مقبول خبریں

سونے کے بھاؤ آج کیا رہے، قیمت میں ہوا کتنا اضافہ؟

سونے کے بھاؤ آج کیا رہے، اور قیمت میں کتنا اضافہ ہوا، یہ سوال پاکستان میں ہر اس فرد کے ذہن میں ہے جو یا تو سونا خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے یا اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ سونا ہمیشہ سے ہی پاکستانی معاشرت اور معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، چاہے وہ زیورات کی شکل میں ہو یا بطور ایک محفوظ سرمایہ کاری۔ موجودہ عالمی اور مقامی معاشی حالات کے تناظر میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، اور آج بھی اس قیمتی دھات کی قیمتوں میں خاصی تبدیلی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سونے کی قیمتیں صرف ایک تجارتی خبر نہیں بلکہ لاکھوں گھرانوں کی مالی منصوبہ بندی اور خریداری کے فیصلوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی معمولی ہلچل بھی پاکستانی صرافہ بازاروں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کا سبب بنتی ہے، جس سے عام خریداروں سے لے کر بڑے سرمایہ کاروں تک سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم آج کی سونے کی قیمتوں، حالیہ اضافے، اس کے پیچھے کارفرما عوامل، تاریخی رجحانات اور مستقبل کے امکانات کا جامع جائزہ لیں گے۔

آج پاکستان میں سونے کی تازہ ترین قیمتیں

بدھ، 12 اگست 2026 کو پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں بشمول کراچی، اسلام آباد، لاہور، ملتان اور پشاور میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 453,300 روپے رہی۔ اسی طرح، 24 قیراط سونے کی 10 گرام کی قیمت 388,640 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ، 22 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 415,641 روپے رہی۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 4386 ڈالر پر مستحکم دیکھی گئی۔

یہ قیمتیں آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (APSGJA) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہیں، جو مقامی مارکیٹ کے رجحانات، امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر، اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی جاتی ہیں۔ آج کی یہ قیمتیں ملک کے بڑے شہروں میں یکساں رہیں۔

حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ

گزشتہ چند دنوں سے پاکستانی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور خریداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ 11 اگست 2026 کو، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، اس دن 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 2400 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 4 لاکھ 59 ہزار 736 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح، 10 گرام سونے کی قیمت 2058 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 94 ہزار 149 روپے ہوگئی۔ عالمی مارکیٹ میں بھی فی اونس سونے کی قیمت 24 ڈالر بڑھ کر 4373 ڈالر کی سطح پر آگئی۔

اس سے قبل، 10 اگست 2026 کو بھی سونے کی قیمت میں 800 روپے فی تولہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد فی تولہ قیمت 4 لاکھ 57 ہزار 336 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ جبکہ 7 اگست 2026 کو فی تولہ سونے کی قیمت میں 5100 روپے کا بڑا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد اس کی قیمت 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے ہو گئی تھی۔ مجموعی طور پر، گزشتہ 6 دنوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 31 ہزار 800 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ گزشتہ 5 دنوں میں یہ 29400 روپے فی تولہ بڑھا تھا۔ ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سونے کی قیمتیں ایک تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان پر گامزن ہیں، جس کی بنیادی وجہ عالمی اور مقامی عوامل کا باہمی اشتراک ہے۔

عالمی گولڈ مارکیٹ اور پاکستان پر اثرات

سونے کی قیمتیں عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، اور پاکستان میں سونے کے نرخ بھی بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے کئی اسباب ہوتے ہیں، جن میں ڈالر کی قدر، امریکی شرح سود، عالمی معاشی استحکام، اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 11 اگست 2026 کو عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت ایک فیصد اضافے کے ساتھ 4,432.74 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو کہ 5 جون کے بعد سونے کی بلند ترین قیمت ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت میں بھی 1.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4,492.60 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں یہ تیزی ان سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کی وجہ سے ہے جو پہلے قیمت میں کمی کے دوران سونا خریدنے سے محروم رہ گئے تھے۔ اس کے علاوہ، محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافے نے بھی سونے کی قیمت کو سہارا دیا ہے۔ جب عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار دیگر اثاثوں جیسے اسٹاک مارکیٹ سے نکل کر سونے جیسی محفوظ دھاتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں، جس سے اس کی طلب اور قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ پاکستانی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان میں سونے کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ ریٹ سے تقریباً 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عالمی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی مقامی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، جس سے پاکستانی صارفین اور سرمایہ کار براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔

سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل

سونے کی قیمتوں کا تعین کسی ایک عامل کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ یہ کئی پیچیدہ عالمی اور مقامی عوامل کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان عوامل میں عالمی معاشی حالات، جغرافیائی سیاسی صورتحال، کرنسیوں کی قدر، مرکزی بینکوں کی پالیسیاں اور طلب و رسد کے رجحانات شامل ہیں۔

عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی

جب عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے، تو سونا ایک “محفوظ پناہ گاہ” (safe haven) کے طور پر کام کرتا ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، اور دیگر عالمی تنازعات سرمایہ کاروں کو اسٹاک مارکیٹ اور دیگر اتار چڑھاؤ والے اثاثوں سے دور کر کے سونے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن جیسے خدشات بھی سونے کی مانگ میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی طلب کے نتیجے میں عالمی اور مقامی دونوں مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

امریکی ڈالر کی قدر اور شرح سود

امریکی ڈالر کی قدر اور شرح سود کا سونے کی قیمت سے گہرا تعلق ہے۔ عام طور پر، جب امریکی ڈالر کی قدر کمزور ہوتی ہے، تو سونا بین الاقوامی خریداروں کے لیے سستا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی یا اضافے کے امکانات سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ شرح سود میں کمی سونے کو زیادہ پرکشش بناتی ہے، کیونکہ سونا خود کوئی سود ادا نہیں کرتا، اس لیے کم شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش بڑھ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے ہیں، جس نے سونے کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔

پاکستانی روپے کی قدر اور افراط زر

پاکستان میں سونے کی قیمتوں پر مقامی کرنسی یعنی روپے کی قدر اور افراط زر کا بھی بڑا اثر ہوتا ہے۔ جب پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتی ہے، تو سونے کی درآمد مہنگی ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ افراط زر، یعنی مہنگائی، بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم محرک ہے۔ ایسے حالات میں لوگ اپنی دولت کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ اسے مہنگائی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال سمجھا جاتا ہے۔

مرکزی بینکوں کی سونے کی خریداری

عالمی سطح پر مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری بھی اس کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، جیسے چین، انڈیا اور ترکی، اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ ایک حکمت عملی ہے جس کا مقصد امریکی ڈالر اور دیگر بین الاقوامی کرنسیوں پر انحصار کم کرنا ہے۔ جب بڑے مرکزی بینک سونے کی بڑی مقدار خریدتے ہیں، تو عالمی مارکیٹ میں اس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے قیمتیں مزید اوپر جاتی ہیں۔

سونا بطور سرمایہ کاری: ایک محفوظ پناہ گاہ

سونا کو صدیوں سے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، خاص طور پر معاشی عدم استحکام، افراط زر، اور سیاسی بے یقینی کے ادوار میں۔ یہ ایک ایسا اثاثہ ہے جو تاریخی طور پر اپنی قدر برقرار رکھتا ہے اور اکثر مشکل وقت میں دیگر اثاثوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔ پاکستان میں بھی سونے میں سرمایہ کاری کا رجحان بہت مضبوط ہے، اور اسے نہ صرف زیورات بلکہ دولت کے تحفظ اور مستقبل کی مالی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جب سرمایہ کار دوسرے اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں، تو وہ اکثر سونا خریدتے ہیں۔

سونے میں سرمایہ کاری کے کئی فوائد ہیں: یہ افراط زر کے خلاف ایک مؤثر ہیج فراہم کرتا ہے، اس کی عالمی سطح پر قبولیت ہے، اور اسے نسبتاً آسان سے نقد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں، جیسے کہ سونا کوئی آمدنی (مثلاً سود یا منافع) پیدا نہیں کرتا، اور اس کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود، پاکستان جیسے ممالک میں جہاں روپے کی قدر میں گراوٹ اور مہنگائی عام ہے، سونا ایک قابل اعتماد سرمایہ کاری بنا ہوا ہے۔ حالیہ برسوں میں سونے نے پراپرٹی جیسے اثاثوں کے مقابلے میں بھی تیزی سے ترقی دکھائی ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا تاریخی جائزہ

پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا سفر ملک کی معاشی تاریخ، افراط زر اور روپے کی قدر کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت، 1947 میں، ایک تولہ سونا تقریباً 57 روپے میں دستیاب تھا۔ یہ وہ دور تھا جب سونا عام پاکستانی کی قوت خرید کے مطابق سستا سمجھا جاتا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ، عالمی اور مقامی عوامل کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ 1970 کی دہائی میں، نکسن شاک (بریٹن ووڈز کے نظام کا خاتمہ) اور تیل کی قیمتوں میں اضافے جیسے عوامل نے عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں کو بڑا دھکا دیا، جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔ 1980 کی دہائی میں سونا پہلی بار 2 ہزار روپے فی تولہ سے تجاوز کر گیا۔

