مقبول خبریں

جراس نما کیڑوں کے آباؤ اجداد: 165 ملین سال پہلے کی جنگلات کی حیرت انگیز گونج

جراس نما کیڑوں کے آباؤ اجداد نے آج سے تقریباً 165 ملین سال پہلے جراسک دور کے جنگلات کو اپنی منفرد اور پراسرار آوازوں سے گونجا دیا تھا۔ حال ہی میں کی گئی تحقیقات نے ان قدیم حشرات کی صوتی دنیا کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں۔ یہ تحقیق اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح کرکٹ اور کیٹیڈڈز کے پیشروؤں نے اس دور میں اپنے ماحول کو رنگین اور آوازوں سے بھرپور بنایا تھا۔

یہ قدیم کیڑے مکوڑے صرف ماحول کا حصہ ہی نہیں تھے بلکہ اپنے مخصوص صوتی پیغامات کے ذریعے فعال طور پر ایک دوسرے سے بات چیت بھی کرتے تھے۔ ان کی آوازیں نہ صرف ایک گہری تاریخی بصیرت فراہم کرتی ہیں بلکہ اس دور کے ماحولیاتی نظام کی پیچیدگی کو بھی واضح کرتی ہیں۔ سائنسدانوں نے ان آوازوں کو دوبارہ بنانے کے لیے جدید سائنسی طریقوں اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے، جس سے ماضی کی آوازوں کو سننا ممکن ہو سکا ہے۔

روس اور متحدہ عرب امارات کے صدور کی ٹیلی فونک گفتگو

جراسک دور کا صوتی منظرنامہ: ایک سائنسی جھلک

جراسک دور کا ماحول آج کے دور سے بہت مختلف تھا، جہاں بڑے ڈائنوسار اور گھنے جنگلات پائے جاتے تھے۔ تاہم، اس دور کے صوتی منظرنامے کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب تھیں، کیونکہ زیادہ تر جانوروں کے آواز پیدا کرنے والے نرم اعضاء فوسلز میں محفوظ نہیں رہ پاتے۔ حشرات الارض اس اصول کی ایک اہم رعایت ہیں، کیونکہ ان کے آواز پیدا کرنے والے سخت اعضاء (جناح) فوسل کی شکل میں اچھی طرح محفوظ رہ سکتے ہیں۔

محققین نے خاص طور پر کرکٹ اور کیٹیڈڈز کے قدیم رشتہ داروں پر توجہ مرکوز کی، جو اینسیفیرا (Ensifera) ذیلی آرڈر سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ کیڑے اپنے پروں کو ایک دوسرے سے رگڑ کر آواز پیدا کرتے تھے، جسے سٹرائیڈولیشن (stridulation) کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار نے انہیں لاکھوں سالوں تک اپنی آوازوں کو ماحول میں بکھیرنے کے قابل بنایا۔

امریکی حکام کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اہم ملاقات

جراسک جنگلات کی ساخت اور آوازیں

جراسک دور کے جنگلات گرم اور مرطوب تھے، جہاں دیو ہیکل فرن اور قدیم کونیفر درختوں کی بہتات تھی۔ یہ ماحول مختلف حشرات الارض کے لیے ایک مثالی مسکن تھا، جن میں اینسیفیرا کے کئی خاندان شامل تھے۔ ان جنگلات میں پرندوں کی چہچہاہٹ اور ڈائنوساروں کے قدموں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ ان کیڑوں کی آوازیں بھی شامل تھیں۔

اس دور کے صوتی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں نے چین کے اندرونی منگولیا میں جیولونگشان فارمیشن (Jiulongshan Formation) سے 165 ملین سال پرانے 20 فوسلز کا مطالعہ کیا۔ یہ فوسلز نو مختلف انواع سے تعلق رکھتے تھے جو جدید کرکٹ اور کیٹیڈڈز کے رشتہ دار تھے۔

