Table of Contents
شام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، یہ وہ پُر عزم الفاظ ہیں جو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شام کے حالیہ دورے کے دوران دہرائے، جس نے ایک دہائی سے زائد عرصے سے جنگ اور بحران کا شکار اس ملک کے مستقبل کے لیے امید کی ایک نئی کرن روشن کی ہے۔ سیکریٹری جنرل کا یہ دورہ، جو 25 سے 26 جولائی 2026 تک جاری رہا، 2009 کے بعد کسی موجودہ اقوام متحدہ کے سربراہ کا پہلا دورہ تھا، اور اسے شام میں نئی سیاسی تبدیلیوں اور صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بیان نے عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ شام کو اپنے مشکل ترین مرحلے میں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، بلکہ اسے امن، استحکام اور تعمیر نو کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انتونیو گوتریس کا یہ دورہ نہ صرف شام کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تھا بلکہ شامی عوام کے ساتھ اقوام متحدہ کی یکجہتی کا اظہار بھی تھا، جنہوں نے کئی سالوں تک بے پناہ مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا ہے۔ اس دورے کے ذریعے، عالمی ادارے نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتے ہوئے، ملک کی تعمیر نو اور جامع سیاسی عمل کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔
ایک نئے دور کا آغاز: سیکریٹری جنرل کا تاریخی دورہ شام:سیکریٹری
سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا شام کا دو روزہ دورہ، ایک ایسے وقت میں ہوا جب ملک نے طویل خانہ جنگی کے بعد اہم سیاسی تبدیلیوں کا سامنا کیا ہے۔ 2024 کے آخر میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور صدر احمد الشرع کی قیادت میں ایک نئی عبوری حکومت کے قیام نے شام کے لیے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ انتونیو گوتریس نے 2009 کے بعد شام کا دورہ کرنے والے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے طور پر، اس دورے کو “ایک قوم کی زندگی میں ایک نایاب لمحہ” قرار دیا، جہاں امید کی نئی کرن دکھائی دے رہی ہے۔ دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے گوتریس اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔ اس دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سربراہ نے صدر احمد الشرع، اعلیٰ حکومتی حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ شام کی سیاسی صورتحال، انسانی بحران، تعمیر نو اور اقوام متحدہ کے تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ ملاقاتیں شام کے نئے حکمرانوں کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو ایک دہائی سے زائد عرصے کی سفارتی تنہائی اور تنازعات کے بعد ملک کو امن اور استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کی خواہاں ہیں۔ گوتریس نے اپنے دورے سے قبل یہ شعوری فیصلہ کیا تھا کہ وہ سابقہ “وحشیانہ جابرانہ حکومت” (بشار الاسد کی حکومت) کے خاتمے تک شام کا دورہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ موقع صرف تنازعات سے نکلنے کا نہیں بلکہ شام کے لیے ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھنے کا بھی ہے جو تمام شامیوں کے لیے زیادہ مستحکم، زیادہ جامع اور زیادہ خوشحال ہو۔
اقوام متحدہ کا شام کے لیے واضح پیغام: تنہائی کا خاتمہ:سیکریٹری
انتونیو گوتریس نے اپنے دورے کے دوران یہ واضح پیغام دیا کہ اقوام متحدہ شام کو اس کی بحالی کے سفر میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ شام کو برسوں کی خانہ جنگی کے بعد امن، استحکام اور ایک جامع سیاسی عمل کی جانب بڑھنے کے لیے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ سیکریٹری جنرل نے شام کی موجودہ عبوری مرحلے کو “ایک نئے باب” کے آغاز کا موقع قرار دیا جہاں تمام شامی اپنے ملک کے مستقبل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اس اہم موقع پر شامی عوام کے ساتھ کھڑی ہے، جنہوں نے برسوں کی مشکلات کے دوران غیر معمولی ثابت قدمی دکھائی ہے۔ گوتریس نے اس بات پر زور دیا کہ شامی عوام کو بحالی کا بوجھ اکیلے نہیں اٹھانا چاہیے، اور عالمی برادری کو شام کی تعمیر نو کے لیے مسلسل سیاسی حمایت، معاشی تعاون اور عملی امداد فراہم کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کا کردار شامی عوام کی ہمراہی اور حمایت کرنے کا ہے تاکہ وہ ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تشکیل کر سکیں۔
