مقبول خبریں

2026امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

فہرست

امریکی سینیٹ نے حال ہی میں ایک اہم قرارداد کو مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو روکنا یا محدود کرنا تھا۔ اس فیصلے نے امریکی صدر کے جنگی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کے حوالے سے ایک گہری سیاسی تقسیم کو اجاگر کیا ہے، اور مشرق وسطیٰ میں پہلے سے ہی کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ عروج پر ہے، اور خطے میں فوجی تصادم کے خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سینیٹ کی جانب سے اس قرارداد کی نامنظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے ساتھ اپنی موجودہ پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے مزید آزادی فراہم کرتی ہے، جس پر ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکنز کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

پس منظر: امریکہ-ایران تعلقات کی تاریخ اور کشیدگی

امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے، جو اتار چڑھاؤ اور گہرے تضادات سے بھری پڑی ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب سے قبل، دونوں ممالک کے درمیان گہرے تزویراتی روابط تھے، جہاں امریکہ نے ایران کے شاہی نظام کی بھرپور حمایت کی۔ تاہم، انقلاب کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی، اور ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا جس نے امریکہ کو “بڑا شیطان” قرار دیا۔ تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضے اور یرغمالی بحران نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو اس قدر خراب کیا کہ آج تک ان میں مکمل بحالی ممکن نہیں ہو سکی۔

گزشتہ دہائیوں کے دوران، ایران کے جوہری پروگرام نے امریکی تشویش کو مزید بڑھایا۔ 2015 میں طے پانے والا جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) یا ایران جوہری معاہدہ، جس کا مقصد ایران کے جوہری عزائم کو پرامن مقاصد تک محدود رکھنا تھا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے 2018 میں یکطرفہ طور پر انخلا کے بعد شدید دھچکے سے دوچار ہوا۔ اس کے بعد سے، امریکہ نے ایران پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم شروع کی جس میں سخت اقتصادی پابندیاں شامل تھیں، جس نے ایرانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا۔

حالیہ مہینوں میں، کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور مفادات پر کئی حملے ہوئے ہیں، جن کا الزام واشنگٹن ایران اور اس کے حمایت یافتہ پراکسی گروپس پر عائد کرتا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کو جانی نقصان بھی پہنچا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں خطے میں امریکی تنصیبات پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، اور مجموعی طور پر 28 فروری سے اب تک 14 امریکی فوجی ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کے بعد، امریکہ نے جوابی کارروائیاں کیں، جن میں ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعات دونوں ممالک کو فوجی تصادم کے دہانے پر لے آئے ہیں، اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

قرارداد کی نوعیت اور اس کا مقصد

امریکی سینیٹ میں زیر بحث قرارداد “وار پاورز ریزولیوشن” (War Powers Resolution) کی ایک قسم تھی، جسے امریکی آئین کے تحت کانگریس کے جنگ کا اعلان کرنے کے اختیار کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 1973 کا وار پاورز ایکٹ کانگریس کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ صدر کے بیرون ملک فوجی تعیناتیوں کے فیصلوں کی نگرانی کرے۔ اس قانون کے تحت، صدر کو فوجی کارروائی کے 60 دن کے اندر کانگریس سے باضابطہ منظوری حاصل کرنا ہوتی ہے، بصورت دیگر افواج کو واپس بلانا پڑتا ہے۔ تاہم، کسی بھی امریکی صدر نے اس قانون کو مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا، اور اس کی آئینی حیثیت پر بھی عدالتوں نے کبھی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن نے یہ قرارداد سینیٹ میں پیش کی تھی۔ اس قرارداد کا بنیادی مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلانے کی ہدایت دینا تھا، جب تک کہ کانگریس باقاعدہ طور پر جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے۔ ڈیموکریٹس کا موقف تھا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کرکے آئینی اختیارات کو نظر انداز کیا ہے۔

سینیٹ میں قرارداد پر ووٹنگ 23 جولائی 2026 کو ہوئی، جہاں قرارداد کے حق میں 47 جبکہ مخالفت میں 49 ووٹ ڈالے گئے۔ اس طرح، یہ قرارداد مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکی اور مسترد ہو گئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل، امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں روکنے کے حق میں ایک اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی تھی۔ ایوان نمائندگان میں یہ قرارداد ڈیموکریٹ رکن کانگریس پرامیلا جے پال نے پیش کی تھی اور اسے 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور کیا گیا، جس میں 4 ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ تاہم، چونکہ سینیٹ نے اسے مسترد کر دیا، ایوان نمائندگان کی قرارداد بھی قانون کی شکل اختیار نہیں کر سکی۔

سینیٹ میں بحث اور سیاسی تقسیم

امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے والی قرارداد پر ہونے والی بحث نے واشنگٹن کی گہری سیاسی تقسیم کو نمایاں کیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے قانون سازوں نے اس قرارداد کی بھرپور حمایت کی، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے پاس۔ ان کا موقف تھا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ امریکیوں نے ایران میں ٹرمپ کی “تاریخی غلطی کی قیمت چکائی ہے اور انہیں یہ جنگ کبھی شروع نہیں کرنی چاہیے تھی۔” ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ایک جنگ ہے” اور صدر ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

دوسری جانب، ریپبلکن پارٹی کے زیادہ تر ارکان نے اس قرارداد کی مخالفت کی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بطور کمانڈر اِن چیف اپنے آئینی اختیارات کے تحت امریکہ کے تحفظ کے لیے محدود حملوں کا حکم دینے کے مجاز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی قرارداد امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور ایرانی افواج کو حوصلہ دے سکتی ہے۔ سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین، ریپبلکن سینیٹر جم ریش نے اپنے ساتھیوں پر زور دیا کہ وہ قرارداد کے خلاف ووٹ دیں، یہ خبردار کرتے ہوئے کہ اگر یہ منظور ہوئی تو ایرانی مذاکرات سے نکل جائیں گے، اس لیے سفارت کاری کو کام کرنے دیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے بھی قانون سازوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے اقدامات کو “غداری” قرار دیا اور کہا کہ اس سے ایران کو “مدد اور حوصلہ” ملے گا۔

ووٹنگ کے دوران، سیاسی وابستگی سے ہٹ کر بھی کچھ اہم اختلافات سامنے آئے۔ مثال کے طور پر، ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔ یہ کراس پارٹی ووٹنگ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک انتہائی حساس معاملے پر اندرونی اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔ تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل اور لیزا مرکووسکی شامل تھے۔

یہ بحث اور ووٹنگ وار پاورز ایکٹ کی آئینی حیثیت پر جاری تنازع کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق، اگرچہ اس قانون کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا، لیکن امریکی عدالتوں نے کبھی اس کی حتمی آئینی حیثیت پر فیصلہ نہیں دیا۔ لہٰذا، اگر یہ قرارداد منظور بھی ہو جاتی، تو صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کے لیے قانونی طور پر پابند کرنا مشکل ہوتا۔

قرارداد کی شکست کے مضمرات

امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران جنگ ختم کرنے یا فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی قرارداد کی نامنظوری کے گہرے اور وسیع مضمرات ہیں۔ سب سے پہلے، یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے حوالے سے فوجی کارروائیوں کے لیے مزید آزادی فراہم کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی موجودہ “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کو بغیر کسی بڑی کانگریسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکیں گے، جس میں مزید فوجی اقدامات اور پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے تو پہلے ہی ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ابھی “مکمل نقصان نہیں پہنچا” اور واشنگٹن “مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہا ہے۔” ان کا کہنا ہے کہ “اگر ضرورت پیش آئی تو ایران کے خلاف نئی کارروائیاں پہلے کیے گئے حملوں سے کہیں زیادہ وسیع اور طاقتور ہو سکتی ہیں۔”

دوسرا، یہ فیصلہ امریکہ-ایران تعلقات میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ جب تک صدر کے جنگی اختیارات پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی، خطے میں فوجی تصادم کا خطرہ بڑھا رہے گا۔ حالیہ فوجی جھڑپوں اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں، یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

تیسرا، قرارداد کی شکست امریکی داخلی سیاست پر بھی اثر انداز ہوگی۔ یہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان خارجہ پالیسی پر جاری گہرے اختلافات کو مزید نمایاں کرتی ہے، خصوصاً جب صدارتی انتخابات قریب ہوں۔ ڈیموکریٹس کانگریس کے اختیارات کی بحالی پر زور دیتے رہیں گے، جبکہ ریپبلکنز صدر کے فیصلوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

قرارداد کے حق میں دلائلقرارداد کے خلاف دلائل
آئینی اصول: جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے (وار پاورز ایکٹ 1973)۔صدر کے اختیارات: صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
غیر مجاز فوجی کارروائیاں: صدر کی جانب سے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی اقدامات آئین کی خلاف ورزی ہیں۔قومی سلامتی: ایران کے خطرات کے پیش نظر، صدر کو فوری کارروائی کا اختیار ضروری ہے۔
جانی و مالی نقصان: غیر ضروری فوجی تصادم سے امریکی فوجیوں کی زندگیاں اور قومی وسائل ضائع ہوتے ہیں۔دشمن کو حوصلہ: صدر کے اختیارات کو محدود کرنے سے ایران کو مزید حوصلہ ملے گا اور امریکی پوزیشن کمزور ہوگی۔
شفافیت اور احتساب: فوجی فیصلوں میں عوامی نمائندوں (کانگریس) کا کردار ضروری ہے۔موثر سفارت کاری: سفارت کاری کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے؛ قرارداد کی منظوری سے مذاکرات کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

