مقبول خبریں

ٹرمپ کی نیتن یاہو کو حمایت: 2026 میں مشرق وسطیٰ کی حیرت انگیز پیش رفت

مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی منظرنامہ 2026 میں غیر معمولی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا ہے، جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے لیے غیر مشروط حمایت اور ایران کی جانب سے “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” میں شمولیت کی خواہش جیسے حیرت انگیز واقعات نے خطے کی سیاست کو نئی شکل دی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف علاقائی طاقتوں کے تعلقات کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے گہرے مضمرات ہیں۔ یہ نئی تبدیلیاں مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کر رہی ہیں۔

یہ تمام عوامل ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب عالمی طاقتیں اپنے روایتی اثر و رسوخ کے بارے میں بڑھتے ہوئے سوالات کا سامنا کر رہی ہیں، اور دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا قیام، اور اس میں ایران کی ممکنہ شمولیت، اس بات کا عکاس ہے کہ علاقائی ممالک اب اپنی سلامتی اور معاشی ترجیحات کے لیے خود انحصاری کی راہ اپنا رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کی پالیسیوں کا علاقائی سلامتی پر اثر

ٹرمپ اور نیتن یاہو کا تاریخی اتحاد اور 2026 کے انتخابات

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات میں بن یامین نیتن یاہو کی باضابطہ اور مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایک “عظیم وزیر اعظم” اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا “بہترین شراکت دار” قرار دیا ہے۔ یہ حمایت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل 27 اکتوبر 2026 کو پارلیمانی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے، جو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان دیا کہ نیتن یاہو نے شدید اندرونی اور بیرونی مخالفت کے باوجود ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو مشکل ترین حالات میں بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے، بلکہ مزید مضبوط ہوئے اور آج بھی اسی طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ٹرمپ کی یہ حمایت نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ کے لیے انتخابی فائدے کا باعث بن سکتی ہے، تاہم رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسرائیل میں ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔

ایران پر حملوں کا عالمی سیاست پر اثر

“مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” کیا ہے؟ ایک نیا علاقائی بلاک

“مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” ایک سہ فریقی اجتماعی دفاعی معاہدہ ہے جس پر 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ خطے میں سلامتی کے ایک نئے ڈھانچے کی بنیاد رکھتا ہے، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جو اجتماعی دفاع کے اصول پر مبنی ہے۔

یہ معاہدہ فروری 2026 میں شروع ہونے والی ایران-امریکا-اسرائیل جنگ کے بعد ابھرنے والی نئی تزویراتی صورتحال کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔ اس کا مقصد بیرونی مداخلت سے پاک علاقائی سکیورٹی کو یقینی بنانا اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور پیشہ ور فوج، سعودی عرب کی اقتصادی قوت اور حرمین شریفین کی حفاظت، جبکہ ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت اور ڈرون ٹیکنالوجی، اس اتحاد کو ایک مضبوط علاقائی دفاعی بلاک بناتی ہیں۔

امریکہ ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال

ایران کی مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کی غیر متوقع خواہش

سب سے حیرت انگیز پیش رفت یہ ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے الجزیرہ کو ایک انٹرویو میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اس دفاعی اتحاد کو ایک “مثبت پیش رفت” قرار دیا اور کہا کہ ایران بھی اس عمل میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد کو مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی امکان ظاہر کیا تھا کہ ایران بالآخر مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔ یہ پیش رفت تاریخی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی اثر و رسوخ اور مذہبی اختلافات کی وجہ سے طویل عرصے سے کشیدگی جاری ہے۔ اگرچہ ایران نے اس اتحاد کے فیصلوں کی تفصیلات معلوم نہ ہونے کا ذکر کیا ہے، لیکن اس کی شمولیت کی خواہش مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

علاقائی روابط کا ثقافتی اور سماجی پہلو

مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا قیام اور ایران کی اس میں شمولیت کی خواہش مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کا نتیجہ ہے۔ 2026 میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی متاثر کیا، جس میں ڈرون اور میزائل حملے اور اہم آبی گزرگاہوں کی بندش شامل تھی۔ ان واقعات نے توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت کو متاثر کیا، جس سے ایک غیر مستحکم سکیورٹی ماحول پیدا ہوا۔

امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق، نئے علاقائی بلاکس کی تشکیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی نے خطے کی سکیورٹی کو نئی آزمائش سے دوچار کر رکھا ہے۔ سعودی عرب، امریکہ کی طرف سے سلامتی کی ضمانتوں کے کمزور پڑنے کے بعد، اب خطے میں اپنا کردار مزید فعال بنانے کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون بڑھا رہا ہے۔ یہ صورتحال علاقائی ریاستوں کو اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئے طریقوں پر غور کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

اہم کردار معاہدے میں پوزیشن علاقائی حکمت عملی
سعودی عرب بانی رکن (مکہ معاہدہ) علاقائی استحکام، خود مختاری، بیرونی مداخلت میں کمی
پاکستان بانی رکن (مکہ معاہدہ) دفاعی مضبوطی، مسلم دنیا میں اہم کردار، ثالثی کی کوششیں
ترکیہ بانی رکن (مکہ معاہدہ) جدید دفاعی صلاحیتیں، نیٹو رکنیت، علاقائی اثر و رسوخ
ایران شمولیت کا خواہش مند علاقائی سکیورٹی نظام میں شمولیت، امریکی انخلا کی حمایت
امریکہ حمایت (اسرائیل)، علاقائی اثر و رسوخ میں کمی اسرائیلی سلامتی کا تحفظ، ایران پر دباؤ
اسرائیل باہری فریق، علاقائی کشیدگی کا حصہ سکیورٹی خدشات، علاقائی توسیع پسندی

علاقائی طاقتوں کے مفادات اور چیلنجز

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی طاقتوں کے لیے کثیر جہتی فوائد رکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ دہشت گردی اور سرحدی کشیدگی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے دفاعی تعاون کو فروغ دیتا ہے، جبکہ ترکیہ اپنی جدید دفاعی صنعت اور جغرافیائی اہمیت کو بروئے کار لا رہا ہے۔ سعودی عرب کو اس اتحاد کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خطے میں استحکام لانے کا موقع ملتا ہے، خاص طور پر امریکی سلامتی کی ضمانتوں پر انحصار کم ہونے کے تناظر میں۔

ایران کی شمولیت کی خواہش کے پیچھے اس کی طویل المدتی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جو خطے میں امریکی افواج کے انخلا اور مقامی سکیورٹی نظام کے قیام کی حمایت کرتی ہے۔ تاہم، ایران کا حوثی ملیشیا کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے جدید ہتھیار اور انٹیلی جنس فراہم کرنا، اس ممکنہ اتحاد کی راہ میں ایک بڑی پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد سازی ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

عالمی سطح پر کھیلوں کی ڈپلومیسی کے اثرات

امریکہ کی بدلتی پالیسی اور علاقائی خلا

مشرق وسطیٰ میں حالیہ سکیورٹی صورتحال نے امریکہ کی روایتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ امریکی دفاعی چھتری کا مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی نے خلیجی ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