مقبول خبریں

اُمید ہے آبنائے ہرمز ایک سے دو دن میں کھل جائے گی، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ

اُمید ہے آبنائے ہرمز ایک سے دو دن میں کھل جائے گی، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس دعوے نے عالمی توانائی منڈیوں میں ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ منگل یا بدھ تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے معاہدے کی خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی اقتصادیات کو شدید متاثر کر رکھا تھا۔ اس اعلان کے فوری بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آبی گزرگاہ کی بحالی کتنی اہم ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5 فیصد کم ہو کر 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 5 فیصد سے زائد سستا ہو کر 76 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ یہ پیشرفت نہ صرف عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے بلکہ مشرق وسطیٰ کے نازک سیاسی منظرنامے کے لیے بھی گہرے اثرات رکھتی ہے۔ یہ سمندری راستہ، جو خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ہے، عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ اور عالمی رد عمل

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں ایک اہم دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز آئندہ ایک سے دو دن میں تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھل جائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر ایک معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی حکام ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی ایک حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔

اس دعوے کے اثرات عالمی تیل منڈیوں پر فوری طور پر نظر آئے۔ عالمی معیار کے برینٹ خام تیل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمتیں تقریباً تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 5 فیصد سے زائد سستا ہو کر 76 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ نمایاں کمی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ان بیانات کے بعد سامنے آئی، جن میں انہوں نے کہا کہ ایران اور عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد بحال ہونے کی امید ہے۔ اگرچہ امریکی حکام مذاکرات میں پیشرفت کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئی ہیں، اور ایران کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کئی بار مذاکرات کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔

آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحر ہند سے ملانے والی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اس کے شمال میں ایران واقع ہے، جبکہ جنوب میں متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل ہیں۔ یہ دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی تجارت اور توانائی کے لیے ایک حساس ترین علاقہ ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ تنگ ترین مقام پر تقریباً 33 سے 39 کلومیٹر چوڑی ہے، اور یہاں سے روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل خام تیل گزرتا ہے جو عالمی تیل کی مجموعی کھپت کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ تیل کے علاوہ، دنیا کی تقریباً 30 فیصد مائع قدرتی گیس (LNG) بھی اسی راستے سے ترسیل کی جاتی ہے۔

اس آبنائے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک اپنی توانائی کی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ خاص طور پر قطر، جو دنیا میں سب سے زیادہ LNG برآمد کرنے والا ملک ہے، اپنی برآمدات کے لیے مکمل طور پر اسی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت جیسی بڑی ایشیائی معیشتیں اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے درآمد کرتی ہیں۔ جاپان اپنی ضرورت کا 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں، جبکہ چین اپنی ضرورت کا تقریباً آدھا تیل یہاں سے منگواتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے سالانہ 600 ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے۔ اس کی بندش سے عالمی معیشت، خاص طور پر ایشیائی منڈیوں پر گہرے اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ کی لاگت میں اضافہ، اور سپلائی چین میں تاخیر شامل ہے۔

عالمی تیل اور گیس کی ترسیل پر اثرات

آبنائے ہرمز کی اہمیت عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اسے ماہرین “توانائی کی شہ رگ” قرار دیتے ہیں۔ جب بھی اس علاقے میں کشیدگی بڑھتی ہے یا اس کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں فوراً اضافہ ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں پیشرفت کی خبروں نے عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی لائی ہے۔ برینٹ خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 76 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا ہے۔ یہ کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی منڈی اس آبی گزرگاہ کی مکمل بحالی کے لیے کتنی بے چین ہے۔

اس گزرگاہ کی ممکنہ بندش سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ عالمی سپلائی چین کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ سمندر میں کسی بھی اہم گزرگاہ کی بندش کا مطلب ہے کہ جہازوں کے راستے بدلیں گے، سفر طویل ہوگا، انشورنس مہنگی ہوگی اور سامان کی ترسیل میں تاخیر پیدا ہوگی۔ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور ٹرانسپورٹ لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز چند دن کے لیے بھی متاثر ہو جائے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ ماضی میں، 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے دوران “ٹینکر وار” کے دوران تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس سے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور تیل کی تجارت غیر مستحکم ہو گئی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں معمولی نوعیت کا واقعہ بھی عالمی معیشت کے لیے بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

مذاکراتی پیشرفت اور امریکی دعوے کی صداقت

آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے دعوے کے ساتھ ہی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان مذاکرات میں عمان اور قطر ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کے ایک مجوزہ معاہدے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس مجوزہ انتظام کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے تجارتی جہاز ایران کے زیر انتظام بحری راستے سے گزریں گے، جبکہ خلیج سے باہر آنے والے جہاز عمان کے زیر انتظام راستے کو استعمال کریں گے۔ دونوں ممالک بحری سلامتی، رہنمائی اور سمندری ماحول کے تحفظ کی خدمات کے عوض سروس فیس وصول کریں گے۔

