امریکی فوج کی ایران کے خلاف نئی کارروائیاں ایک بار پھر خطے میں کشیدگی کی لہر کو عروج پر لے گئی ہیں، اور ان تازہ واقعات کے نتیجے میں ایران کا کلیدی بندرگاہی شہر بندر عباس زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔ جولائی 2026 کے ابتدائی ایام سے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں ایک نئی تلخی اور فوجی محاذ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کا مرکز آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کے علاقے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے باقاعدہ طور پر ان حملوں کی تصدیق کی ہے، جن کا بنیادی مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے جو اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے مبینہ طور پر خطرہ بن رہی ہیں۔ دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے بندر عباس سمیت جنوبی ایران کے مختلف ساحلی شہروں میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، جن سے خطے میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی نئی لہر: امریکی کارروائیوں کا آغاز
گزشتہ چند ہفتوں سے، امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی محاذ آرائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ امریکی حکام نے ایران پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ہدف بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں، جس کے ردعمل میں واشنگٹن نے فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 12 جولائی 2026 کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئے حملے کیے ہیں، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی اور شہری بحری جہازوں کو مبینہ خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ایرانی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔ سینٹکام کے مطابق، یہ کارروائیاں امریکی کمانڈر ان چیف کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں تاکہ ایرانی افواج کو ان اقدامات کا جواب دہ بنایا جا سکے جنہیں امریکہ خطے کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
ان حملوں کے بعد، ایرانی ریاستی میڈیا نے بندر عباس، سیریک، جزیرہ قشم، چابہار، کونارک، بوشہر اور جاسک جیسے اہم ساحلی شہروں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات دیں۔ یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائیوں کا عندیہ دیا تھا۔ کچھ رپورٹس میں بندر عباس میں دھماکوں کے بعد مقامی فضائی دفاعی نظام کو بھی فعال ہوتے دیکھا گیا، جو صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔ امریکی حکام نے ان حملوں کو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا ردعمل قرار دیا ہے، جہاں مختلف بحری راستوں کے کنٹرول کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں امن و استحکام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
بندر عباس کی اسٹریٹیجک اہمیت اور دھماکے
بندر عباس، ایران کی سب سے اہم بندرگاہ اور ملک کا سب سے بڑا بحری اڈہ ہونے کے ناطے، خلیج فارس میں ایک کلیدی اسٹریٹیجک مقام رکھتا ہے۔ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز کے شمالی ساحل پر واقع ہے، جو دنیا کے سب سے اہم تیل کی ترسیل کے راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کا تقریباً ایک تہائی سمندری تیل اس آبنائے سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی جغرافیائی و معاشی اہمیت بے پناہ ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق، بندر عباس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کی سہولیات، ڈرون انفراسٹرکچر، بحری اثاثے اور لاجسٹک ہب موجود ہیں، جو اسے کسی بھی فوجی تصادم کی صورت میں ایک اعلیٰ قدر کا ہدف بناتے ہیں۔
حالیہ امریکی کارروائیوں کے دوران، بندر عباس میں متعدد زور دار دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ایرانی ریاستی میڈیا نے ان دھماکوں کی تصدیق کی، اگرچہ ان کی نوعیت یا نقصانات کے بارے میں فوری طور پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق، بندر عباس کے مشرقی حصوں میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا۔ امریکی حکام نے ان دھماکوں کو اپنی فوجی کارروائیوں سے جوڑا ہے، جس کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایرانی فوجی اہداف، بشمول میزائل لانچ سائٹس اور انقلابی گارڈز کور (IRGC) کی بحری کشتیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھیں، جو آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ ان حملوں سے بندر عباس اور اس کے گردونواح میں رہنے والے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، اور مقامی حکام نے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا۔
مئی 2026 میں بھی بندر عباس کو امریکی افواج کی جانب سے نشانہ بنانے کی اطلاعات تھیں، جب امریکی حکام نے خود دفاع کے حق کے تحت ایران کے فوجی ٹھکانوں پر فضائی اور بحری حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے علاوہ، فروری 2026 میں بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا جب بندر عباس کے قریب میناب میں ایک لڑکیوں کا اسکول امریکی حملے کی زد میں آ گیا تھا، جس سے تقریباً 170 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان واقعات نے بندر عباس کی اسٹریٹیجک حیثیت اور خطے میں جاری کشیدگی کی قیمت کو واضح کیا ہے۔
امریکی دفاعی مؤقف: “تجارتی جہاز رانی کا تحفظ”
امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف اپنی حالیہ فوجی کارروائیوں کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ ان کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کی آزادی کو محفوظ بنانا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے بیانات کے مطابق، امریکہ ایران کو تجارتی جہازوں اور ان کے سویلین عملے کے خلاف “بلا جواز کارروائیوں” کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ان کارروائیوں میں ایران کی مبینہ طور پر تجارتی جہازوں پر حملے، اور آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی کوششیں شامل ہیں۔
سینٹکام نے مزید بتایا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل لانچ سائٹس، فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات، ساحلی نگرانی کے نظام، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، بحری جہاز شکن کروز میزائلوں کی تنصیبات اور ڈرون لانچ سائٹس شامل ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اہداف براہ راست آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔ مثال کے طور پر، 12 جولائی 2026 کو امریکی لڑاکا طیاروں نے ایک تجارتی جہاز پر فائرنگ کے بعد ایک ایرانی کروز میزائل اور ایک ڈرون کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح، مئی 2026 میں بھی امریکی افواج نے ایران کے میزائل لانچ سائٹس اور IRGC کی بحری کشتیوں کو ہدف بنایا تھا، جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب بین الاقوامی شپنگ لینز میں سمندری بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید فوجی کارروائیوں کا عندیہ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بندر عباس میں مبینہ امریکی فضائی حملوں کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں مختلف مقامات پر دھماکوں اور حملوں کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایران کی جانب سے دوبارہ ایسی کارروائی کی گئی تو اس کا ردعمل اور بھی سخت ہو گا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ حملے مکمل کر لیے گئے ہیں اور خطے میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے امریکی افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔
ایران کا ردعمل اور جوابی کارروائیاں
امریکی فوج کی جانب سے کی جانے والی نئی کارروائیوں اور بندر عباس میں دھماکوں کے بعد ایران کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں پر حملوں سے متعلق عائد کیے گئے الزامات درست نہیں ہیں، اور امریکی کارروائیاں خود آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور تجارتی جہاز رانی میں خلل ڈال رہی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا۔ ایرانی انقلابی گارڈز (IRGC) نے بھی جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، IRGC نے خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو ہدف بنایا ہے۔ قطر، کویت، عمان، اردن اور بحرین میں امریکی فوجی مقامات پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بحرین میں سائرن بج گئے اور لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ IRGC نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک “امریکی فضائی اڈے” کو نشانہ بنایا، جسے وہ بندر عباس حملے کے جواب میں “امریکی جارحیت” کا نقطہ آغاز قرار دیتے ہیں۔
ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کو بھی سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا اڈوں کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ایسا مقام جہاں سے ایران کے خلاف حملے کیے جائیں گے، اسے دفاع کے لیے ایک جائز ہدف سمجھا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ تجارتی جہاز رانی کے لیے کھلی ہے۔ ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، IRGC کی بحریہ نے ایک امریکی ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران روکا اور اس پر حملہ کیا جب اس نے اپنا ریڈار سسٹم غیر فعال کر دیا تھا۔
یہ تمام واقعات خطے میں ایک وسیع تر علاقائی تصادم کے بڑھتے ہوئے خدشات کو جنم دے رہے ہیں، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف براہ راست کارروائیوں میں ملوث نظر آ رہے ہیں۔
| واقعہ | تاریخ (تقریبی) | امریکی دعویٰ | ایرانی ردعمل/دعویٰ |
|---|---|---|---|
| بندر عباس میں دھماکے | جولائی 2026 | آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرہ بنانے والی ایرانی صلاحیتوں کو محدود کرنا۔ | فضائی دفاعی نظام کی فعال کاری؛ امریکی حملوں کی مذمت، نقصان کی فوری تفصیلات نہیں۔ |
| امریکی حملوں کا آغاز | جولائی 2026 | آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب، فوجی اہداف کو نشانہ۔ | امریکی الزامات کی تردید، آبنائے ہرمز کی بندش کا دعویٰ، جوابی حملوں کی دھمکی۔ |
| خلیجی خطے میں جوابی حملے | جولائی 2026 | امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی کوششیں (ایران کے دعوے)۔ | بحرین، کویت، قطر، اردن، عمان میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل/ڈرون حملے۔ |
| آبنائے ہرمز میں بحری واقعات | مئی-جولائی 2026 | تجارتی جہازوں پر ایرانی حملے اور سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی کوششیں۔ | امریکی ٹینکر کو روکنے اور اس پر حملہ کرنے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول۔ |
| دیگر ساحلی شہروں میں دھماکے | جولائی 2026 | ایرانی فوجی ڈھانچے، فضائی دفاعی نظام، ریڈار اور کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ | چابہار، سیریک، قشم، جاسک، بوشہر میں دھماکے اور بجلی کی فراہمی میں تعطل۔ |
