مقبول خبریں

سولر اور چینی کمپنی کے درمیان پاکستان میں ونڈ اور بیٹری انرجی منصوبوں کے فروغ پر معاہدہ

سولر اور چینی کمپنی کے درمیان پاکستان میں ونڈ اور بیٹری انرجی منصوبوں کے فروغ پر ہونے والا حالیہ معاہدہ ملک کے توانائی کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ، جو کے-سولر (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور منگ یانگ اسمارٹ انرجی گروپ لمیٹڈ کے درمیان طے پایا ہے، پاکستان کو صاف اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان، جو طویل عرصے سے توانائی کے بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دوچار ہے، کے لیے قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر انحصار وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ یہ شراکت داری نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گی بلکہ معاشی استحکام اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنائے گی، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا مقام مزید مستحکم ہوگا۔

ایک نئے توانائی دور کی جانب پہلا قدم

پاکستان میں توانائی کے شعبے کی ترقی اور پائیداری کے لیے بین الاقوامی تعاون ہمیشہ سے کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس تناظر میں، کے-سولر (پرائیویٹ) لمیٹڈ، جو کہ کے-الیکٹرک کی سرمایہ کاری کمپنی کے ای وینچرز کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا مکمل ملکیتی ذیلی ادارہ ہے، اور چین کی معروف کمپنی منگ یانگ اسمارٹ انرجی گروپ لمیٹڈ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط نے ملک میں قابل تجدید توانائی کے فروغ کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ معاہدہ خاص طور پر ونڈ پاور منصوبوں اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کے فروغ پر مرکوز ہے، جو پاکستان کے توانائی کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ منگ یانگ دنیا کے بڑے ونڈ ٹربائن مینوفیکچررز میں سے ایک ہے اور یوٹیلٹی اسکیل اور صنعتی سطح کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی عالمی سطح پر نمایاں سپلائر ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور مالیاتی معاونت تک رسائی حاصل ہوگی، جو اس کے قابل تجدید توانائی کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔

پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا بڑھتا رجحان اور ضرورت

پاکستان کو ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور اس کے محدود روایتی ذرائع کے باعث مستقل چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ چیلنجز نہ صرف معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ملک کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو بروئے کار لانا ان مسائل کا ایک پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے 2019 میں “Alternative and Renewable Energy Policy” متعارف کرائی تھی، جس کے تحت 2030 تک اپنی بجلی کی پیداوار میں 30 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
رواں مالی سال کے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق، قابل تجدید توانائی سے بجلی کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں ہائیڈل، نیوکلیئر اور سولر توانائی کے ذرائع شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ملک میں بجلی کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 49 گیگا واٹ سے زیادہ رہی، جبکہ بجلی کی مجموعی پیداوار 92 ہزار گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی، جس میں 50 فیصد سے زائد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی گئی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان تیزی سے قابل تجدید توانائی کی جانب گامزن ہے، اور ایسے معاہدے اس رفتار کو مزید تیز کریں گے۔

کے-سولر اور منگ یانگ کے درمیان تاریخی معاہدہ: تفصیلات

کے-سولر اور منگ یانگ اسمارٹ انرجی گروپ لمیٹڈ کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت، دونوں کمپنیاں پاکستان میں گرڈ، کمرشل اور صنعتی شعبوں کے لیے ونڈ پاور منصوبوں اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی مارکیٹنگ، فراہمی اور مالی معاونت کے لیے باہمی اشتراک کریں گی۔ اس شراکت داری کا ایک اہم پہلو ملک میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کی اسمبلی پلانٹ کے قیام کی بنیاد رکھنا بھی ہے۔ یہ قدم نہ صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مددگار ہوگا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

کے-سولر کے چیئرمین، محمد عامر غازیانی، نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی تبدیلی کے تناظر میں ونڈ پاور تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہے، اس کی کم لاگت کے باعث نچلی سطح کے ٹیرف اسے ملک کے موجودہ بجلی پیداوار کے نظام کے لیے ایک مؤثر اور مسابقتی ذریعہ بناتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے پاکستان ایک متنوع اور زیادہ مضبوط توانائی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے، ویسے ہی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے، جو گرڈ کے استحکام، وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی قابل تجدید توانائی کے مؤثر انتظام اور اس سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ منگ یانگ مشرق وسطیٰ و افریقہ کے جنرل منیجر میاؤ دیشینگ نے کے-سولر کے ساتھ اس اشتراک کو پاکستان میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کا ایک بہترین موقع قرار دیا۔

