بچوں کے غیر محفوظ سوشل میڈیا استعمال سے نفسیاتی اور سکیورٹی خطرات بڑھنے لگے ہیں، اور یہ رجحان دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ایک سنگین سماجی اور صحت عامہ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل دور کی اس تیز رفتار ترقی نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے اور رابطے کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں اس نے کم عمر بچوں کو ایسے خطرات سے دوچار کر دیا ہے جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ آج کے بچے اور نوجوان اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اور یوٹیوب کا استعمال اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے مطابق، بچوں میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال خراب نیند، بے چینی، ڈپریشن اور تعلیمی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابتدائی عمر میں اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی، سماجی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 16 سال سے کم عمر بچوں کی آبادی تقریباً 10 کروڑ 98 لاکھ ہے، جن میں سے ایک بڑی تعداد موبائل فون استعمال کرنے والوں کی ہے۔ اس ڈیٹا بیس کی رپورٹ میں بچوں کے بہتر سوشل میڈیا استعمال کے لیے اسکولوں، والدین اور میڈیا کو آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے، جس کا حل حکومت اور والدین کو مل کر نکالنا ہوگا۔ غیر ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال کئی سماجی، نفسیاتی اور سکیورٹی خطرات کو جنم دے رہا ہے۔ منظم سائبر مجرم اور جعلساز گروہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے میں، بچوں کی جانب سے محفوظ، ذمہ دارانہ اور باشعور سوشل میڈیا استعمال وقت کی اہم ترین ضرورت بن گیا ہے۔
نفسیاتی خطرات: بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات
سوشل میڈیا کا بے جا استعمال بچوں کی ذہنی صحت پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اسکرین ٹائم کی زیادتی بچوں کی ذہنی نشوونما کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
امریکی سرجن جنرل نے 2023 میں جاری کی گئی ایک ایڈوائزری میں خبردار کیا تھا کہ سوشل میڈیا بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت اور عافیت کو نقصان پہنچانے کا خطرہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے پاس اسے محفوظ کہنے کے لیے کافی شواہد نہیں ہیں، اور درحقیقت اس بارے میں شواہد بڑھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کا استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت کے نقصان سے منسلک ہے”۔
بے چینی اور ڈپریشن: تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو بچے اور نوجوان روزانہ تین سے پانچ گھنٹے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں توجہ کی کمی، اضطراب، بے چینی اور خود اعتمادی میں کمی کے مسائل 25 سے 30 فیصد زیادہ پائے گئے ہیں۔ مسلسل آن لائن رہنے اور دوسروں سے اپنی زندگی کا موازنہ کرنے کی عادت بھی ذہنی دباؤ کا سبب بن رہی ہے۔
نیند کی کمی: سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال، بالخصوص رات گئے، بچوں کی نیند کے معیار کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ نیند کی کمی بچوں کی دماغی صحت کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس میں خلل دماغی نشوونما اور رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
خود اعتمادی میں کمی: سوشل میڈیا پر غیر حقیقی خوبصورتی کے معیارات اور دوسروں کی مثالی زندگیوں کو دیکھ کر بچے اپنی ذات کے بارے میں منفی خیالات پیدا کر سکتے ہیں، جس سے ان کی خود اعتمادی میں کمی آتی ہے اور جسمانی شبیہ سے متعلق تشویش بڑھتی ہے۔
تعلیمی کارکردگی میں کمی: سوشل میڈیا کی لت بچوں کو پڑھائی اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں سے دور کر دیتی ہے۔ مسلسل اسکرولنگ، نوٹیفیکیشنز چیک کرنا، اور آن لائن سرگرمیوں میں حصہ لینا دماغ کے ان حصوں پر اثر انداز ہوتا ہے جو فیصلہ سازی، زبان اور یادداشت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سماجی تنہائی اور حقیقی تعلقات کا فقدان: بچے کھیل کود اور حقیقی سماجی تعلقات کے بجائے اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں، جس سے ان کی سماجی صلاحیتیں اور حقیقی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ یہ تنہائی اور سماجی دوری ان کی جذباتی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سکیورٹی خطرات: آن لائن دنیا کے پوشیدہ جال