نئی صدی کے آغاز سے سونے کی قیمتوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آئی۔ 2003 میں فی تولہ سونا 9,000 روپے تھا، جو 2009 تک 29,500 روپے تک پہنچ گیا۔ 2011 میں یہ 56,000 روپے کی سطح پر تھا، جو عالمی سطح پر سونے کے لیے ایک تاریخی ریکارڈ کا سال تھا۔ 2023 میں یہ 219,000 روپے اور اپریل 2025 میں 3 لاکھ 65 ہزار روپے کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا۔ جنوری 2026 میں، ایک تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ 14 ہزار 660 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح، گزشتہ 78 برسوں میں سونے کی قیمت میں تقریباً 6400 گنا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

ذیل میں پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمتوں کا ایک مختصر تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے (24 قیراط):

سالجنوری/دسمبر میں فی تولہ قیمت (PKR)اہم تبدیلی
194757قیام پاکستان
1959تقریباً 133مستحکم دور کا اختتام
1979تقریباً 1230نکسن شاک کے بعد پہلی بڑی اڑان
19802,000 سے تجاوز کر گیاپہلی بار دو ہزار سے زائد
20039,00021ویں صدی کا آغاز
200929,500عالمی مالیاتی بحران کا اثر
201156,000عالمی مارکیٹ میں ریکارڈ بلندی
201988,100تیز رفتار اضافہ شروع
2021126,000کورونا وبا اور معاشی عدم استحکام
2023219,000تیزی سے بڑھتی قیمتیں
2025 (اپریل)365,000اعلیٰ ترین سطح
2026 (جنوری)514,660ریکارڈ توڑ اضافہ
2026 (آج، 12 اگست)453,300موجودہ قیمت

یہ جدول واضح طور پر دکھاتا ہے کہ کس طرح سونے نے طویل مدت میں دولت کے تحفظ اور نمو کا کردار ادا کیا ہے۔

صارفین اور جیولرز پر اثرات

سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستانی صارفین اور جیولرز دونوں کے لیے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ عام شہریوں کے لیے، خاص طور پر شادی بیاہ جیسے مواقع پر، زیورات کی خریداری ایک مشکل کام بن گئی ہے۔ پہلے جہاں لوگ 10 سے 12 تولہ سونا خریدتے تھے، اب مہنگے سونے کی وجہ سے یہ خریداری صرف 3 سے 4 تولہ تک محدود ہو گئی ہے۔ بلند قیمتوں کے باعث سونے کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے اور زیادہ تر خریدار صرف ضرورت کے تحت ہی خریداری کر رہے ہیں۔ صرافہ بازاروں میں خریداروں کی تعداد میں کمی سے جیولرز کے کاروبار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اس صورتحال میں، کچھ صارفین نے اب سونے کے بجائے چاندی میں سرمایہ کاری کا رجحان اپنایا ہے، کیونکہ یہ نسبتاً سستی اور محفوظ سرمایہ کاری کا ایک متبادل آپشن ہے۔ چاندی کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر چھوٹے سرمایہ کاروں کی جانب سے۔ یہ رجحان نہ صرف زیورات کی دکانوں پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی جہاں لوگ کم سرمایہ کاری سے اپنی دولت کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، سونے کی ثقافتی اور روایتی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، اور پاکستانی معاشرے میں اسے اب بھی ایک لازمی سرمایہ کاری اور زینت کا حصہ سمجھا جاتا ہے ایکسپریس نیوز کی رپورٹ۔

مستقبل کا منظر نامہ اور ماہرین کی پیش گوئیاں

سونے کی عالمی اور مقامی قیمتوں کے مستقبل کے بارے میں ماہرین مختلف پیش گوئیاں کر رہے ہیں، لیکن زیادہ تر اس بات پر متفق ہیں کہ اگر موجودہ عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حالات برقرار رہے تو درمیانی مدت میں سونے کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، سونے میں موجودہ تیزی کا ایک بڑا سبب عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور افراط زر کا دباؤ ہے۔ کچھ ماہرین نے مستقبل میں سونے کے 5 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح کی جانب جانے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کے فیصلوں پر بھی سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے