Table of Contents
خلا میں 8 ماہ گزارنے والا سویوز ایم ایس 28 مشن کا عملہ بحفاظت زمین پر پہنچ گیا ہے۔ یہ ایک ایسے تاریخی خلائی سفر کا اختتام ہے جس میں امریکی اور روسی خلابازوں پر مشتمل تین رکنی عملے نے 241 دن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر گزارے۔ اتوار، 26 جولائی 2026 کو، روسی سویوز ایم ایس 28 (Soyuz MS-28) خلائی جہاز نے، ناسا کے خلاباز کرس ولیمز (Chris Williams) اور روسکوسموس کے خلابازوں سرگئی کُڈ-سویرچکوف (Sergey Kud-Sverchkov) اور سرگئی میکائیف (Sergei Mikaev) کو لے کر، قازقستان کے وسیع میدانوں میں بحفاظت لینڈنگ کی۔ یہ مشن، جس نے خلا میں انسانی موجودگی، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کی ایک اور شاندار مثال قائم کی، کئی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
ایک تاریخی خلائی سفر کا اختتام: سویوز ایم ایس 28 کی واپسی
سویوز ایم ایس 28 مشن نے خلا میں 241 دن (تقریباً 8 ماہ) مکمل کرنے کے بعد اپنی کامیاب واپسی کے ساتھ خلائی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ 27 نومبر 2025 کو لانچ ہونے والے اس مشن کا مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر عملے کو پہنچانا اور وہاں سائنسی تجربات کا ایک سلسلہ انجام دینا تھا۔ خلائی اسٹیشن پر طویل قیام کے بعد، عملے کی زمین پر بحفاظت واپسی نہ صرف روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس بلکہ ناسا کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ کامیابی موجودہ عالمی تناؤ کے باوجود بین الاقوامی خلائی تعاون کی پائیداری کو ظاہر کرتی ہے۔
کرس ولیمز کا یہ پہلا خلائی سفر تھا، جبکہ سرگئی کُڈ-سویرچکوف کا یہ دوسرا اور سرگئی میکائیف کا بھی پہلا مشن تھا۔ ان خلابازوں نے اپنے قیام کے دوران متعدد سائنسی تحقیقات اور تکنیکی مظاہروں میں حصہ لیا، جن میں نئے کینسر کے علاج اور خلا میں جدید مینوفیکچرنگ کی تحقیق شامل تھی۔ ان کے اس سفر نے انسانی جسم پر طویل مدتی خلائی قیام کے اثرات کو سمجھنے میں قیمتی معلومات فراہم کیں، جو مستقبل کے چاند اور مریخ مشنز کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
سویوز ایم ایس 28 مشن کا آغاز اور اس کا مقصد
سویوز ایم ایس 28 مشن 27 نومبر 2025 کو قازقستان کے بائکونور کاسموڈروم (Baikonur Cosmodrome) سے سویوز 2.1a راکٹ کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر موجود عملے کی تبدیلی اور وہاں جاری سائنسی پروگراموں کو جاری رکھنا تھا۔ عملے میں روسی کمانڈر سرگئی کُڈ-سویرچکوف، فلائٹ انجینئر سرگئی میکائیف اور ناسا کے خلاباز کرس ولیمز شامل تھے۔
اس مشن کی لانچنگ ایک ایسے وقت میں ہوئی تھی جب ناسا اور روسکوسموس کے درمیان سیٹ ایکسچینج (seat exchange) کے معاہدے کی توسیع پر بات چیت جاری تھی، جس کے تحت امریکی خلاباز سویوز پر اور روسی خلاباز امریکی خلائی جہاز پر سفر کرتے ہیں۔ کرس ولیمز کی شمولیت اس معاہدے کی افادیت کو مزید اجاگر کرتی ہے، جو عالمی سیاسی تناؤ کے باوجود خلائی تحقیق میں تعاون کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
سویوز ایم ایس 28 نے لانچ کے تقریباً تین گھنٹے بعد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے راسویت ڈاکنگ پورٹ (Rassvet docking port) سے منسلک ہو کر اپنے مشن کا باقاعدہ آغاز کیا۔ یہ عملہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی ایکسپڈیشن 74 (Expedition 74) کا حصہ بنا اور کئی مہینوں تک خلا میں انسانیت کی نمائندگی کرتا رہا۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر 241 دنوں کا قیام
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سویوز ایم ایس 28 کے عملے نے 241 دنوں کا طویل قیام کیا۔ اس دوران انہوں نے متعدد اہم سائنسی تجربات اور مشاہدات کیے، جن کا مقصد زمین پر زندگی کو بہتر بنانا اور مستقبل کے خلائی سفر کی تیاری کرنا تھا۔
- سائنسی تحقیق: عملے نے مائیکرو گریویٹی میں حیاتیات، طبی تحقیق، اور مادی سائنس کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر تجربات کیے। ان میں نئے کینسر کے علاج کے لیے تحقیق اور خلا میں جدید مینوفیکچرنگ کی ترقی شامل تھی، جس کے تحت اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹرز اور الیکٹرانکس میں استعمال ہونے والے مواد کی تیاری پر کام کیا گیا۔