خطے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے خطے پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سب سے فوری اثر بحرانی صورتحال کی وجہ سے علاقائی استحکام پر پڑ رہا ہے، جس سے وسیع تر علاقائی تصادم کا خوف بڑھ گیا ہے۔ خلیج فارس، خصوصاً آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا تعطل عالمی توانائی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
حالیہ حملوں کے بعد، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جب بھی بندر عباس کے قریب کشیدگی بڑھتی ہے، شپنگ کمپنیاں اپنے راستوں کا دوبارہ جائزہ لیتی ہیں، انشورنس کمپنیاں پریمیم بڑھا دیتی ہیں، اور تیل کی قیمتیں فوری ردعمل دکھاتی ہیں۔ سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر بڑھتے ہوئے خدشات نے عالمی تجارت کو بھی متاثر کیا ہے، کیونکہ کمپنیاں خطرے والے علاقوں سے گریز کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔
جولائی کے اوائل میں طے پانے والا ایک عبوری معاہدہ، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور 60 دن کے مذاکرات کے بعد ایک وسیع تر امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا، ان تازہ کارروائیوں کے بعد شک و شبہات کا شکار ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سیز فائر کو مؤثر طریقے سے “ختم” قرار دیا ہے، حالانکہ انہوں نے بات چیت کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ صورتحال سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا رہی ہے اور کشیدگی میں کمی لانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا رہی ہے۔
اس کے علاوہ، امریکی حملوں کے بعد ایرانی جوابی کارروائیوں میں خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں نے قطر، کویت، عمان، اردن، متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان حملوں سے نہ صرف فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے بلکہ کچھ رپورٹس کے مطابق شہری بھی زخمی ہوئے ہیں اور اہم انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ جو فروری 2026 میں پیش آیا، وہ میناب کے قریب ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے کا تھا، جس میں تقریباً 170 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کو امریکی افواج سے منسوب کیا گیا تھا، جو ایک IRGC بحری اڈے کے قریب واقع عمارتوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ یہ واقعات نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات کو مزید خراب کر رہے ہیں بلکہ پورے خطے کو ایک غیر یقینی اور خطرناک صورتحال سے دوچار کر رہے ہیں۔ اس کشیدگی کے بارے میں مزید تفصیلات ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہیں، جس میں امریکی افواج کی تازہ کارروائیوں اور بندر عباس میں دھماکوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کے امکانات
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچنے کی اپیل کی ہے۔ کئی ممالک نے خطے میں اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
عمان، قطر اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ تنازعات کو حل کیا جا سکے اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ تاہم، دونوں فریقوں کی جانب سے جارحانہ مؤقف اور فوجی کارروائیوں کا تبادلہ ان سفارتی کوششوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں نے کشیدگی کم کرنے کی ساری کوششیں ناکام بنا دی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مسقط میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مذاکرات جاری تھے۔
مستقبل کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ ایک طرف امریکہ کا اصرار ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائے گا، وہیں ایران نے اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ اگرچہ دونوں فریق فی الحال براہ راست وسیع جنگ سے گریز کرتے نظر آتے ہیں، لیکن چھوٹے پیمانے پر فوجی تصادم اور پراکسی وارفیئر کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جو کسی بھی وقت ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کو ایک فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔
نتیجہ
امریکی فوج کی ایران کے خلاف نئی کارروائیاں اور بندر عباس سمیت ایرانی ساحلی شہروں میں دھماکوں کی بازگشت خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو ایک نئی بلندی پر لے گئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے امریکی دعوؤں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے دعوؤں نے ایک خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، جہاں امریکہ ایران پر بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرہ بنانے کا الزام عائد کرتا ہے، وہیں ایران امریکی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیتا ہے اور جوابی اقدامات کا عزم رکھتا ہے۔
ان واقعات کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، علاقائی سفارتی کوششوں کی ناکامی، اور وسیع تر علاقائی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بندر عباس جیسے اسٹریٹیجک مقامات پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال کتنی نازک ہے اور کسی بھی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ اگر موجودہ کشیدگی کو مؤثر طریقے سے کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


