ایچ آئی وی کیسز کے باوجود کراچی کے ولیکا اسپتال میں طبی فضلے کی کھلے عام موجودگی ایک بار پھر صحت کے حفاظتی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب سندھ بھر میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور خصوصی طور پر ولیکا اسپتال ہی کئی بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔ طبی فضلے کی غیر محفوظ تلفی نہ صرف ایچ آئی وی جیسے موذی امراض کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے بلکہ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر متعدی بیماریوں کے خطرے کو بھی بڑھا دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی غفلت ہے جس کا خمیازہ معصوم شہری، خصوصاً بچے، اپنی زندگیوں سے چکا رہے ہیں۔ اس مسئلے کی جڑیں گہری ہیں اور اس میں صرف ایک اسپتال کی انتظامیہ ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر صحت کے نظام میں موجود کمزوریاں اور ریگولیٹری اداروں کی عدم فعالیت بھی شامل ہے۔ یہ صورتحال ملک میں صحت عامہ کے چیلنجز کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے، جہاں قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
ولیکا اسپتال میں طبی فضلے کی سنگین صورتحال
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی بنارس چورنگی کے قریب واقع ولیکا اسپتال، جو محکمہ صحت سندھ کے زیر انتظام ہے، سائٹ ایریا کے محنت کشوں سمیت بڑی تعداد میں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اس اسپتال کی موجودہ حالت سرکاری بے حسی کا منہ بولتا ثبوت بن چکی ہے۔ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے باوجود، ولیکا اسپتال میں طبی فضلہ اب بھی کھلے عام پڑا ہوا ہے۔ انسینیٹر روم کے باہر استعمال شدہ سرنجیں، ڈرپ سیٹس، خون آلودہ روئی اور دیگر متعدی طبی فضلہ کھلے عام دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ منظر انفیکشن کنٹرول، طبی فضلے کی محفوظ تلفی اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی نگرانی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) اور پاکستان کے طبی فضلے سے متعلق قواعد کے تحت، استعمال شدہ سرنجیں، ڈرپ سیٹس، خون آلودہ روئی، پٹیاں اور دیگر متعدی طبی فضلہ اسپتال کے اندر مخصوص رنگوں والے بائیو ہیزرڈ بیگز اور محفوظ کنٹینرز میں جمع کیا جانا چاہیے۔ اس فضلے کو عارضی طور پر محفوظ جگہ پر رکھنے کے بعد، مقررہ وقت کے اندر انسینیٹر یا دیگر منظور شدہ طریقہ کار کے ذریعے تلف کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ایچ آئی وی اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ نہ رہے۔ طبی فضلے کو کھلے عام چھوڑنا یا مقررہ طریقہ کار کے مطابق تلف نہ کرنا انفیکشن کنٹرول کے اصولوں اور طبی فضلہ انتظامی ضوابط کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف ولیکا اسپتال تک ہی محدود نہیں ہے۔ پاکستان بھر میں بہت سے ضلعی اور تحصیل اسپتالوں کو خطرناک طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔ استعمال شدہ سرنجیں، خون میں بھیگی ہوئی پٹیاں اور دیگر متعدی مواد ہر روز پیدا ہوتا ہے، لیکن اسے ٹھکانے لگانے کے مناسب نظام یا تو پرانے ہیں یا دستیاب نہیں ہیں۔ کچھ معاملات میں، فضلہ کو طویل عرصے تک ذخیرہ کیا جاتا ہے، دستی طور پر ہینڈل کیا جاتا ہے، یا ان طریقوں سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے جس سے اسپتال کے عملے، فضلے کو سنبھالنے والے، مریضوں اور قریبی کمیونٹیز کو براہ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
ایچ آئی وی کی وبا اور طبی فضلے کا تعلق
ولیکا اسپتال میں طبی فضلے کی لاپرواہی ایچ آئی وی کے حالیہ پھیلاؤ کے تناظر میں اور بھی تشویشناک ہو جاتی ہے۔ نومبر 2025 میں اس اسپتال میں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جس کے بعد محکمہ صحت نے اسپتال کے عملے کو معطل کر کے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ فروری 2026 میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں انکشاف کیا تھا کہ ولیکا اسپتال میں آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے باعث ایچ آئی وی کا پھیلاؤ ہوا، جس کے نتیجے میں 84 بچے اس مہلک وائرس سے متاثر ہوئے۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، جولائی 2026 میں بھی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، اور اب تک 78 سے 81 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے۔ متاثرہ بچوں کے والدین اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مبینہ غفلت اور طبی عملے کی لاپرواہی نے درجنوں خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ کئی والدین نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپتال میں سرنجوں کے غیر محفوظ استعمال اور دیگر طبی غفلت کے باعث ان کے بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے۔ کچھ متاثرہ خاندانوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے ایک سے زیادہ بچے، حتیٰ کہ چار بہن بھائی بھی، ولیکا اسپتال میں معمولی علاج کے بعد ایچ آئی وی کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی واضح دلیل ہے کہ استعمال شدہ طبی آلات کی غیر محفوظ تلفی اور دوبارہ استعمال ایچ آئی وی جیسے وائرس کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ بنتا ہے۔
سندھ بھر میں ایچ آئی وی کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2026 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران صوبے بھر میں 894 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے، جس میں 329 بچے بھی شامل ہیں۔ جنوری 2026 میں 294، فروری میں 324 اور مارچ میں 276 نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وائرس مسلسل پھیل رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کیسز میں اضافہ صحت کے نظام میں موجود خامیوں اور حفاظتی اقدامات کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہروں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
قانون سازی اور عملدرآمد کی ناکامی
پاکستان میں طبی فضلے کے انتظام سے متعلق قوانین موجود ہیں۔ “ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز 2005” جو پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997 کی دفعہ 31 کے تحت نافذ کیے گئے تھے، اسپتالوں کو اس بات کا پابند کرتے ہیں کہ انفیکشن پھیلانے والے فضلے کو پیدا ہونے والی جگہ پر ہی الگ کیا جائے۔ اسے رنگوں کے لحاظ سے مخصوص ڈبوں میں رکھا جائے، لائسنس یافتہ ٹھیکیداروں کے ذریعے منتقل کیا جائے اور منظور شدہ جگہوں پر تلف کیا جائے۔ یہ ضوابط تفصیلی تو ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
2018 میں ایسٹرن میڈیٹیرینین ہیلتھ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، جائزے میں شامل 70 فیصد اسپتالوں میں فضلہ ٹھکانے لگانے کا کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں تھا۔ 80 فیصد اسپتالوں میں کوئی تحریری طریقہ کار موجود نہیں تھا جبکہ 90 فیصد کے پاس اس کا سرے سے کوئی ریکارڈ ہی نہیں تھا۔ یہ اعداد و شمار قوانین کے نفاذ کی صورتحال کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔
ولیکا اسپتال کے معاملے میں، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا مؤقف بھی ریگولیٹری ناکامی کو اجاگر کرتا ہے۔ کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ طبی فضلے کی نگرانی یا اس کا چیک اینڈ بیلنس سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی براہ راست ذمہ داری نہیں ہے، کمیشن اس وقت تک کسی اسپتال کا معائنہ، انسپیکشن یا ایڈوائزری جاری نہیں کرتا جب تک اسے باضابطہ شکایت موصول نہ ہو یا پھر سیکریٹری صحت سندھ کی جانب سے ہدایات جاری نہ کی جائیں۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے اس مؤقف پر طبی ماہرین اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر محبوب نورانی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 81 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق جیسے سنگین سانحے کے بعد بھی اگر ریگولیٹری ادارہ اپنی ذمہ داری سے لاتعلقی اختیار کرتا ہے تو اس کے کردار اور افادیت پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ، سندھ میں عطائی ڈاکٹرز اور غیر قانونی طبی مراکز کی بھرمار بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ ہے۔ وزیر صحت سندھ نے اکتوبر 2025 میں اس وبا کی بڑی وجہ ہم جنس پرستی کے بڑھتے رجحان، عطائی ڈاکٹرز اور غیر قانونی طبی مراکز کو قرار دیا تھا۔ انہوں نے ہیلتھ کیئر کمیشن کو صوبے بھر میں بلاامتیاز کریک ڈاؤن کا حکم دیا اور انتباہ دیا کہ اگر کسی غیر قانونی طبی مرکز کے حوالے سے کسی بااثر شخصیت کی سفارش آئے تو انہیں بتایا جائے۔ اس وقت صوبے بھر میں 6 لاکھ سے زائد عطائی ڈاکٹرز سرگرم ہیں جن میں 40 فیصد کراچی میں ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر صحت کے نظام کی کمزوریوں اور قانون کے نفاذ کی ناکامی کو نمایاں کرتے ہیں۔
عوامی صحت پر مضر اثرات اور چیلنجز
طبی فضلے کی غیر محفوظ تلفی اور ایچ آئی وی جیسے موذی امراض کے پھیلاؤ کے عوامی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، آلودہ آلات اور خون آلودہ مواد نہ صرف ایچ آئی وی بلکہ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ میں روزانہ بچوں کے اوسطاً 3 سے 4 نئے ایچ آئی وی کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ 2019 میں لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جہاں صرف دو ماہ میں 876 ایچ آئی وی کیسز سامنے آئے تھے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ اس وقت بھی عالمی ادارہ صحت نے اس وبا کی بڑی وجوہات میں آلودہ سرنجوں کا بار بار استعمال اور انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات کو شامل کیا تھا۔
اس کے علاوہ، طبی فضلے کا کھلے عام ڈمپ کیا جانا ماحولیاتی آلودگی کا بھی سبب بنتا ہے اور مقامی آبادی کی صحت پر براہ راست منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ راول جھیل میں طبی فضلے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ بڑے شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ فضلہ نہ صرف پینے کے پانی کو آلودہ کرتا ہے بلکہ فضلہ اٹھانے والے افراد، بچوں اور جانوروں کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کرتا ہے۔ ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں طبی فضلے کا ایک منظم دھندہ بھی عروج پر ہے، جہاں اسپتالوں سے حاصل شدہ فضلہ ری سائیکل کر کے دوبارہ مارکیٹ میں لایا جاتا ہے، جس سے انفیکشن کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
| مسئلہ | عوامی صحت پر اثرات | وجوہات |
|---|---|---|
| طبی فضلے کی غیر محفوظ تلفی | ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، سی سمیت متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ، ماحولیاتی آلودگی | قوانین پر عملدرآمد کی کمی، ریگولیٹری اداروں کی عدم فعالیت، انفراسٹرکچر کا فقدان |
| آلودہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال | ایچ آئی وی کے بچوں میں پھیلاؤ کا بنیادی سبب (ولیکا اسپتال کیس) | غفلت، طبی عملے کی لاپرواہی، سستے علاج کے چکر میں عطائی ڈاکٹرز کا کردار |
| عطائی ڈاکٹرز اور غیر قانونی کلینکس | غیر محفوظ طبی طریقہ کار، غلط تشخیص اور علاج، ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں معاون | مؤثر نگرانی کا فقدان، قانون کا کمزور نفاذ، عوامی آگاہی کی کمی |
| خون اور خون کی مصنوعات کی غیر محفوظ منتقلی | ایچ آئی وی اور دیگر بلڈ بورن بیماریوں کا پھیلاؤ | غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس، اسکریننگ کے ناقص معیارات |
| عوامی آگاہی کا فقدان | بیماریوں سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر سے ناواقفیت | صحت کی تعلیم کے پروگرامز کی کمی |
عالمی معیارات اور پاکستان کی ذمہ داریاں
عالمی ادارہ صحت (WHO) طبی فضلے کے انتظام کے لیے واضح رہنما اصول فراہم کرتا ہے، جس میں فضلے کی درجہ بندی، علیحدگی، محفوظ ہینڈلنگ، ذخیرہ اندوزی، نقل و حمل اور ماحول دوست تلفی کے طریقے شامل ہیں۔ ان معیارات کا مقصد نہ صرف طبی عملے اور مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے بلکہ عوام اور ماحول کو بھی طبی فضلے کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔ پاکستان، بطور ایک رکن ریاست، ان عالمی معیارات پر عملدرآمد کا پابند ہے۔
بدقسمتی سے، جیسا کہ ولیکا اسپتال اور سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز سے ظاہر ہوتا ہے، پاکستان میں ان عالمی معیارات پر عملدرآمد میں شدید کوتاہی پائی جاتی ہے۔ اسپتالوں میں مناسب انسینیٹر سہولیات کی عدم موجودگی صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں ایک اہم خلا پیدا کرتی ہے، جو صحت عامہ اور ماحولیاتی تحفظ دونوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے، UNOPS نے گلوبل فنڈ کے تعاون سے اور وزارت صحت کے ساتھ مل کر اپنے “ڈیولپنگ انفراسٹرکچر فار انسینریٹر انسٹالیشن” پروجیکٹ کے تحت مختلف صوبوں کے سات ضلعی اسپتالوں میں انسینریٹر سہولیات کی تعمیر کی ہے۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس کی رفتار اور وسعت ملک بھر میں درپیش مسئلے کے مقابلے میں ناکافی ہے۔
