مقبول خبریں

ایران پر امریکی حملوں کا سلسلہ مسلسل آٹھویں شب بھی جاری؛ آبنائے ہرمز کے قریبی شہروں میں دھماکے

ایران پر امریکی حملوں کا سلسلہ مسلسل آٹھویں شب بھی جاری ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے اور مشرق وسطیٰ ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے قریبی شہروں میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس سے یہ علاقہ بدترین صورتحال کا شکار ہو چکا ہے۔ عالمی طاقتیں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، کیونکہ کسی بھی وقت یہ محدود فوجی کارروائیاں ایک مکمل علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہیں جس کے عالمی معیشت اور امن پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

کشیدگی کا پس منظر اور حالیہ صورتحال

امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کا آغاز گزشتہ چند ہفتوں سے جاری ہے۔ جولائی 19، 2026 کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور دور مکمل کیا گیا ہے، جو مسلسل آٹھویں رات جاری رہا ہے۔ یہ حملے اردن میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد کیے جا رہے ہیں، جس میں دو امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتہ ہو چکا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور اس کی جانب سے خطے میں ممکنہ حملوں کی استعداد کو محدود کرنا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، جنوبی ایران کے کئی شہروں میں یکے بعد دیگرے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ہیں، جن میں بندر عباس، قشم، سیریک، چابہار، کنارک، راسک، بوشہر اور ماہشہر شامل ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں اور ان کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سیستان و بلوچستان صوبے کے علاقے ایرانشہر کے قریب بمپور گیریژن میں امریکی میزائلوں نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 ایرانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 260 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایران کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں میں مجموعی طور پر 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حالیہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے تناؤ کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مختلف مواقع پر فوجی جھڑپیں اور پراکسی جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ 2026 میں بھی حالات کشیدہ ہیں اور جنیوا میں ناکام جوہری مذاکرات اور 2025 میں 12 روزہ فضائی تنازع کے بعد سے صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔

آبنائے ہرمز کی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحرِ عمان کے درمیان ایک تنگ سمندری راستہ ہے، جو عالمی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ آبی راستہ خلیج فارس سے کھلے سمندر تک جانے کا واحد بڑا بحری راستہ ہے۔ اس کی چوڑائی تنگ ترین مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر ہے اور یہاں سے روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل گزرتا ہے، جو عالمی تیل کی مجموعی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک جیسے سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا کی 30 فیصد گیس کی ترسیل بھی اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔

جغرافیائی طور پر، آبنائے ہرمز کے شمال میں ایران واقع ہے جبکہ جنوب میں عمان کا مسندم علاقہ اور متحدہ عرب امارات موجود ہیں۔ ایران کا صوبہ ہرمزگان جہاں اس کی اہم بندرگاہ بندر عباس موجود ہے، اسی آبنائے کے قریب واقع ہے۔ اس کے علاوہ قشم، ہرمز، ہنگام اور لار جیسے جزائر بھی اس علاقے کی اسٹریٹجک اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔ یہ تمام عوامل اس راستے کو نہ صرف جغرافیائی بلکہ سیاسی اور عسکری اعتبار سے بھی انتہائی حساس بناتے ہیں۔ آبنائے کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی اور قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ حالیہ حملوں میں بندر عباس، قشم اور سیریک جیسے شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات نے اس علاقے کی حساسیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

امریکی حملوں کے ممکنہ مقاصد اور اہداف

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق، ایران پر جاری حملوں کے متعدد مقاصد ہیں جن میں سب سے اہم ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ امریکہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں اردن میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حالیہ حملے کا جواب ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کی جانب سے خطے میں بحری نقل و حمل اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کے لیے خطرات بڑھ رہے تھے، جن کے جواب میں یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

سینٹکام کے جاری کردہ بیانات کے مطابق، تازہ حملوں میں ایران کے ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان عناصر کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جن پر اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے سے تعلق رکھنے کا الزام ہے۔ جولائی 17، 2026 کو ہونے والے حملوں میں ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں پل، ریلوے اسٹیشن اور ہوائی اڈے شامل تھے۔ ہرمزگان صوبے کے خمیر کاؤنٹی میں واقع گیریوہ پل اور کاہورستان پل، جو بندر عباس کو شیراز سے ملاتے ہیں، حملوں کی زد میں آئے، جبکہ ایک ریلوے اسٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان حملوں سے بندر عباس اور اس کے نواحی علاقوں میں بجلی کی ترسیلی لائنیں متاثر ہوئیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں انتہائی درست ہدفی ہتھیاروں کے ذریعے کی گئیں، تاہم حملوں میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

واقعہتاریخمقامات/اہدافاثرات
اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہجولائی 17، 2026اردن میں امریکی فوجی اڈے2 امریکی فوجی ہلاک، 1 لاپتہ، 4 زخمی
ایرانشہر (بمپور گیریژن) پر امریکی حملہجولائی 15، 2026فوجی تنصیبات، بیرکیں7 ایرانی فوجی ہلاک، متعدد زخمی
جنوبی ایران کے شہروں میں دھماکےجولائی 12-19، 2026بندر عباس، قشم، سیریک، چابہار، اہواز30+ عام شہری ہلاک، 260+ زخمی (مجموعی 50 ہلاک، 500+ زخمی)
پُلوں، ریلوے اسٹیشن، ہوائی اڈے پر حملےجولائی 17، 2026گیریوہ اور کاہورستان پُل، ریلوے اسٹیشنبجلی کی ترسیلی لائنیں متاثر، شاہراہیں بند
آبنائے ہرمز کی عارضی بندشجولائی 12، 2026آبنائے ہرمز بحری راستہعالمی تیل کی سپلائی متاثر، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایران کا ردعمل اور علاقائی اثرات

ایران نے امریکہ کے حملوں پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان کارروائیوں کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ایرانی فوجی حکام کے مطابق، حالیہ حملوں کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے اور مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب دھمکیوں اور دباؤ کی پالیسی مزید برداشت نہیں کی جائے گی، اگر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب بھی دیا جائے گا۔

ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اردن، بحرین اور کویت میں واقع امریکی اڈے ایرانی کارروائیوں کی زد میں آئے۔ کویت نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا، جبکہ عراق نے اربیل کے اوپر حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا۔ اُردن اور بحرین میں بھی فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ قطر کی وزارت دفاع نے بھی اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایک ایرانی میزائل کو فضا میں تباہ کیا۔

ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اور پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو آئندہ اطلاع تک عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی رضامندی کے بغیر کی جانے والی کسی بھی سرگرمی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس بندش کے عالمی توانائی منڈیوں پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں، جہاں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقہ تک پہنچتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی برادری کا موقف اور سفارتی کوششیں

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے امریکہ اور ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف حملے فوری طور پر روک دیں اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دوبارہ جنگ چھڑ گئی تو اس کے نہ صرف خطے کے لوگوں بلکہ پوری دنیا اور عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ سیکرٹری جنرل نے فریقین سے فوری طور پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور اختلافات کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چین اور پاکستان نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور باہمی احترام کی پالیسی کی حمایت کی ہے اور اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور عالمی قوانین میں تلاش کیا جائے۔ پاکستان، ایران، چین، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ اہم تعلقات رکھتا ہے، اس لیے اسلام آباد کی خواہش ہے کہ کشیدگی میں کمی آئے اور تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں۔ سعودی عرب نے بھی بحرین، کویت اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔

تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پُلوں کو نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے باور کرایا کہ ایران پر حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہہ دوں کہ بس بہت ہو گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ٹریول الرٹ بھی جاری کر دیا ہے کیونکہ فضائی حدود کی بندش سے سفری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو تصادم کے امکانات کو کم کرنے کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

مستقبل کے ممکنہ منظرنامے اور خطرات

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو ایک انتہائی نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ حالات میں تین ممکنہ راستے نظر آتے ہیں:

  • پہلا منظرنامہ: مذاکرات اور معاہدہ اس صورت میں دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور ایک مضبوط معاہدے کے لیے بات چیت کریں، جس میں پاکستان اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔ امریکہ کا یہ دعویٰ کہ ایران اب بھی مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے، اس امکان کو تقویت دیتا ہے۔ اگر دونوں ممالک معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ خطے میں امن کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے۔
  • دوسرا منظرنامہ: محدود کشیدگی کا تسلسل یہ وہ صورتحال ہے جو فی الحال نظر آ رہی ہے۔ کشیدگی اسی طرح چلتی رہے گی – کبھی سفارتی بیان، کبھی محدود حملے اور کبھی جوابی کارروائیاں۔ یہ ایک کمزور جنگ بندی کی صورت ہو سکتی ہے جہاں آبنائے ہرمز جزوی طور پر بحری آمدورفت کے لیے بند رہے۔ تاہم، اس میں کسی بھی وقت کوئی غلط فہمی یا چھوٹا واقعہ ایک بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔
  • تیسرا منظرنامہ: مکمل جنگ یہ سب سے خطرناک صورتحال ہے جہاں کوئی غلط فہمی یا حملہ ایک بڑی جنگ میں بدل جائے جو عالمی ایٹمی جنگ پر منتج ہو سکتی ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو نہ صرف خطے کا امن مکمل طور پر تباہ ہو گا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی رسد، بین الاقوامی تجارت اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگ جائیں گی۔ آبنائے ہرمز میں مکمل رکاوٹ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور معاشی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ریاستی میڈیا پر جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بالکل بے اعتبار ہیں۔ انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اس کی اس سے بھی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور مزید ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بیانات واضح طور پر صورتحال کی سنگینی اور ایران کے سخت موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ جنگی صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے ایکسپریس نیوز کی یہ رپورٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

نتیجہ

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ فوجی کشیدگی، جس میں آبنائے ہرمز کے قریبی شہروں میں دھماکے اور آٹھویں رات تک حملوں کا سلسلہ شامل ہے، عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے سخت بیانات اور جوابی کارروائیوں نے خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر، اس علاقے میں کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی یا رکاوٹ کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری، بشمول اقوام متحدہ، پاکستان اور چین، نے کشیدگی میں کمی لانے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے، تاہم فریقین کی جانب سے سخت موقف نے حل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کو ایک نئی اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