پابندیوں کا خاتمہ اور معاشی بحالی کی ضرورت:سیکریٹری
گوتریس نے شام پر عائد تمام پابندیوں کو فوری طور پر اٹھانے کا مطالبہ کیا، تاکہ ملک میں معاشی بحالی کے نئے راستے کھل سکیں۔ انہوں نے شام پر پابندیوں میں نرمی کے اقدامات کا خیر مقدم کیا، لیکن اس بات پر زور دیا کہ ملک کی تعمیر نو اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ شام کی 90 فیصد آبادی روزانہ 2 ڈالر سے بھی کم وسائل میں گزارا کرنے پر مجبور ہے، اور 70 فیصد آبادی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی منتظر ہے۔ پابندیوں نے نہ صرف امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں بلکہ بیرون ملک مقیم شامیوں کو بھی اپنے گھروں اور زندگی کی بحالی کے لیے ترسیلات زر بھیجنے سے روکا ہے۔ سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ شام کی بحالی صرف انسانی ہمدردی کی ضرورت نہیں بلکہ ترقی، امن اور خطے کے استحکام میں سرمایہ کاری کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو شام کو علاقائی اور عالمی معیشت سے دوبارہ جوڑنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
گولان کی پہاڑیاں اور شام کی خودمختاری کا مسئلہ:سیکریٹری
اپنے دورے کے دوران، انتونیو گوتریس نے گولان کی پہاڑیوں کے مسئلے پر شام کے موقف کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ گولان کی پہاڑیاں “اصل میں شامی علاقہ ہیں”۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے 1974 کے ڈس انگیجمنٹ معاہدے کی جاری خلاف ورزیوں کی مذمت کو دہرایا، اور کہا کہ شامی سرزمین پر حملے ناقابل قبول ہیں اور انہیں ہر صورت روکنا چاہیے۔ شام کی وزارت خارجہ نے بھی اسرائیلی افواج سے مطالبہ کیا کہ وہ 2024 میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں قائم بفر زون میں پیش قدمی کے بعد فوری اور غیر مشروط طور پر وہاں سے انخلا کریں۔ یہ بیان شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے عالمی ادارے کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے۔ اس مسئلے پر گوتریس کا دوٹوک موقف شام کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقوام متحدہ اس حساس معاملے پر غیر جانبدار نہیں رہے گا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے بھی عالمی برادری سے شام میں اسرائیلی جارحیت روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شام میں انسانی صورتحال: ایک جائزہ (جولائی 2026):سیکریٹری
| اشاریہ | تفصیل |
|---|---|
| بے گھر افراد | تقریباً 1.4 کروڑ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہوئے اور 55 لاکھ پناہ گزین ہمسایہ ممالک میں۔ |
| غربت کی شرح | 90 فیصد آبادی روزانہ 2 ڈالر سے کم میں گزارا کر رہی ہے۔ |
| انسانی ہمدردی کی امداد کے محتاج افراد | تقریباً 70 فیصد آبادی انسانی ہمدردی کی امداد کی منتظر ہے۔ |
| بنیادی سہولیات کا فقدان | تقریباً 70 فیصد افراد کو پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر نہیں۔ |
| بچوں کی اموات | قابل علاج بیماریوں کے بروقت علاج نہ ہونے سے شیرخوار بچوں کی اموات میں تیزی۔ |
شامی عوام کی لچک اور امید کا نیا باب

سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شامی عوام کی “غیر معمولی ثابت قدمی، صلاحیت اور تخلیقی قوت” کو سراہا، جنہوں نے برسوں تک مشکلات، نقصان اور غیر یقینی حالات کا سامنا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب صرف جنگ سے بحالی کافی نہیں بلکہ ایک ترقی یافتہ اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بھی رکھنا ہوگی۔ گوتریس نے ایسے نوجوان شامیوں سے ملاقاتوں کا ذکر کیا جن کی خواہشات بہت سادہ تھیں: تعلیم حاصل کرنا، روزگار پانا، اپنے معاشرے کی خدمت کرنا اور پرامن زندگی گزارنا۔ ان خواہشات کو پورا کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ شام کے پاس اب اپنے مستقبل کو تشکیل دینے کا ایک غیر معمولی موقع ہے، جس میں موثر قیادت اور باہمی اعتماد ضروری ہے۔ یہ ایک ایسے سفر کا آغاز ہے جہاں تمام شامیوں کو شامل کیا جائے گا، بشمول خواتین اور نوجوان، تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں احتساب، عبوری انصاف، انسانی حقوق، مفاہمت اور کمیونٹیز کے درمیان اعتماد سازی کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اقوام متحدہ اس عمل میں شام کے عوام اور حکومت کی مکمل حمایت کرے گا۔ اقوام متحدہ کی خبر کے مطابق، گوتریس نے کہا کہ عالمی برادری کو شام کی بھرپور مدد کرنا ہوگی کیونکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک جنگ کا شکار رہنے والا کوئی بھی ملک تنہا اپنی بحالی ممکن نہیں بنا سکتا۔
عالمی برادری کا کردار اور مستقبل کے چیلنجز
شام کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے عالمی برادری کا کردار کلیدی ہے۔ پاکستان نے بھی شام کی نئی قیادت کی جانب سے ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کرے۔ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد، اقوام متحدہ کا ایک اہم کردار منظم انتقال اقتدار کے ذریعے مستحکم اداروں کی تشکیل یقینی بنانا اور خانہ جنگی کے مختلف گروہوں اور دھڑوں کو قریب لانا ہے۔ تاہم، شام کو ابھی بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں پابندیوں کا خاتمہ، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو، اور علاقائی و بین الاقوامی مداخلتوں کا خاتمہ شامل ہیں۔ اسرائیلی جارحیت ایک مسلسل تشویش ہے، اور پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو غیر قانونی فوجی اقدامات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ خطرناک مثالیں قائم کر رہا ہے۔ عالمی برادری کو ایک متحد پیغام دینا چاہیے کہ شام کی خود مختاری کی خلاف ورزیوں کو معمول نہیں بنایا جا سکتا اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کا مکمل احترام ہونا چاہیے۔
پناہ گزینوں کی باعزت واپسی اور انسانی حقوق
سیکریٹری جنرل نے پناہ گزینوں اور اندرون ملک بے گھر افراد کی محفوظ، رضاکارانہ اور باعزت واپسی کے لیے ضروری مدد فراہم کرنے کی اپیل کی۔ لاکھوں شامی افراد ملک چھوڑ کر پڑوسی ممالک اور یورپ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، اور ان کی واپسی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اقوام متحدہ احتساب، عبوری انصاف، انسانی حقوق، مفاہمت اور کمیونٹیز کے درمیان اعتماد سازی کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے، اور اس میں خواتین اور نوجوانوں سمیت تمام شامیوں کی بامعنی شرکت کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے۔ شامی حکومت کو بھی بلا جواز حراست میں رکھے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنے اور ہزاروں لاپتا افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے مطالبات کا سامنا ہے۔ یہ اقدامات شام میں ایک حقیقی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔
نتیجہ
سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا شام کا تاریخی دورہ اور ان کا یہ عہد کہ “شام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے” ایک ایسے ملک کے لیے امید کی علامت ہے جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے تنازعات اور مشکلات کا شکار ہے۔ صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کے بعد، شام ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے، جہاں امن، استحکام اور تعمیر نو کے مواقع موجود ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے وژن کی حمایت کرے اور شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ پابندیوں کا خاتمہ، معاشی امداد کی فراہمی، پناہ گزینوں کی باعزت واپسی اور انسانی حقوق کا احترام شام کے روشن مستقبل کی بنیاد ہیں۔ یہ ایک طویل اور مشکل سفر ہے، لیکن عالمی تعاون اور شامی عوام کی لچک سے ہی ایک مستحکم، جامع اور خوشحال شام کی تشکیل ممکن ہے۔ اقوام متحدہ اس سفر میں شامی عوام کی ہمراہی اور حمایت کا اپنا کردار جاری رکھے گا۔