امریکی خارجہ پالیسی پر اثرات اور عالمی ردعمل

امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران جنگی قرارداد کی نامنظوری کے عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ فیصلہ عالمی برادری میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سوالات اٹھا سکتا ہے، خصوصاً اتحادی ممالک کے درمیان جو مشرق وسطیٰ میں استحکام کے خواہاں ہیں۔ کئی ممالک نے تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی حل اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یورپی اتحادیوں نے، جو ایران جوہری معاہدے کے حامی رہے ہیں، امریکہ کے یکطرفہ اقدامات پر اکثر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال میں، امریکی خارجہ پالیسی زیادہ یکطرفہ نظر آ سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی تعاون اور سفارتی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

خطے میں ایران کے پڑوسی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتیں، جیسے سعودی عرب اور اسرائیل، امریکہ کے اس فیصلے کو مختلف نظر سے دیکھیں گے۔ وہ ممالک جو ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو خطرہ سمجھتے ہیں، ممکنہ طور پر امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کو ایران کے خلاف مزید سخت موقف اختیار کرنے کے لیے حمایت کے طور پر دیکھیں گے۔ اس کے برعکس، ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروپس، جیسے کہ عراق، شام اور یمن میں موجود ملیشیا، اس پیش رفت کو امریکہ کے ساتھ تنازع میں مزید شدت لانے کے ایک اشارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ بحیرہ احمر میں حالیہ حملے اور یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے واقعات، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کتنی نازک اور دور رس نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔

یہ فیصلہ امریکی صدر کو مشرق وسطیٰ میں بغیر کسی بڑی قانون سازی کی رکاوٹ کے فوجی اقدامات جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے، جو خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، “امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران سے متعلق پالیسی پر مزید سیاسی حمایت حاصل ہو گئی۔” یہ صورتحال عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں، اور عالمی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

مستقبل کے امکانات اور چیلنجز

امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد کی نامنظوری کے بعد، امریکہ-ایران تعلقات کا مستقبل مزید غیر یقینی اور چیلنجنگ ہو گیا ہے۔ آئندہ کے امکانات کئی عوامل پر منحصر ہیں:

  • فوجی کشیدگی کا تسلسل: چونکہ صدر کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں کانگریس کی جانب سے فوری طور پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے، اس لیے خطے میں فوجی تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ ایران کی جانب سے بھی ممکنہ جوابی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں، جس سے کشیدگی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔
  • سفارت کاری کا کردار: عالمی برادری اور خود امریکہ کے اندر بھی بہت سے حلقے فوجی حل کے بجائے سفارتی راستے پر زور دے رہے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا موجودہ انتظامیہ یا آنے والی انتظامیہ ایران کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی راہ ہموار کر پاتی ہے۔
  • امریکی انتخابات اور پالیسی میں تبدیلی: امریکہ میں آئندہ صدارتی انتخابات ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی نئی انتظامیہ اقتدار میں آتی ہے، تو وہ ایران کے جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے یا سفارتی حل پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکتی ہے۔
  • ایران کا جوہری پروگرام: ایران کا جوہری پروگرام ایک مستقل تشویش کا باعث ہے۔ قرارداد کی نامنظوری کے بعد، اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید آگے بڑھاتا ہے تو یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر بڑے ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔
  • علاقائی استحکام: مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگوں اور تنازعات، جیسے یمن اور شام میں، پر امریکہ-ایران کشیدگی کے گہرے اثرات مرتب ہوتے رہیں گے۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے دونوں طاقتوں کے درمیان تعلقات میں بہتری انتہائی ضروری ہے۔

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو محتاط سفارت کاری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ خطے کو ایک بڑے تنازع سے بچایا جا سکے۔ عالمی طاقتوں کا کردار بھی اہم ہو گا کہ وہ ثالثی کا فریضہ انجام دیں اور بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔

نتیجہ

امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران جنگ ختم کرنے یا فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی قرارداد کی نامنظوری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات تاریخ کی نازک ترین صورتحال سے دوچار ہیں۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے ساتھ اپنی موجودہ جارحانہ پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے وسیع اختیارات فراہم کرتا ہے، جس کے خطے اور عالمی سطح پر سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان یہ گہری سیاسی تقسیم امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کے اختیارات پر جاری دیرینہ بحث کو بھی دوبارہ زندہ کر رہی ہے۔

ایوان نمائندگان کی جانب سے اسی نوعیت کی قرارداد کی منظوری، اور اس کے برعکس سینیٹ کی نامنظوری، امریکی قانون سازی کے نظام کی پیچیدگیوں اور دونوں ایوانوں کے درمیان اختیارات کے توازن کو واضح کرتی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اور سفارتی حل کے امکانات مزید دھندلے پڑ سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں، عالمی برادری کی نظریں امریکہ اور ایران پر لگی رہیں گی کہ آیا یہ دونوں ممالک مزید تصادم کی راہ اختیار کرتے ہیں یا سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کرتے ہیں۔