- خلائی چہل قدمی (Spacewalks): ناسا کے خلاباز کرس ولیمز نے اپنے قیام کے دوران دو خلائی چہل قدمی میں حصہ لیا۔ ان چہل قدمی کا مقصد خلائی اسٹیشن کے پاور سسٹم کی اپ گریڈیشن کے لیے تیاری کرنا اور کینیڈارم2 (Canadarm2) روبوٹک بازو میں خراب جوائنٹ کو تبدیل کرنا تھا۔ خلائی چہل قدمی خلائی جہازوں اور سیٹلائٹس کی مرمت، نئے آلات کی جانچ اور سائنسی تجربات کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
- بین الاقوامی تعاون: خلائی اسٹیشن پر مختلف ممالک کے خلاباز مل کر کام کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون کتنا اہم ہے۔ امریکی اور روسی عملے نے مل کر اسٹیشن کے نظام کو برقرار رکھنے اور سائنسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کام کیا، جو موجودہ سیاسی تنازعات کے باوجود خلائی میدان میں جاری تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔
خلا میں طویل مدتی قیام کے دوران خلابازوں کو بے وزنی کے ماحول میں زندگی گزارنی پڑتی ہے، جو زمین پر روزمرہ کی زندگی سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ انہیں اپنے کھانے پینے، سونے، اور ورزش کے لیے خاص طریقہ کار اپنانا پڑتا ہے۔ یہ تمام تجربات مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے اہم ڈیٹا فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر جب انسان چاند اور مریخ جیسے دور دراز سیاروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
زمین کی جانب واپسی کا پیچیدہ عمل
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے کامیاب مشن کی تکمیل کے بعد، سویوز ایم ایس 28 کے عملے نے 26 جولائی 2026 کو زمین کی جانب اپنا واپسی کا سفر شروع کیا۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور احتیاط سے انجام دیا جانے والا عمل ہوتا ہے، جس میں کئی مراحل شامل ہوتے ہیں۔
- خلائی اسٹیشن سے ان ڈاکنگ: عملے نے سویوز ایم ایس 28 خلائی جہاز میں سوار ہو کر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے روسی راسویٹ ماڈیول سے صبح 3:03 بجے (امریکی مشرقی وقت) ان ڈاکنگ کی۔ ان ڈاکنگ کے بعد، سویوز خلائی جہاز اسٹیشن سے آہستہ آہستہ دور ہوتا چلا گیا، جس کے بعد اسے زمین پر واپسی کے لیے صحیح پوزیشن میں لایا گیا۔
- ڈی-آربٹ برن (De-orbit Burn): زمین پر واپسی کے لیے سویوز خلائی جہاز کے بریکنگ راکٹس کو تقریباً چار منٹ اور 42 سیکنڈ کے لیے فائر کیا گیا۔ اس عمل سے خلائی جہاز کی رفتار کم ہوئی اور وہ زمین کے مدار سے باہر نکل کر کرہ ارض کے ماحول میں دوبارہ داخلے کے لیے تیار ہو گیا۔
- کرہ ارض میں دوبارہ داخلہ: خلائی جہاز تیزی سے فضا میں داخل ہوا، جہاں ہوا کے رگڑ سے شدید گرمی پیدا ہوئی۔ اس مرحلے پر خلائی جہاز کی ہیٹ شیلڈ (heat shield) انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے، جو عملے کو شدید گرمی سے بچاتی ہے۔ خلائی جہاز کے ماڈیولز علیحدہ ہو گئے، اور صرف کمانڈ ماڈیول ہی باقی رہا جو عملے کو لے کر زمین کی طرف بڑھا۔
- پیراشوٹ کی تعیناتی اور لینڈنگ: کرہ ارض میں داخلے کے بعد، سویوز خلائی جہاز کا بڑا پیراشوٹ 10 منٹ کے اندر کھل گیا، جس سے اس کی رفتار مزید کم ہو گئی۔ پیراشوٹ کی مدد سے خلائی جہاز قازقستان کے میدانوں کی جانب نیچے اترا۔ لینڈنگ سے عین پہلے، ریٹرو فائرنگ راکٹس کو فائر کیا گیا تاکہ لینڈنگ کے جھٹکے کو کم کیا جا سکے اور 26 جولائی 2026 کو صبح 6:27 بجے (امریکی مشرقی وقت) بحفاظت زمین پر اترا۔
یہ مکمل عمل، خلا میں بے وزنی کی حالت سے زمین کی کشش ثقل میں واپسی تک، خلابازوں کے لیے ایک بڑا جسمانی چیلنج ہوتا ہے۔ اس لیے لینڈنگ کے بعد ان کی فوری طبی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
| پہلو | تفصیل |
|---|---|
| مشن کا نام | سویوز ایم ایس 28 (Soyuz MS-28) |
| عملہ | سرگئی کُڈ-سویرچکوف (کمانڈر)، سرگئی میکائیف (فلائٹ انجینئر)، کرس ولیمز (ناسا خلاباز) |
| لانچ کی تاریخ | 27 نومبر 2025 |
| لینڈنگ کی تاریخ | 26 جولائی 2026 |
| مشن کی مدت | 241 دن (تقریباً 8 ماہ) |
| لینڈنگ کی جگہ | قازقستان کے میدان (Dzhezkazgan کے جنوب مشرق) |
| اہم سرگرمیاں | بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سائنسی تجربات (کینسر کی تحقیق، ان-اسپیس مینوفیکچرنگ)، دو خلائی چہل قدمی |
بحفاظت لینڈنگ اور عملے کا استقبال
سویوز ایم ایس 28 کی لینڈنگ قازقستان کے وسیع میدانوں میں، شہر جیژکازگان (Dzhezkazgan) کے جنوب مشرق میں مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3:27 پر (امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 6:27 پر) ہوئی۔ لینڈنگ کے فوراً بعد، روسی ریکوری ٹیمیں تیزی سے لینڈنگ سائٹ پر پہنچیں تاکہ خلابازوں کو کیپسول سے باہر نکالنے میں مدد کر سکیں۔

خلابازوں کو کیپسول سے باہر نکال کر خصوصی کرسیوں پر بٹھایا گیا، جہاں ان کے ابتدائی طبی معائنے کیے گئے۔ خلا میں آٹھ ماہ گزارنے کے بعد، خلابازوں کو زمین کی کشش ثقل میں دوبارہ ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے، لہذا انہیں چلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس دوران انہیں تازہ پھل اور سیٹلائٹ فون کے ذریعے گھر والوں سے بات کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔ ایک روایت کے مطابق، ہر خلاباز کو گھر واپسی کے تحفے کے طور پر ان کی تصویر والی میٹرِیوشکا گڑیا (matryoshka doll) پیش کی گئی۔
ابتدائی طبی معائنے اور آرام کے بعد، عملے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے قازقستان کے شہر کاراگاندا (Karaganda) لے جایا گیا۔ وہاں سے، ناسا کے خلاباز کرس ولیمز ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر (Johnson Space Center) ہیوسٹن کے لیے روانہ ہوئے، جبکہ روسی خلاباز سرگئی کُڈ-سویرچکوف اور سرگئی میکائیف ماسکو کے قریب روس کے اسٹار سٹی (Star City) ٹریننگ بیس واپس لوٹے۔ یہ کامیاب واپسی، سخت ترین حالات میں انسانی استقامت اور بین الاقوامی تعاون کی ایک اور شاندار کامیابی کی علامت ہے۔
خلابازوں پر خلا میں طویل قیام کے اثرات
خلا میں طویل مدتی قیام، جیسا کہ سویوز ایم ایس 28 کے عملے نے 241 دنوں تک کیا، انسانی جسم پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ماہرین اور ناسا کی تحقیقات کے مطابق، خلا میں بے وزنی کی حالت اور بیرونی تابکاری کے باعث خلابازوں کو کئی جسمانی اور نفسیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
- ہڈیوں اور پٹھوں کی کمزوری: خلا میں کشش ثقل کی غیر موجودگی میں ہڈیاں اور پٹھے تیزی سے کمزور ہوتے ہیں۔ خلائی اسٹیشن پر موجود خلابازوں کو روزانہ کئی گھنٹے ورزش کرنی پڑتی ہے تاکہ ان اثرات کو کم کیا جا سکے۔
- تابکاری کے اثرات: زمین کے حفاظتی ماحول سے باہر خلا میں تابکاری کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے، جو ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور کینسر سمیت دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
- بینائی کے مسائل: خلا میں دماغ میں سیال کے جمع ہونے کی وجہ سے خلابازوں کو بینائی کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
- جینیاتی تبدیلیاں اور عمر میں اضافہ: ناسا کی تحقیق (Space Omics and Medical Atlas – SOMa) سے پتہ چلا ہے کہ خلائی پرواز سے جینز میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں اور عمر میں اضافے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اس سے ورم، پٹھوں کے حجم میں کمی اور بڑھاپے سے متعلق دیگر مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلی معلومات جیو نیوز کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
- نفسیاتی اثرات: طویل تنہائی، محدود جگہ میں رہائش اور زمین سے دوری کے نفسیاتی اثرات بھی خلابازوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے خلائی ایجنسیاں مسلسل تحقیق کر رہی ہیں اور نئے حل تلاش کر رہی ہیں۔ سویوز ایم ایس 28 جیسے مشنز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ان کوششوں میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
خلائی تحقیق کی اہمیت اور مستقبل کے افق