ونڈ انرجی اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز کا فارغ، چینی اور پاکستانی کمپنی میں معاہدہ

ونڈ انرجی: پاکستان کے لیے ایک قابل عمل حل

پاکستان جغرافیائی طور پر ونڈ انرجی کی پیداوار کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ خاص طور پر سندھ کے ساحلی علاقے، جیسے جھمپیر اور گھارو، ہوا کی تیز رفتار کی وجہ سے ونڈ فارمز کے قیام کے لیے بہترین مقامات سمجھے جاتے ہیں۔ یہاں متعدد ونڈ فارمز پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں جو ہوا کی طاقت سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ ونڈ انرجی کے منصوبے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ماحول دوست ہونے کی وجہ سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت بھی توانائی کے متعدد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور مزید زیر تکمیل ہیں، جن میں قابل تجدید توانائی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ونڈ انرجی کے منصوبے طویل مدتی توانائی کی سلامتی کو یقینی بناتے ہیں اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرتے ہیں، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کی اہمیت اور مقامی پیداوار

قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ونڈ پاور، کی ایک بڑی خامی ان کی غیر مستقل مزاجی ہے۔ دن کے وقت سورج کی روشنی اور ہوا کی دستیابی کے لحاظ سے بجلی کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے اور بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) انتہائی اہم ہیں۔ یہ سسٹمز اضافی بجلی کو ذخیرہ کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اسے گرڈ میں شامل کرتے ہیں، جس سے گرڈ کا استحکام برقرار رہتا ہے اور توانائی کا مؤثر انتظام ممکن ہوتا ہے۔

پاکستانی حکومت نے قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی سطح پر سولر پینلز اور بیٹریوں کی تیاری پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ایک حالیہ فیصلے کے تحت، پاکستان میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی مقامی مینوفیکچرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور نئی سولر پالیسی آخری مراحل میں ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی ہدف ملک کو سولر پینلز کی صرف اسمبلنگ سے نکال کر مکمل مینوفیکچرنگ کی طرف منتقل کرنا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور تکنیکی جدت کو فروغ ملے گا۔ حکومت بیٹری ٹیکنالوجی پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے، تاکہ دن کے وقت سولر سے بننے والی بجلی کو اسٹور کر کے رات کے وقت بھی استعمال کیا جا سکے۔ پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ سہولت کا قیام محض ایک سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک نئے صنعتی ماحولیاتی نظام کی بنیاد ہے جو چینی ٹیکنالوجی اور مہارت کو پاکستان کی صنعتی صلاحیت، کاروباری استعداد اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ یکجا کرے گا۔ اس کے علاوہ، پالیسی ڈرافٹ میں بیٹریوں کی سوڈیم کلورائیڈ سے تیاری کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کی کارکردگی لیتھیم بیٹریوں سے زیادہ ہے۔

پیرامیٹرتفصیل
معاہدے کے فریقینکے-سولر (پاکستان) اور منگ یانگ اسمارٹ انرجی گروپ لمیٹڈ (چین)
مرکزی توجہونڈ پاور منصوبے اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS)
مقامی پیداوارپاکستان میں BESS اسمبلی پلانٹ کا قیام
مقاصدتوانائی کی حفاظت، ماحولیاتی پائیداری، گرڈ کا استحکام، درآمدی انحصار میں کمی
متوقع سرمایہ کاریکے-الیکٹرک کے ہائبرڈ پروجیکٹ کے لیے 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری
پاکستان کا قابل تجدید توانائی کا ہدف (2030)بجلی کی پیداوار میں 30% حصہ قابل تجدید ذرائع سے

معاہدے کے اقتصادی اور ماحولیاتی فوائد

کے-سولر اور منگ یانگ کے درمیان یہ معاہدہ پاکستان کی معیشت اور ماحول دونوں کے لیے گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ اقتصادی لحاظ سے، اس شراکت داری سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس میں کے-الیکٹرک کے ہائبرڈ پروجیکٹ کے لیے پہلے ہی تقریباً 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل ہو چکی ہے، جو بنیادی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے فراہم کی گئی ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ مقامی سطح پر ہزاروں کی تعداد میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، خاص طور پر BESS اسمبلی پلانٹ کے قیام سے تکنیکی مہارت کی ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ ملے گا۔ یہ منصوبے درآمدی ایندھن پر ملک کے انحصار کو کم کریں گے، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور ملکی معیشت مستحکم ہوگی۔