سوشل میڈیا پر بچوں کو نفسیاتی خطرات کے ساتھ ساتھ کئی سکیورٹی خطرات کا بھی سامنا ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں، جہاں ہر نئی چیز تیزی سے پھیلتی ہے، بچوں کا غیر محفوظ استعمال انہیں سائبر کرائمز اور استحصال کا آسان ہدف بنا دیتا ہے۔
نامناسب مواد تک رسائی: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سخت قوانین اور فلٹرنگ نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو باآسانی نفرت انگیز مواد، افواہوں، جھوٹے پروپیگنڈا اور غیر اخلاقی مواد تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ مواد بچوں کے کچے ذہنوں پر گہرا منفی اثر ڈال سکتا ہے اور انہیں غلط راستوں پر گامزن کر سکتا ہے۔
ذاتی معلومات کا اخراج: بچے اکثر اپنی ذاتی معلومات جیسے گھر کا پتہ، اسکول کی تفصیلات اور تصاویر آن لائن شیئر کرنے میں احتیاط نہیں برتتے۔ یہ معلومات سائبر مجرموں اور بدنیتی پر مبنی افراد کے لیے انہیں نشانہ بنانے کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔
آن لائن گیمز اور چیلنجز: بلیو وہیل، مومو چیلنج اور پب جی جیسی ایپلیکیشنز کے بے جا استعمال کے بعد بچوں میں خودکشی کے انتہائی افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ گیمز اور چیلنجز بچوں کو خطرناک سرگرمیوں پر اکساتے ہیں اور انہیں جسمانی و نفسیاتی نقصان پہنچاتے ہیں۔
سائبر کرائم کا بڑھتا ہوا رجحان: سائبر مجرم اور منظم جعلساز گروہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کے معصوم ذہنوں کو برین واش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان میں 83 ملین انٹرنیٹ صارفین ہیں جن میں سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے، اور یہ آن لائن نقصان دہ مواد سے منسلک خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں اور بعد میں سنگین جرائم میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
سائبر بلنگ اور آن لائن شکاری: ایک سنگین چیلنج
سائبر بلنگ (Cyberbullying) بچوں کے لیے ایک اور بڑا خطرہ ہے جو انہیں آن لائن دنیا میں درپیش ہے۔ سائبر بلنگ کا مطلب الیکٹرانک کمیونیکیشن کے ذریعے کسی بھی شخص کو ایذا پہنچانا ہے۔ اس میں کسی کا مذاق اڑانا، بے جا تنقید کرنا، نجی گفتگو کو عام کرنا، تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنا، گروہ بندی کے ذریعے نفرت کے پیغامات بھیجنا، یا دھمکی آمیز ٹرینڈ سیٹ کرنا شامل ہے۔ سائبر بلنگ کا شکار ہونے والے بچے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات خودکشی جیسے انتہائی اقدام کے بارے میں بھی سوچنے لگتے ہیں۔
آن لائن شکاری وہ افراد ہوتے ہیں جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے بچوں سے دوستی کرتے ہیں اور پھر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ شکاری بچوں کی معصومیت اور ان کی ذاتی معلومات کا غلط استعمال کرتے ہوئے انہیں بلیک میل بھی کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات میں بچوں کو جذباتی اور نفسیاتی طور پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حکومت پنجاب نے سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کے لیے پنجاب سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری دی ہے، جہاں متاثرین ورچوئل پولیس اسٹیشن پر بھی شکایت درج کرا سکیں گے اور متاثرہ بچوں و خواتین کی شناخت مکمل طور پر پوشیدہ رکھی جائے گی۔
مندرجہ ذیل جدول بچوں کے غیر محفوظ سوشل میڈیا استعمال سے پیدا ہونے والے اہم خطرات اور ان کے ممکنہ اثرات کا خلاصہ پیش کرتا ہے:
| خطرے کی قسم | ممکنہ وجوہات | نفسیاتی اثرات | سکیورٹی اثرات |
|---|---|---|---|
| سائبر بلنگ | نامعلوم افراد سے دوستی، ذاتی معلومات شیئر کرنا، غیر مناسب گروپس کا حصہ بننا | ڈپریشن، بے چینی، خود اعتمادی میں کمی، سماجی کنارہ کشی، خودکشی کے خیالات | بلیک میلنگ، ذاتی ساکھ کو نقصان، نامناسب مواد کا اخراج |