سویوز ایم ایس 28 جیسے مشنز کی اہمیت صرف سائنسی تجربات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کے مستقبل کے لیے نئے دروازے کھولتے ہیں۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر جاری تحقیق سے ہمیں زمین پر درپیش مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں مدد ملتی ہے، جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، بیماریوں کے علاج اور پائیدار توانائی کے ذرائع۔
- زمین پر فوائد: خلا میں تیار کی جانے والی بہت سی ٹیکنالوجیز اور سائنسی پیش رفتیں بالآخر زمین پر بھی فائدہ پہنچاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، فلٹریشن سسٹم جو خلائی اسٹیشن پر پیشاب اور پسینے کو پینے کے قابل پانی میں تبدیل کرتا ہے، خشک علاقوں کے لیے حل فراہم کر سکتا ہے۔
- چاند اور مریخ کے مشنز کی تیاری: طویل مدتی خلائی سفر کے دوران انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ مستقبل کے چاند اور مریخ مشنز کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان مشنز کے لیے خلابازوں کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانا سب سے بڑی ترجیح ہے، اور سویوز مشنز اس حوالے سے قیمتی ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔
- ٹیکنالوجی کی ترقی: خلائی مشنز کے لیے جدید ترین مواد، روبوٹکس، کمیونیکیشن اور لائف سپورٹ سسٹم تیار کیے جاتے ہیں، جو مجموعی طور پر ٹیکنالوجی کی ترقی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
یہ مشنز ہمیں اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ انسان کائنات کو سمجھنے اور نئی حدود کو عبور کرنے کے لیے کس قدر پرعزم ہے۔
نئے عملے کی آمد اور خلائی تعاون کا تسلسل
سویوز ایم ایس 28 کے عملے کی واپسی کے ساتھ ہی، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ایک نئے عملے نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ سویوز ایم ایس 29 (Soyuz MS-29) مشن، جس میں ناسا کے خلاباز انیل مینن (Anil Menon) اور روسکوسموس کے خلاباز پیوتر ڈوبروف (Pyotr Dubrov) اور انا کیکینا (Anna Kikina) شامل ہیں، 14 جولائی 2026 کو خلائی اسٹیشن پہنچا۔ یہ نیا عملہ بھی 8 ماہ کے مشن پر ہے، جس کا اختتام اپریل 2027 میں ہوگا۔
سویوز ایم ایس 28 کے کمانڈر سرگئی کُڈ-سویرچکوف نے رسمی طور پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی کمانڈ ناسا کی خلاباز جیسیکا میئر (Jessica Meir) کے حوالے کر دی۔ یہ عمل عالمی خلائی برادری میں اعتماد اور تسلسل کی علامت ہے، جہاں امریکہ اور روس کے درمیان زمینی سطح پر تناؤ کے باوجود خلا میں تعاون جاری ہے۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیریڈ آئزک مین (Jared Isaacman) نے سویوز ایم ایس 29 کی لانچنگ میں شرکت کے لیے بائکونور کاسموڈروم کا دورہ کیا، جو آٹھ سال بعد کسی ناسا سربراہ کا پہلا دورہ تھا۔ یہ دورہ دونوں خلائی ایجنسیوں کے درمیان مضبوط تعلقات اور خلائی تحقیق کے مشترکہ عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ نئے عملے بھی اپنے مشن کے دوران مزید سائنسی تجربات کریں گے اور انسانوں کے خلا میں طویل مدتی قیام کی صلاحیتوں کو مزید وسعت دیں گے۔
نتیجہ
سویوز ایم ایس 28 مشن کی کامیاب واپسی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو خلائی تحقیق میں انسانیت کی لگن اور بین الاقوامی تعاون کی لازوال روح کو ظاہر کرتی ہے۔ کرس ولیمز، سرگئی کُڈ-سویرچکوف اور سرگئی میکائیف نے 241 دن خلا میں گزار کر نہ صرف اہم سائنسی ڈیٹا اکٹھا کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے خلائی سفر کے راستے ہموار کیے۔ ان کے تجربات ہمیں انسانی جسم پر خلا کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، جو چاند اور مریخ جیسے دور دراز سیاروں کے مستقبل کے مشنز کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ مشن اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود، خلائی تحقیق عالمی تعاون کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم کے طور پر کام کر سکتی ہے، جس کا حتمی مقصد پوری انسانیت کے لیے علم اور ترقی کے نئے افق کھولنا ہے۔


