فیصد اور 63 فیصد تھی، جو سیسے کی آلودگی سے منسلک ایک اور اہم مسئلہ ہے۔

یہ سروے اگرچہ پورے پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتا، تاہم یہ مسئلہ کی سنگینی اور فوری توجہ کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین نے ایک قومی سطح پر نمائندہ سروے کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ملک میں مسئلے کی اصل شدت کا تعین کیا جا سکے۔ بچوں پر سیسے کے اثرات صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی صحت پر بھی گہرے ہوتے ہیں، جو ان کی سیکھنے کی صلاحیت اور مستقبل کی کامیابیوں کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔

سیسے کے ذرائع اور وجوہات

سیسے کی آلودگی کے متعدد ذرائع ہیں جو بچوں کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ ان میں سب سے عام ذرائع درج ذیل ہیں:

  • سیسہ ملے پینٹس اور آرائشی رنگ: گھروں کو رنگنے کے لیے استعمال ہونے والے پینٹس میں سیسے کی خطرناک حد تک موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، پاکستان میں 40 فیصد آئل پینٹس میں سیسے کی غیر قانونی اور خطرناک مقدار پائی گئی ہے، جن میں سے کچھ پینٹس میں سیسے کی سطح عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حد سے ہزار گنا زیادہ تھی۔ بچے پینٹ شدہ سطحوں کو چاٹ کر یا پینٹ کے ذرات کو سانس کے ذریعے اپنے اندر لے کر سیسے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
  • غیر رسمی لیڈ ایسڈ بیٹری ری سائیکلنگ: استعمال شدہ لیڈ ایسڈ بیٹریوں کی غیر رسمی ری سائیکلنگ ایک اور اہم ذریعہ ہے جہاں سیسہ ماحول میں خارج ہوتا ہے۔ یہ ری سائیکلنگ اکثر رہائشی علاقوں کے قریب ہوتی ہے، جو ہوا، مٹی اور پانی کو آلودہ کرتی ہے۔
  • ملاوٹ شدہ مصالحہ جات (بالخصوص ہلدی): ہلدی جیسے مصالحہ جات میں لیڈ کرومیٹ (Lead Chromate) کی ملاوٹ انہیں زیادہ پیلا رنگ دینے کے لیے کی جاتی ہے، جو سیسے کی آلودگی کا ایک غیر متوقع مگر اہم ذریعہ ہے۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کی مہم کے نتیجے میں سیسہ ملی ہلدی کی فروخت میں کمی آئی ہے، لیکن مکمل خاتمے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔
  • روایتی کاسمیٹکس (جیسے سرمہ): سرمہ اور دیگر روایتی کاسمیٹکس میں بھی سیسے کی موجودگی پائی جاتی ہے، جو بچوں کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
  • صنعتی اخراج اور فضائی آلودگی: صنعتی سرگرمیاں اور گاڑیوں کا دھواں بھی سیسے کے ذرات کو فضا میں خارج کرتا ہے، جو سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ صنعتی علاقوں کے قریب رہائش پذیر بچے اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
  • آلودہ خوراک اور پانی: سیسہ مٹی اور پانی میں شامل ہو کر خوراک کی فصلوں اور پینے کے پانی کو بھی آلودہ کر سکتا ہے۔ بچے آلودہ پانی پینے یا آلودہ خوراک کھانے سے سیسے کی زد میں آ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، سیسے کے ذرائع کی نشاندہی اور ان پر قابو پانا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

سیسے کی آلودگی کے بڑے ذرائعخطرے کا عنصربچوں پر اثرات
سیسہ ملے آرائشی رنگ (پینٹس)پینٹ شدہ سطحوں کو چاٹنا، پینٹ کے ذرات سانس لینادماغی نقصان، نشوونما میں رکاوٹ
غیر قانونی لیڈ ایسڈ بیٹری ری سائیکلنگصنعتی علاقوں کے قریب رہائش، مٹی اور ہوا کی آلودگیذہانت میں کمی، اعصابی نظام کو نقصان
ملاوٹ شدہ مصالحہ جات (ہلدی)خوراک کے ذریعے سیسہ کا جسم میں داخل ہوناخون کی کمی، گردوں کے مسائل
روایتی کاسمیٹکس (سرمہ)جلد کے ذریعے جذب یا منہ میں جاناآئی کیو میں کمی، رویے کی خرابیاں
صنعتی اخراج اور گاڑیوں کا دھواںفضائی آلودگی، سانس کے ذریعے جذبپھیپھڑوں کے امراض، مدافعتی نظام کی کمزوری
آلودہ پانی اور خوراکمٹی سے آلودہ پانی، فصلوں میں سیسہنشوونما میں کمی، نظام انہضام کے مسائل

سیسے کی جانچ اور تشخیص کا عمل

چونکہ سیسے کے زہر کی علامات غیر واضح ہوتی ہیں یا فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے اس کی بروقت تشخیص انتہائی مشکل ہو سکتی ہے۔ بچوں میں سیسے کی موجودگی کا پتہ لگانے کا سب سے مؤثر طریقہ خون میں سیسے کی سطح کی جانچ کرنا (Blood Lead Level testing) ہے۔ یہ ٹیسٹ خون کے نمونے کے ذریعے کیا جاتا ہے اور یہ معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے کہ بچے کے جسم میں سیسے کی کتنی مقدار موجود ہے۔

  • خون کے نمونوں کا تجزیہ: پاکستان چائلڈ ہُڈ لیڈ ایکسپوژر سروے میں اسی طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے 2,175 بچوں کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جس سے یہ تشویشناک نتائج سامنے آئے۔
  • اسکریننگ کی اہمیت: ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں رہنے والے بچوں کی باقاعدگی سے اسکریننگ کی جانی چاہیے تاکہ سیسے کی موجودگی کا بروقت پتہ لگایا جا سکے۔ جلد تشخیص سے بچوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکتا ہے اور مناسب طبی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔
  • عوامی آگاہی: والدین اور سرپرستوں کو سیسے کی آلودگی کی علامات اور اس کے خطرات کے بارے میں آگاہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اگرچہ واضح علامات کم ہوتی ہیں، لیکن بچوں میں مسلسل تھکاوٹ، چڑچڑاپن، پیٹ میں درد، بھوک میں کمی، اور سیکھنے کی مشکلات جیسے مسائل کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ سیسے کی جانچ کرائی جا سکے۔

تشخیص کے بعد، متاثرہ بچوں کے لیے مناسب علاج اور سیسے کے مزید اخراج سے بچنے کے اقدامات کرنا ضروری ہے تاکہ طویل مدتی صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔

حکومتی اقدامات اور عالمی کوششیں

پاکستان میں سیسے کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ وزارتِ قومی صحت نے اس مسئلے کو ایک قومی عوامی صحت کی ترجیح قرار دیا ہے۔

  • پالیسی سازی اور معیارات کا نفاذ: پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) نے آرائشی رنگوں میں سیسے کی زیادہ سے زیادہ حد 90 پارٹس پر ملین (ppm) مقرر کی ہے۔ اسی طرح، ہلدی میں سیسے کی حد 5 پارٹس پر ملین مقرر کی گئی ہے اور سرمہ کے لیے بھی قومی معیار متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔
  • UNICEF اور LEEP کا کردار: یونیسیف پاکستان اور لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پروجیکٹ (LEEP) پاکستان جیسے ادارے حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر سیسے کی آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی، قواعد و ضوابط کو مضبوط بنانے اور بچوں کو سیسے کے اخراج سے بچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ LEEP دنیا کے 40 سے زیادہ ممالک میں اس مقصد کے لیے سرگرم ہے۔
  • صنعتی اقدامات: حکومتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں سے آرائشی رنگوں میں سیسے کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح، سندھ فوڈ اتھارٹی کی مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں سیسہ ملی ہلدی کی فروخت بھی بڑی حد تک کم ہوئی ہے۔
  • سروے اور تحقیقات: وزارتِ قومی صحت اور یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹیں مستقبل کی پالیسیاں مرتب کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔ حکومت نے بچوں اور حاملہ خواتین میں سیسے کی سطح جانچنے کے لیے ملک گیر سروے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مسئلے کی اصل شدت کا تعین کیا جا سکے۔

سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) جیسے ادارے غیر قانونی لیڈ ایسڈ بیٹری ری سائیکلنگ یونٹس اور دیگر آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم ان یونٹس کے آپریٹرز اکثر کارروائی کے بعد اپنی جگہیں تبدیل کر لیتے ہیں، جو ایک چیلنج ہے۔ ان کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بین الاداراتی تعاون اور عوامی بیداری کی اشد ضرورت ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلی معلومات کے لیے آپ ڈان نیوز کی رپورٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں، جس میں اس مسئلے کی سنگینی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

روک تھام اور عوامی آگاہی

سیسے کی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے علاج سے زیادہ بچاؤ پر توجہ دینا ضروری ہے۔ عوامی آگاہی مہمات اور احتیاطی تدابیر کو اپنا کر بچوں کو اس خطرناک دھات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

  • میڈیا کا کردار: ماہرین نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں میں سیسے کی آلودگی، اس کے ذرائع اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کرے تاکہ والدین اور عوام میں شعور پیدا ہو سکے۔ درست اور حقائق پر مبنی صحافت عوامی آگاہی اور مؤثر قانون سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
  • والدین کے لیے احتیاطی تدابیر:
    • صاف ماحول: گھروں کو گردو غبار سے پاک رکھیں، کیونکہ سیسے کے ذرات مٹی اور گرد میں موجود ہو سکتے ہیں۔
    • پینٹ کا انتخاب: گھروں کی مرمت یا رنگ روغن کرتے وقت سیسہ سے پاک پینٹس کا انتخاب کریں اور ان پر ‘لیڈ فری’ کا لیبل ضرور چیک کریں۔
    • خوراک کی حفاظت: مصالحہ جات کی خریداری کرتے وقت ان کی پاکیزگی کو یقینی بنائیں، اور مشکوک ذرائع سے ہلدی جیسی اشیاء خریدنے سے گریز کریں۔
    • ذاتی صفائی: بچوں کو کھانے سے پہلے اور کھیلنے کے بعد ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں۔
    • پانی کی جانچ: اگر پینے کے پانی میں سیسے کی آلودگی کا شبہ ہو تو اس کی جانچ کروائیں اور متبادل ذرائع استعمال کریں۔
    • بیٹری ری سائیکلنگ سے دوری: رہائشی علاقوں میں غیر رسمی بیٹری ری سائیکلنگ کے یونٹس سے بچوں کو دور رکھیں۔
    • روایتی کاسمیٹکس: بچوں کے لیے سرمہ یا دیگر روایتی کاسمیٹکس کے استعمال سے پرہیز کریں جن میں سیسے کی موجودگی کا امکان ہو۔
  • حکومتی نفاذ: معیارات کے نفاذ کو مزید سخت کرنا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ضروری ہے۔ صنعتی علاقوں میں لیبر کالونیوں کو صنعتی علاقوں سے باہر منتقل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو سیسے کی آلودگی سے بچایا جا سکے۔

عوامی آگاہی اور حکومتی کوششوں کے امتزاج سے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے اور بچوں کو ایک صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے۔

نتیجہ

پاکستان کے سات بڑے شہروں میں 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک مقدار کا انکشاف ایک الارمنگ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس کے صحت عامہ اور ملکی معیشت پر گہرے اور طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بچوں کی ذہنی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت اور جسمانی صحت پر سیسے کے منفی اثرات ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس خاموش قاتل سے نمٹنے کے لیے فوری، جامع اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں حکومتی ادارے، عالمی تنظیمیں، میڈیا اور عام عوام سب شامل ہوں۔

پینٹس، بیٹری ری سائیکلنگ، ملاوٹ شدہ مصالحہ جات اور روایتی کاسمیٹکس جیسے سیسے کے ذرائع پر قابو پانا، مؤثر قانون سازی اور ان معیارات کا سخت نفاذ انتہائی اہم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، قومی سطح پر نمائندہ سروے کروانے سے مسئلے کی اصل شدت کا تعین کرنے اور ہدف شدہ پالیسیاں بنانے میں مدد ملے گی۔ سب سے بڑھ کر، عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے والدین اور برادریوں کو سیسے کے خطرات اور بچاؤ کی تدابیر کے بارے میں تعلیم دینا ضروری ہے۔ پاکستان کو اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور پائیدار اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