تاہم، امریکی حکام کے بیانات میں کچھ تضاد بھی پایا جاتا ہے، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ آبنائے ہرمز کے جلد کھلنے کی امید ظاہر کر رہے ہیں، وہیں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے اور امریکی افواج نے گزشتہ تین ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد تجارتی جہازوں کو بحفاظت اس راستے سے گزرنے میں معاونت فراہم کی ہے۔ یہ متضاد بیانات ایک سوال کھڑا کرتے ہیں کہ اگر راستہ پہلے سے کھلا ہے تو پھر اسے دوبارہ کھولنے کے معاہدے کی ضرورت کیوں ہے؟ اور اگر معاہدہ ابھی ہونا باقی ہے تو راستہ مکمل طور پر کھلا ہونے کا دعویٰ کس تناظر میں کیا جا رہا ہے؟۔ یہ ابہام عالمی برادری میں تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئی ہیں، اور ایران نے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق، اس مجوزہ معاہدے کو ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ اگر امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔

پہلو اعداد و شمار/تفصیلات
آبنائے ہرمز کی چوڑائی تنگ ترین مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر (21 میل)
یومیہ تیل کی ترسیل تقریباً 20-21 ملین بیرل خام تیل
عالمی تیل کی کھپت میں حصہ عالمی کھپت کا تقریباً 20 فیصد
عالمی LNG کی ترسیل میں حصہ عالمی ترسیل کا تقریباً 30 فیصد
سالانہ تجارتی حجم تقریباً 600 ارب ڈالر
خام تیل کی قیمت (تازہ ترین) برینٹ خام تیل: 79.77 ڈالر فی بیرل، امریکی WTI: 76.09 ڈالر فی بیرل
اہم اتحادی ممالک ایران، عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان

خطے میں کشیدگی اور اس کے تاریخی پس منظر

مشرق وسطیٰ کا خطہ اپنی جغرافیائی اہمیت اور توانائی کے ذخائر کی وجہ سے ہمیشہ سے عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اس خطے میں تناؤ کا ایک اہم نقطہ بنی رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے کئی بار اس آبی گزرگاہ کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے ہی ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنے اثر و رسوخ کو ایک اسٹریٹیجک طاقت کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے دوران “ٹینکر وار” ایک نمایاں مثال ہے، جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے تیل کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں آئیں اور عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

حالیہ برسوں میں بھی اس آبنائے کی بندش کی دھمکیاں یا جزوی رکاوٹیں عالمی سطح پر سنجیدہ اثرات کا باعث بنتی رہی ہیں۔ مارچ 2026 میں، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔ ایران نے کئی بار اس آبنائے کو ایک “ٹرمپ کارڈ” کے طور پر استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے، خاص طور پر اگر اس کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے ہوں۔ جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے ردعمل میں ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری بھی دی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے وہی جہاز گزریں گے جنہیں امریکہ اجازت دے گا۔ انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر خطے کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم امریکہ اس حوالے سے مکمل طور پر چوکس ہے۔ امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مزید سخت کر دی ہے، اور اس دوران تقریباً 30 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا جبکہ دو تجارتی جہازوں کو غیر فعال کیا گیا اور دو دیگر جہازوں پر سوار ہو کر ان کی تلاشی لی گئی۔

عالمی ماہرین اور سفارتکار مشرق وسطیٰ میں جاری اس کشیدگی کو عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھتے ہیں۔ قطر، عمان اور دیگر ممالک کی جانب سے سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ تناؤ میں کمی لائی جا سکے اور مذاکرات کے ذریعے کوئی پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ عالمی برادری بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ جنگیں مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں، اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

عالمی اور علاقائی معیشت پر ممکنہ اثرات

آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر گہرے اور وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ چونکہ یہ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے اس کی بندش سے سب سے پہلے عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ ماہرین کے مطابق، اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے تو تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ ایک منفی منظرنامے کے تحت ستمبر 2026 کی سہ ماہی کے دوران خام تیل کی قیمت 200 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں آسٹریلیا جیسے ممالک میں سالانہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو گا۔

تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ شپنگ کی لاگت میں بھی اضافہ ہو گا، کیونکہ جہازوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پڑیں گے، جس سے سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو گی اور انشورنس کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔ یہ صورتحال عالمی مہنگائی کو مزید بڑھا دے گی اور سپلائی چین کے نظام کو درہم برہم کر دے گی۔ اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی منڈیوں پر پڑے گا۔ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیج سے حاصل کرتے ہیں، شدید متاثر ہوں گے۔ مثال کے طور پر، ہندوستان آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنے خام تیل کا تقریباً دو تہائی اور تقریباً نصف ایل این جی درآمد کرتا ہے، اور ناکہ بندی کی صورت میں اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان پر بھی اس صورتحال کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں واضح اضافہ متوقع ہے، جبکہ بجلی اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ یہ بحران پاکستانی معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گا جو پہلے ہی کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ سعودی عرب نے اس خطرے کے پیش نظر کئی سال پہلے ایک متبادل راستہ تیار کیا تھا جسے “ایسٹ ویسٹ پائپ لائن” کہا جاتا ہے، لیکن یہ آبنائے ہرمز کی مکمل صلاحیت کا متبادل نہیں ہے۔ دیگر اہم بحری راستے جیسے آبنائے ملاکا، نہر سویز، اور نہر پاناما بھی عالمی تجارت کے لیے اہم ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کی طرح تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے کوئی واحد متبادل راستہ دستیاب نہیں ہے جو اس کی اہمیت کو مکمل طور پر پورا کر سکے۔ عالمی سطح پر توانائی، خوراک اور ادویات کی سپلائی چین پر آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات مشرق وسطیٰ سے نکل کر یورپ اور امریکہ تک پھیل سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، عالمی معاشی سست روی میں اضافہ ہوگا اور مہنگائی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی بحری تجارت کو ایک غیر معمولی امتحان سے دوچار کر رہی ہے۔ اس بارے میں مزید تفصیلات ایکسپریس نیوز پر پڑھیں۔

سفارتی کوششیں اور آئندہ کی راہ

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ عمان اور قطر جیسے ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ میں کمی لائی جا سکے اور ایک پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔ قطر کے وزیراعظم نے سعودی، اردن اور کویتی وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں، جس میں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور فریقین پر سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ ان رہنماؤں نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی اور خطے کے استحکام پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، ان مذاکرات کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو دوبارہ بحال کرنا، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کرنا، اور سمندری راستوں کو کھولنا ہے۔ یہ مذاکرات خطے میں تمام حملے روکنے اور ایرانی تیل کی برآمدات کو بغیر رکاوٹ دوبارہ شروع کرنے پر بھی مرکوز ہیں۔ امکان ہے کہ دونوں فریق 18 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بنیادی نکات کی طرف دوبارہ واپس آ سکتے ہیں۔

اگر امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کی بحالی کا کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو نہ صرف عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر سفارتی مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیوں نے امن مذاکرات کے باوجود محتاط رویہ برقرار رکھا ہوا ہے، اور بحری ٹریفک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد معمول سے کم ہے۔ کئی جہاز اب بھی حالیہ حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق، عمان کے ساتھ مشترکہ بحری راستہ قائم کرنے کے معاملے پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے نظام کو مزید منظم اور محفوظ بنانا ہے۔ اگر دونوں ممالک کسی مشترکہ انتظام پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس سے عالمی تجارت، تیل اور گیس کی ترسیل پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا یہ دعویٰ کہ آبنائے ہرمز ایک سے دو دن میں کھل جائے گی، عالمی توانائی منڈیوں اور سیاسی حلقوں میں ایک بڑی خبر ہے۔ اس ممکنہ پیشرفت نے فوری طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان پیدا کیا ہے، جو اس آبی گزرگاہ کی غیر معمولی اقتصادی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ آبنائے ہرمز، جو دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کی شہ رگ ہے، کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافے، بلکہ مہنگائی، ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافے، اور عالمی سپلائی چین کی رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان عمان اور قطر کی ثالثی میں جاری مذاکرات ایک مثبت قدم ہیں، تاہم امریکی حکام کے متضاد بیانات نے صورتحال میں کچھ ابہام بھی پیدا کیا ہے۔ اگرچہ سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ جنوبی بحری راستہ کھلا ہے، لیکن ایک معاہدے کی ضرورت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اعتماد کی بحالی اور محفوظ آمدورفت کے لیے ایک باضابطہ فریم ورک ضروری ہے۔ اس معاہدے کی تکمیل نہ صرف عالمی تجارت کو بحال کرے گی بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور امریکہ و ایران کے درمیان وسیع تر سفارتی engagements کے لیے بھی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ پاکستان سمیت ایشیائی ممالک کے لیے، جو اس آبنائے پر اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے گہرا انحصار کرتے ہیں، اس کا کھلنا ایک خوش آئند پیشرفت ہو گی۔ یہ سفارتی کامیابی عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے ایک نئی امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