| آن لائن شکاری/استحصال | اجنبیوں سے بات چیت، ذاتی معلومات (گھر کا پتہ، اسکول وغیرہ) شیئر کرنا | شدید ذہنی دباؤ، خوف، تشویش، صدمہ | جسمانی نقصان کا خطرہ، مالی استحصال، ذاتی معلومات کا غلط استعمال |
| نامناسب مواد تک رسائی | سوشل میڈیا پر غیر فلٹرڈ مواد، والدین کی نگرانی کا فقدان، تجسس | ذہنی الجھن، جذباتی عدم استحکام، اخلاقی انحطاط | ناجائز ویڈیوز اور تصاویر کا سامنا، تشدد کو فروغ |
| سوشل میڈیا کی لت | حد سے زیادہ اسکرین ٹائم، الگورتھمز کا عادی بنانا | بے چینی، ڈپریشن، نیند کی کمی، تعلیمی مشکلات | وقت کا ضیاع، حقیقی دنیا سے دوری، سماجی تعلقات کا متاثر ہونا |
| ڈیٹا پرائیویسی کی خلاف ورزی | کمزور پرائیویسی سیٹنگز، آن لائن معلومات کا بے احتیاطی سے استعمال | ذاتی تشویش، ہراسگی کا خوف | شناختی چوری، ہیکنگ، ذاتی معلومات کا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال |
پرائیویسی اور ڈیٹا کی حفاظت: بچوں کی معلومات کا غیر محفوظ استعمال
بچوں کی آن لائن پرائیویسی اور ڈیٹا کی حفاظت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اکثر بچوں سے ایسی معلومات حاصل کرتے ہیں جو بعد میں ان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ سینیٹ میں ‘سوشل میڈیا (ایج رجسٹریشن فار یوزرس) بل 2025’ پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس بل کا مقصد بچوں کو سائبر بلنگ، ہراسانی، ذہنی دباؤ اور فحش مواد جیسے خطرات سے بچانا ہے۔ تاہم، آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہوگا، کیونکہ بچوں کی درست عمر کی تصدیق کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، اور کئی بچے جعلی تاریخ پیدائش دے کر پابندی کو بائی پاس کر سکتے ہیں۔
عمر کی تصدیق کے لیے اے وی ٹیکنالوجی کا نفاذ بنیادی حقوق کو سنگین خطرات سے دوچار کرتا ہے اور غیر ارادی نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ تمام صارفین سے ان کی عمر کے ثبوت کا مطالبہ رازداری کے حقوق کو مجروح کرتا ہے اور حساس ڈیٹا، جیسے کہ بایومیٹرک سکین، سرکاری شناختی کارڈز کی کاپیاں یا دیگر حساس مواد کو آن لائن اپ لوڈ کرنے کا پابند بناتا ہے۔ اگر یہ ذاتی اور حساس ڈیٹا چوری ہو جاتا ہے، تو بالغوں اور بچوں دونوں کا ڈیٹا منظر عام پر آ جائے گا، جس سے ہر کسی کو آن لائن استحصال کا زیادہ خطرہ ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ذاتی معلومات کی حفاظت سے متعلق آگاہی دیں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز کو مضبوط بنائیں۔
والدین کا کردار: بچوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری
والدین کا کردار بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ دور جدید میں والدین کے لیے بچوں کی تربیت کرنا ایک مشکل مگر اہم کام ہے، کیونکہ آج کل کے والدین مصروف ہیں اور اولاد کی تربیت کے لیے وقت دینا ایک مشکل کام بن گیا ہے۔ تاہم، والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائیں تاکہ بچے ان سے ہر موضوع پر کھل کر گفتگو کر سکیں۔
آگاہی اور بات چیت: والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور ذمہ دار بنانے کی تربیت دیں۔ انہیں ذاتی معلومات کی حفاظت، آن لائن اجنبیوں سے بات چیت نہ کرنے اور مشکوک مواد سے بچنے کے بارے میں آگاہ کریں۔ بچوں کو سائبر بلنگ، آن لائن شکاریوں اور نامناسب مواد کے بارے میں بھی رہنمائی فراہم کریں۔
نگرانی اور وقت کا تعین: والدین کو بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ انہیں پیغامات، تصاویر اور پوسٹس کی نگرانی کرنی چاہیے۔ موبائل کے استعمال کا وقت فکس کریں اور اس پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔ ماہرین نفسیات نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم پر نظر رکھیں اور انہیں متوازن طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دیں۔
پیرنٹل کنٹرول سافٹ ویئر کا استعمال: گوگل فیملی لنک، مائیکرو سافٹ فیملی سیفٹی جیسے پیرنٹل کنٹرول سافٹ ویئر کا مؤثر استعمال غیر موزوں مواد اور سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کر سکتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محدود کرنے اور ان کی نگرانی کرنے میں بہت کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔
متبادل سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی: بچوں کو جسمانی سرگرمیوں اور کھیل کود کا وقت اور جگہ فراہم کی جائے تاکہ ان کی توجہ اسکرین کی طرف کم ہو سکے۔ انہیں غیر نصابی سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے، جیسے لائبریریوں میں جانا یا ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔
اس حوالے سے والدین اور سرپرستوں کی رہنمائی کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ والدین پی ٹی اے کے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم پر نامناسب یا غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹانے کے لیے شکایت درج کرا سکتے ہیں، جب کہ آن لائن مجرموں کے خلاف کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو بھی شکایت بھیجی جا سکتی ہے۔ یہ اقدامات بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر مزید معلومات حاصل کریں۔
حکومتی اور تعلیمی سطح پر حل اور آگاہی
حکومتی اور تعلیمی اداروں کو بھی اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ دنیا کے مختلف ممالک بچوں کے ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی یا مخصوص مواد پر بحث کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا اور برطانیہ جیسے ممالک نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پاکستان میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے ضابطے اور قوانین بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
قانون سازی: پاکستان میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نگرانی کے لیے قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 اور غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹانے اور بلاک کرنے کے قواعد 2021 جیسے قوانین کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ سینیٹ میں 18 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
تعلیمی نصاب میں شمولیت: اسکولوں میں ڈیجیٹل لٹریسی اور آن لائن سیفٹی کے بارے میں آگاہی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ بچوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال، سائبر بلنگ سے بچنے اور اپنی پرائیویسی کی حفاظت کے بارے میں تعلیم دی جائے۔
عوامی آگاہی مہمات: حکومت، اسکولوں، والدین اور میڈیا کو مل کر ایک جامع آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے تاکہ مستقبل کے معماروں کو اس پوشیدہ ڈیجیٹل وبا سے بچایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سائبر کرائم یونٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔
ڈیٹا کی حفاظت: سائبر کرمنلز کی سرکوبی کے لیے پرو ایکٹو اپروچ اپنانے اور سائبر کرائم سے متعلق ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ تکنیکی ماہرین کی رائے اور انسانی حقوق کمیشن کی شمولیت سے متوازن اور مؤثر قانون سازی کی جا سکتی ہے۔
نتیجہ
بچوں کے غیر محفوظ سوشل میڈیا استعمال سے بڑھتے ہوئے نفسیاتی اور سکیورٹی خطرات ایک ایسا چیلنج ہے جس کا سامنا پوری دنیا کو ہے، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق صرف 4 مہینے کا بچہ بھی اسکرین کا عادی بن چکا ہے اور والدین کی لاپرواہی کی وجہ سے اوسطاً ایک بچہ ساڑھے 4 گھنٹے اسکرین دیکھتا ہے۔ یہ صورتحال بچوں کی ذہنی صحت، تعلیمی کارکردگی اور سماجی رویوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ سائبر بلنگ، آن لائن شکاریوں اور نامناسب مواد تک رسائی جیسے سکیورٹی خطرات بھی بچوں کی محفوظ نشوونما میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے انفرادی، خاندانی اور حکومتی سطح پر مربوط کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھلی اور دوستانہ بات چیت کریں، ان کے اسکرین ٹائم کو محدود کریں، اور پیرنٹل کنٹرول ٹولز کا مؤثر استعمال کریں۔ تعلیمی اداروں کو ڈیجیٹل آگاہی کے پروگرامز متعارف کرانے چاہئیں اور حکومتی سطح پر مضبوط قانون سازی اور اس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی سے متعلق قوانین پر غور و فکر جاری ہے، جو ایک مثبت قدم ہے۔ بچوں کو محفوظ اور صحت مند ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے تاکہ وہ مستقبل کے معمار بن سکیں اور ڈیجیٹل دنیا کے فوائد سے مستفید ہوتے ہوئے اس کے نقصانات سے محفوظ رہ سکیں۔