پاکستان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عالمی بہترین طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں نہ صرف جدید انسینریٹر ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے بلکہ طبی فضلے کی پیدائش سے لے کر تلفی تک ایک جامع اور محفوظ سلسلہ تشکیل دینا بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے عملے کی تربیت، فضلے کی درست علیحدگی اور ٹھکانے لگانے کے ہر مرحلے پر سخت نگرانی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سندھ میں بڑھتے ہوئے ایچ آئی وی کیسز کے پیش نظر، حکومت کو ایک مؤثر حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف فوری اقدامات پر مشتمل ہو بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی بھی شامل ہو۔ اس سلسلے میں، ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سندھ میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافے کی وجوہات اور اس کے تدارک پر تفصیلی تجزیے کی ضرورت ہے۔ آپ مزید معلومات کے لیے ڈان نیوز کی متعلقہ رپورٹ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
حل اور آئندہ کی راہ
ولیکا اسپتال جیسے واقعات اور سندھ میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک واضح پیغام ہیں کہ محض بیانات اور رسمی کارروائیاں ناکافی ہیں۔ ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے:
- سخت نفاذ قانون: طبی فضلے کے انتظام سے متعلق موجودہ قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والے اسپتالوں اور افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو اپنی ذمہ داریاں فعال طور پر ادا کرنی ہوں گی اور شکایات کا انتظار کرنے کے بجائے خود کار طریقے سے نگرانی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔
- جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی: تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں میں طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے جدید انسینریٹر یا دیگر منظور شدہ سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ UNOPS جیسے منصوبوں کو مزید توسیع دی جائے۔
- طبی عملے کی تربیت: طبی اور نیم طبی عملے کو طبی فضلے کی محفوظ ہینڈلنگ، علیحدگی اور تلفی کے بارے میں باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے، تاکہ انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل ہو سکے۔
- عطائی ڈاکٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن: عطائی ڈاکٹرز، غیر قانونی کلینکس اور غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے، کیونکہ یہ ایچ آئی وی اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
- عوامی آگاہی مہم: عوام میں ایچ آئی وی اور طبی فضلے کے خطرات سے متعلق آگاہی پیدا کی جائے، تاکہ وہ اپنی صحت کے بارے میں زیادہ محتاط رہیں اور طبی سہولیات کے انتخاب میں احتیاط برتیں۔
- شفاف احتساب کا نظام: جہاں بھی غفلت یا بدانتظامی ثابت ہو، ذمہ داروں کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔ سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی پھیلنے کے معاملے میں 37 افراد کو معطل کیا ہے۔ تاہم، متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ صرف معطلیاں کافی نہیں بلکہ اگر غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
- متاثرین کی مکمل دیکھ بھال: ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد، خصوصاً بچوں کو مفت اور معیاری علاج، ادویات اور نفسیاتی مشاورت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے قائم آئسولیشن وارڈز میں سہولیات کو بہتر بنایا جائے اور عملے کی کمی کو دور کیا جائے۔
نتیجہ
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کے باوجود طبی فضلے کی کھلے عام موجودگی ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے جو ملک میں صحت عامہ کے نظام کی خامیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ صرف ایک اسپتال کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر بحران کا عکاس ہے جس میں قانون کے نفاذ کی کمزوری، ریگولیٹری اداروں کی عدم فعالیت، اور عوامی صحت کے تئیں عمومی لاپرواہی شامل ہے۔ ایچ آئی وی جیسے موذی مرض کا پھیلاؤ، خصوصاً معصوم بچوں میں، ایک قومی سانحہ ہے جس کے فوری اور مؤثر تدارک کی ضرورت ہے۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور معاشرے کو مشترکہ طور پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ طبی فضلے کی محفوظ تلفی کو یقینی بنانا، انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرانا، اور عطائی ڈاکٹرز کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان سنگین خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو یہ غفلتیں مزید انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہیں، اور ایک صحت مند معاشرے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔


