Table of Contents
ٹرمپ کے نئے ٹیرف نے ایک بار پھر عالمی تجارت میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے تحت درجنوں ممالک پر درآمدی محصولات عائد کیے گئے ہیں۔ حالیہ اقدامات 24 اور 25 جولائی 2026 کو نافذ کیے گئے ہیں، جس میں پاکستان، بھارت، چین، اور یورپی یونین سمیت تقریباً 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 10 سے 12.5 فیصد تک کے نئے ٹیرف لگائے گئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ محصولات ان ممالک کی جانب سے سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکامی کے ردعمل میں لگائے گئے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف بین الاقوامی تجارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹرمپ کے نئے ٹیرف کی حالیہ لہر: جبری مشقت پر پابندیاں اور عالمی ردعمل
24 جولائی 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک اہم اعلان کیا جس کے تحت دنیا بھر کے 60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر نئے درآمدی ٹیرف نافذ کیے گئے۔ یہ ٹیرف 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک کی شرح پر عائد کیے گئے ہیں اور ان کا اطلاق ان ممالک سے آنے والی متعدد اشیا پر ہوگا، جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو شامل ہیں جن پر 10 فیصد ٹیرف لگے گا، جبکہ چین اور ویتنام جیسے ممالک پر 12.5 فیصد کی شرح نافذ ہوگی۔
امریکی حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت کیے گئے ہیں، اور ان کا مقصد ان ممالک پر دباؤ ڈالنا ہے جو اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت (forced labor) کے خاتمے کے لیے مؤثر قوانین پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے زور دیا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اب یہ وقت ہے کہ تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو۔
یہ نئے محصولات رواں سال فروری میں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد لگائے گئے عارضی 10 فیصد ٹیرف کی جگہ لے رہے ہیں، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے “باہمی ٹیرف” کو غیر مؤثر قرار دیا تھا۔ عدالت کا فیصلہ اس بات پر مبنی تھا کہ صدر کے پاس اتنے وسیع پیمانے پر تجارتی محصولات عائد کرنے کا اختیار قومی ایمرجنسی قانون کے تحت نہیں تھا۔ تاہم، اب سیکشن 301 کے تحت عائد کیے جانے والے ان ٹیرف کو قانونی طور پر زیادہ مضبوط سمجھا جا رہا ہے۔
نئے ٹیرف سے متعدد اہم اشیا کو استثنیٰ بھی حاصل ہے، جن میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، اور قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم، اور تانبا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اس فیصلے کے بعد آسٹریلیا اور برازیل جیسے ممالک نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے سفارتی کوششیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا نے بھی محتاط ردعمل دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ٹرمپ کے پہلے دور کے ٹیرف: اسٹیل، ایلومینیم اور چین کے ساتھ تجارتی جنگ
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی دور میں “امریکا فرسٹ” کے نعرے کے تحت تجارتی تحفظ پسندی کی پالیسیوں کو فروغ دیا، جس کا آغاز 2018 میں اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر بھاری ٹیرف کے نفاذ سے ہوا۔ مارچ 2018 میں، صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کو جواز بناتے ہوئے تمام امریکی تجارتی شراکت داروں سے درآمد کیے جانے والے اسٹیل پر 25 فیصد اور ایلومینیم پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔ ان اقدامات کا مقصد امریکی مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی عدم توازن کو کم کرنا تھا۔
ان ٹیرف کے نفاذ کے بعد فوری طور پر اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات میں کمی آئی، اور امریکی مارکیٹ میں ان دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں، آٹوموٹیو اور تعمیرات جیسی متعلقہ صنعتوں کو خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کرنا پڑا، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوا۔ کینیڈا، یورپی یونین، اور چین جیسے ممالک نے امریکی ٹیرف کے جواب میں جوابی محصولات عائد کیے، جس سے عالمی تجارتی جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا۔
چین کے ساتھ تجارتی جنگ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کا ایک اہم حصہ تھی، جس نے عالمی اقتصادی منظرنامے کو کافی متاثر کیا۔ صدر ٹرمپ نے چین پر “غیر منصفانہ تجارتی رویہ” اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے چینی مصنوعات پر بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کیے۔ مثال کے طور پر، اکتوبر 2025 میں، ٹرمپ نے تمام چینی مصنوعات پر 100 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل بھی امریکا نے چین پر 34 فیصد اور پھر 125 فیصد تک کے ٹیرف لگائے، جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر 84 فیصد تک جوابی ڈیوٹیز عائد کیں۔
عالمی تجارتی تنظیم (WTO) نے اس تجارتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارت میں 80 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ عالمی معیشت کی دو بڑی قوتوں کے درمیان اس قسم کی تجارتی محاذ آرائی نے عالمی جی ڈی پی میں 7 فیصد تک طویل مدتی کمی کا امکان پیدا کیا۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کے تجارتی اقدامات نہ صرف امریکا بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے، کیونکہ یہ مہنگائی میں اضافہ، ملازمتوں کے خطرات، اور عالمی سطح پر امریکا کی تنہائی کا باعث بنیں گے، جبکہ چین کو عالمی تجارتی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔
کینیڈا پر نئے محصولات اور شمالی امریکہ کے تعلقات
شمالی امریکہ کے تجارتی تعلقات میں بھی ٹرمپ کے ٹیرف نے نئی کشیدگی پیدا کی ہے۔ 21 جولائی 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، ان نئے ٹیرف کا اطلاق آئندہ 30 روز میں ہوگا اور یہ شراب، ڈیری مصنوعات، گاڑیوں سے متعلق اشیا، ہاکی اسٹکس اور سیمنٹ سمیت متعدد صارفین اور صنعتی مصنوعات پر عائد ہوں گے۔
صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ یہ سخت اقدام کینیڈا کی جانب سے امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور الکوحل کے معاملے میں امریکا کے ساتھ غیر مساوی سلوک کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، توانائی، پوٹاش، اہم معدنیات اور مچھلی جیسی چند بڑی برآمدی اشیا کو ان ٹیرف سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت آئندہ ہفتوں میں امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو مزید تیز کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے امریکی اقدامات کو کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان موجود آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کی روح کے منافی بھی قرار دیا۔
اس سے قبل بھی امریکا نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی اسٹیل، ایلومینیم، کاپر، لکڑی اور آٹو پارٹس پر مختلف شرح سے ٹیرف عائد کیے تھے۔ جواباً، کینیڈا نے بھی امریکی اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر 25 فیصد جوابی ٹیرف نافذ کیے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، نئے امریکی ٹیرف دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں اور شمالی امریکا میں سپلائی چین، کاروباری سرگرمیوں اور صارفین کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹرمپ نے کینیڈا کو چین کے ساتھ معاہدے کی صورت میں 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی بھی دی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی کو واضح کرتا ہے۔
ٹیرف کا عالمی تجارت اور سپلائی چینز پر گہرا اثر
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف نے عالمی تجارتی نظام پر گہرے اور وسیع اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان اقدامات نے عالمی سپلائی چینز میں شدید خلل ڈالا ہے، جس سے درآمدات اور برآمدات کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جب درآمدی اشیا پر محصولات عائد ہوتے ہیں، تو درآمد کنندگان کو زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑتی ہیں، اور یہ بوجھ اکثر صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھتی ہے۔ یہ صورتحال امریکی صارفین کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ انہیں غیر ملکی مصنوعات کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، یا انہیں کم معیاری اور مہنگی مقامی مصنوعات خریدنی پڑتی ہیں۔
عالمی منڈیوں میں عدم استحکام بڑھا ہے اور سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا، جس سے سرمایہ کاری کے رجحانات متاثر ہوئے۔ مثال کے طور پر، امریکی اسٹاک مارکیٹ میں 5 فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی، اور دیگر عالمی بازاروں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ کاروباری اداروں کو بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں سپلائی چین کے مختلف حصوں میں دباؤ بڑھا اور منافع میں کمی واقع ہوئی۔ بعض کاروباری ادارے بڑھتی ہوئی لاگت کو خود برداشت کرتے ہیں جبکہ زیادہ تر اسے صارفین تک منتقل کرتے ہیں۔

امریکا کی جارحانہ تحفظ پسندانہ پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ “بائیکاٹ امریکا” جیسی مہمات تیزی سے پھیلیں، جس سے امریکی کمپنیوں کی ساکھ اور کاروبار متاثر ہوا۔ کینیڈا میں صارفین نے امریکی مصنوعات سے گریز کیا، جبکہ ڈنمارک کے ایک بڑے ریٹیلر نے یورپی مصنوعات پر علیحدہ لیبل لگانا شروع کیے تاکہ صارفین امریکی درآمدات سے بچ سکیں۔ یہ رجحانات عالمی تجارت کے ڈھانچے میں طویل مدتی تبدیلیاں لا سکتے ہیں اور امریکا کی عالمی برانڈ ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
| متاثرہ ملک | اشیاء کی قسم | عائد ٹیرف کی شرح | ٹیرف کی وجہ |
|---|---|---|---|
| چین | تمام چینی مصنوعات | 12.5% (حالیہ)، 100% (اکتوبر 2025 اعلان)، سابقہ 34-125% | جبری مشقت، تجارتی عدم توازن، غیر منصفانہ رویہ |
| پاکستان | متعدد مصنوعات | 10% (حالیہ) | جبری مشقت |
| بھارت | متعدد مصنوعات | 10% (حالیہ) | جبری مشقت |
| کینیڈا | شراب، ڈیری، آٹو پارٹس، ہاکی اسٹکس، سیمنٹ (50%)، اسٹیل، ایلومینیم (25%) | 50% (حالیہ)، 25% (سابقہ) | غیر مساوی سلوک، قومی سلامتی، جبری مشقت |
| یورپی یونین | متعدد مصنوعات (بشمول اسٹیل، ایلومینیم) | 10-12.5% (حالیہ)، 25% (سابقہ) | جبری مشقت، قومی سلامتی |
| میکسیکو | متعدد مصنوعات | 10% (حالیہ) | جبری مشقت |
| ویتنام | متعدد مصنوعات | 12.5% (حالیہ)، 46% (سابقہ) | جبری مشقت، تجارتی عدم توازن |
متاثرہ ممالک اور ان کی اقتصادی مشکلات
ٹرمپ کے ٹیرف نے امریکا کے تجارتی شراکت داروں کی معیشتوں پر مختلف طریقوں سے اثر ڈالا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک، جن کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک برآمدات پر ہے، اس پالیسی سے بالواسطہ طور پر متاثر ہوئے۔ گوکہ پاکستان براہ راست ان پابندیوں کا ہدف نہیں تھا، مگر عالمی سطح پر پیدا ہونے والے عدم توازن نے اس کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
پاکستان کی برآمدات، جن میں ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، چمڑا اور کھیلوں کا سامان شامل ہیں، امریکی ٹیرف کی وجہ سے چین جیسے بڑے برآمد کنندگان کی محدود رسائی کے باعث متاثر ہوئیں۔ اگرچہ اس سے امریکا میں متبادل منڈیوں کی تلاش کا موقع پیدا ہو سکتا تھا، تاہم پاکستانی صنعت غیر معیاری پیداوار، برانڈنگ کی کمی اور عالمی سرٹیفیکیشنز کے فقدان جیسی بنیادی وجوہات کی بنا پر اس سے مکمل فائدہ نہ اٹھا سکی۔ توانائی کے بحران اور مہنگی لاگت نے بھی پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا۔ ٹیرف کے نتیجے میں عالمی سطح پر خام مال، خصوصاً کیمیکلز، دھاتوں اور صنعتی مشینری کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوا۔ چونکہ پاکستان کئی اشیا کے لیے درآمدی خام مال پر انحصار کرتا ہے، اس لیے ان قیمتوں میں اضافے نے پیداواری لاگت میں اضافہ کیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق، 2023 میں صنعتی خام مال کی درآمدی لاگت میں 17 فیصد تک اضافہ ہوا، جس کا براہِ راست اثر مقامی صنعتوں پر پڑا۔
چین اور یورپی یونین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کو بھی ٹرمپ کے ٹیرف سے شدید نقصان پہنچا۔ چین نے امریکی ٹیرف کے جواب میں جوابی اقدامات کیے، جس سے دونوں معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت آئی۔ یورپی یونین نے بھی جوابی ڈیوٹیز عائد کیں، جس سے عالمی تجارتی روابط متاثر ہوئے۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں عالمی سرمایہ کاری کا رجحان بھی بدل گیا، اور جب امریکا میں افراطِ زر میں اضافہ ہوا تو فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا دی، جس سے دنیا بھر سے سرمایہ امریکا کی جانب راغب ہوا۔ یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک کے لیے سرمائے کی دستیابی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے اور ان کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتی ہے۔ یہ تجارتی کشیدگی نہ صرف ان ممالک کے لیے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی طویل مدتی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کے خدشات اور ماہرین کے تجزیے تجارتی جنگ کے ممکنہ تباہ کن نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کے تحت عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے بی بی سی اردو کی رپورٹ۔
عالمی اقتصادی ترقی اور صارفین پر بوجھ
ٹرمپ کے ٹیرف نے عالمی اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ تجارتی جنگوں کے نتیجے میں عالمی کساد بازاری کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کی تاریخ 1930 کی دہائی کی گریٹ ڈپریشن سے ملتی ہے، جب تحفظ پسندی کی پالیسیوں نے عالمی تجارت کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ جدید عالمی معیشت میں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی پیچیدہ انداز میں منسلک ہیں، اور تجارتی رکاوٹیں اس عالمی سپلائی چین کو کمزور کرتی ہیں۔
جب درآمدی اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو صارفین کو زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑتی ہیں، جس سے ان کی قوت خرید متاثر ہوتی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف روزمرہ کی اشیائے ضروریہ پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ بڑی صنعتی مصنوعات اور خام مال کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ مثال کے طور پر، اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیرف نے آٹو موٹیو اور تعمیراتی صنعتوں کے لیے پیداواری لاگت میں اضافہ کیا، جو بالآخر گاڑیوں اور گھروں کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا۔
مہنگائی میں اضافے کا ایک اور اہم نتیجہ مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو مرکزی بینک عام طور پر شرح سود بڑھاتے ہیں تاکہ افراطِ زر کو کنٹرول کیا جا سکے، لیکن اس سے گھریلو اور کاروباری قرض لینے والے متاثر ہوتے ہیں اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال کاروباری اداروں کی طویل مدتی منصوبہ بندی کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے سرمایہ کاری میں کمی اور ملازمتوں کے مواقع کم ہوتے ہیں۔ عالمی معیشت کے لیے یہ ایک مشکل چیلنج ہے، اور اگر یہ پالیسیاں برقرار رہتی ہیں تو نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر کی معیشتیں اس کے شدید اثرات محسوس کریں گی۔