ماحولیاتی نقطہ نظر سے، ونڈ اور بیٹری انرجی کے منصوبے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دیں گے۔ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کا استعمال کاربن کے اخراج کو کم کرتا ہے اور فضائی آلودگی پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، جس سے شہریوں کی صحت اور مجموعی ماحولیاتی نظام بہتر ہوتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید کے مطابق، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اپنی جنگ میں ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، اور قابل تجدید توانائی کے شعبے کو آمدنی پیدا کرنے والے پاور ہاؤس میں تبدیل کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ ان منصوبوں سے پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی پیش رفت کرے گا، اور عالمی برادری میں ایک ذمہ دار ملک کے طور پر اپنا تشخص بنائے گا۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور توانائی کا شعبہ

چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان جامع اور مؤثر تعاون کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ CPEC نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔ وزارت توانائی کے مطابق، CPEC کے تحت توانائی کے 11 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں اور 10 مختلف مراحل میں ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 6,369 میگاواٹ ہے۔ CPEC کا دوسرا مرحلہ خصوصی اقتصادی زونز، صاف توانائی، زراعت اور روزگار کے منصوبوں پر زور دے رہا ہے۔ کے-سولر اور منگ یانگ کا معاہدہ CPEC کے وسیع تر فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو پاکستان کے توانائی کے شعبے کو جدید بنانے اور قابل تجدید ذرائع کو فروغ دینے کے لیے چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتا ہے۔

اس سے قبل بھی کئی چینی کمپنیوں نے پاکستان کے توانائی شعبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں، چینی کمپنی شینڈونگ گروپ نے پاکستان کے توانائی شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کی، جس میں تیل و گیس کی پیداوار، ریفائنری اپ گریڈیشن، توانائی آلات کی مقامی مینوفیکچرنگ اور آف شور توانائی منصوبے شامل ہیں۔ یہ تمام پیشرفتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ چین اور پاکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے اور یہ شراکت داری ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مزید تفصیلات کے لیے، ڈان نیوز کی رپورٹس کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

کیا پاکستان میں بجلی سولر انرجی سسٹم لگانے والوں کی وجہ سے مہنگی ہو رہی ہے؟

مستقبل کے امکانات اور چیلنجز

پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے شعبے کے روشن مستقبل کے باوجود، کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے۔ ان چیلنجز میں سرمایہ کاری کی کمی، تکنیکی مہارت کی عدم دستیابی اور انفراسٹرکچر کی عدم ترقی شامل ہیں۔ تاہم، حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ان چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے معاہدے جیسے کے-سولر اور منگ یانگ کے درمیان ہوا ہے، عالمی معیار کی ٹیکنالوجی کو مقامی مالیاتی سہولیات اور مؤثر عمل درآمد کے ساتھ یکجا کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان کے پاس 100 فیصد قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس پر منتقلی سے تھرمل اور جوہری توانائی پر انحصار کم ہوجائے گا اور موسمیاتی آفات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ مستقبل میں، بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کا امتزاج پاکستان کو ایک زیادہ مستحکم اور ماحول دوست توانائی کا نظام فراہم کرے گا۔ مقامی سطح پر سولر پینلز اور بیٹریوں کی تیاری نہ صرف درآمدات پر انحصار کم کرے گی بلکہ ایک مضبوط صنعتی بنیاد بھی فراہم کرے گی جو پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنائے گی۔

نتیجہ

کے-سولر اور چینی کمپنی منگ یانگ کے درمیان پاکستان میں ونڈ اور بیٹری انرجی منصوبوں کے فروغ پر معاہدہ پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے ایک امید افزا قدم ہے۔ یہ شراکت داری ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ونڈ انرجی کی وافر صلاحیت اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر، یہ معاہدہ پاکستان کو پائیدار توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مدد دے گا۔ حکومت کی پالیسیاں، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے امتزاج سے پاکستان بلاشبہ ایک نئے اور روشن توانائی کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