ماسکو میں یومِ فتح پر محدود فوجی پریڈ کا انعقاد

آواز پیدا کرنے کا طریقہ کار اور ارتقاء

جدید کرکٹ اور کیٹیڈڈز کی طرح، جراسک دور کے ان کیڑوں نے بھی سٹرائیڈولیشن کے ذریعے آوازیں پیدا کیں۔ اس عمل میں ایک پر کے خمدار حصے (جس میں چھوٹے دانت ہوتے ہیں) کو دوسرے پر کے ایک سخت حصے سے رگڑا جاتا ہے۔ اس رگڑنے سے پیدا ہونے والی کمپن آواز میں بدل جاتی ہے، جو پروں کے بقیہ حصے سے پھیلتی ہے۔

فوسلز میں ان حشرات کے پروں پر موجود یہ صوتی آلات حیرت انگیز طور پر اچھی طرح محفوظ تھے۔ سائنسدانوں نے ان فوسل شدہ پروں کی ساخت کا گہرائی سے تجزیہ کیا، جس میں دانتوں کی تعداد، ان کے درمیان کا فاصلہ، اور پروں کے ارتعاشی حصے کا سائز شامل ہے۔ یہ تمام خصوصیات آواز کی پچ اور تال کا تعین کرتی ہیں۔

نوجوان شادی سے کیوں کتراتے ہیں؟ ایک تجزیہ

جدید تحقیق کے طریقے

جراسک کیڑوں کی آوازوں کو دوبارہ بنانے کے لیے محققین نے کئی جدید تکنیکوں کو یکجا کیا۔ ان میں فائیلوجینیٹک تجزیہ شامل تھا، جس میں فوسلز کا تقریباً 100 زندہ حشرات کی انواع سے موازنہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، جدید حشرات کے پروں کی کمپن کی پیمائش کے لیے لیزر وائبرومیٹری کا استعمال کیا گیا۔

کمپیوٹر سمولیشنز نے یہ پیش گوئی کی کہ فوسل شدہ پر کس طرح کمپن کرتے ہوں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ماڈلز کو پروں کی شکل سے آواز کے نمونوں کی پیش گوئی کرنے کے لیے تربیت دی گئی۔ اس کثیر جہتی نقطہ نظر نے سائنسدانوں کو ان قدیم آوازوں کا ایک حیرت انگیز طور پر درست تخمینہ فراہم کرنے کے قابل بنایا۔

جراسک کیڑوں کی آوازوں کی بازیافت

تحقیق سے انکشاف ہوا کہ جراسک دور کے زیادہ تر حشرات نے 5 کلو ہرٹز (kHz) کے قریب کم، خالص ٹون والی آوازیں پیدا کیں۔ یہ آوازیں کچھ جدید کرکٹس کی آوازوں سے مشابہت رکھتی تھیں، جو جنگلاتی ماحول میں طویل فاصلے تک بات چیت کے لیے موزوں تھیں۔

ایک خاص نوع، Sigmaboilus peregrinus، کی آوازیں سب سے زیادہ حیران کن تھیں۔ یہ کیڑا 20 کلو ہرٹز سے زیادہ کی الٹراسونک فریکوئنسی پر آواز پیدا کرتا تھا، جو انسانی سماعت کی حد سے باہر ہے۔ یہ دریافت اس طویل عرصے سے مانے جانے والے خیال کو چیلنج کرتی ہے کہ الٹراسونک مواصلت کا ارتقاء بنیادی طور پر چمگادڑوں کی موجودگی کی وجہ سے ہوا۔

چین کی جانب سے امریکی وزیر پر پابندیوں کا اعلان

کیڑے کی قسم جراسک دور میں موجودگی آواز پیدا کرنے کا طریقہ صوتی خصوصیات (مثال)
پروپھالنگوپسیڈی (Prophalangopsidae) وسط جراسک (165 ملین سال پہلے) پروں کی سٹرائیڈولیشن کم پچ، خالص ٹون (تقریباً 5 kHz)
ہاگلائڈی (Haglidae) ٹریاسک سے کریٹیشیئس تک پروں کی سٹرائیڈولیشن مختلف فریکوئنسی، خالص ٹون
سگما بویلس پیریگرینس (Sigmaboilus peregrinus) وسط جراسک (165 ملین سال پہلے) پروں کی سٹرائیڈولیشن الٹراسونک آواز (20 kHz سے زیادہ)

الٹراسونک مواصلت کا راز

چمگادڑوں کا ارتقاء تقریباً 55 ملین سال بعد ہوا، جس کے بعد ان کے ایکو لوکیشن (echolocation) سے بچنے کے لیے حشرات میں الٹراسونک مواصلت کی ترقی کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، Sigmaboilus peregrinus کی الٹراسونک آوازوں کی دریافت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مواصلاتی طریقہ چمگادڑوں کی آمد سے بہت پہلے ہی قائم ہو چکا تھا۔

اس کا مطلب ہے کہ الٹراسونک مواصلت کے ارتقاء میں چمگادڑیں واحد محرک قوت نہیں تھیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ابتدائی ممالیہ جانوروں اور دیگر شکاریوں نے حشرات کو ایسی خالص ٹون والی آوازیں پیدا کرنے پر مجبور کیا ہو گا جو شناخت کرنا مشکل ہوں۔ اس کے علاوہ، ایک گنجان آبادی والے ماحول میں مختلف انواع کے درمیان صوتی جگہ کے لیے مقابلہ بھی ایک کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسپین میں گنج پن کی بڑھتی ہوئی شرح: ایک تشویشناک رجحان

آوازوں کا ماحولیاتی کردار

ان قدیم کیڑوں کی آوازیں محض تولیدی مقاصد کے لیے نہیں تھیں بلکہ ایک پیچیدہ ماحولیاتی کردار ادا کرتی تھیں۔ خالص ٹون والی آوازیں شکاریوں کے لیے انہیں تلاش کرنا مشکل بنا سکتی تھیں، جبکہ الٹراسونک آوازیں انہیں دیگر حشرات کے شور میں نمایاں ہونے میں مدد دیتی تھیں۔ یہ آوازیں ساتھیوں کو راغب کرنے، علاقائی دفاع اور دیگر مواصلاتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

اس تحقیق نے جراسک دور کے ماحولیاتی نظام کی صوتی دولت کو نمایاں کیا، جو پہلے تصور سے کہیں زیادہ متنوع اور فعال تھا۔ یہ انکشافات ڈائنوسار کے دور کی زندگی کے بارے میں ہماری سمجھ کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

کورونا کے اثرات: معیشت پر سنگین نتائج

مستقبل کی تحقیقات کے امکانات

جراسک کیڑوں کی آوازوں کی بازیافت نے پیلیو اکوسٹکس (paleoacoustics) کے شعبے میں نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ یہ تحقیق مستقبل کے مطالعات کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتی ہے، جو دیگر معدوم حشرات اور یہاں تک کہ قدیم ماحول کے دیگر صوتی عناصر کو بھی دریافت کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ AI جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے مزید قدیم کیڑوں کی آوازوں کو دوبارہ بنایا جا سکے گا۔

اس طرح کے مطالعات سے نہ صرف ماضی کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ آج کے ماحولیاتی نظام میں صوتی مواصلت کے ارتقاء کو سمجھنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ یہ قدیم آوازیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہماری زمین ہمیشہ سے آوازوں سے بھری ایک زندہ اور فعال جگہ رہی ہے۔

اہلیہ ایمان فاطمہ سے علیحدگی کے بعد رجب کا ردعمل

ماضی اور حال کا ربط

یہ تحقیقات اس بات کو بھی نمایاں کرتی ہیں کہ جراسک دور سے لے کر آج تک حشرات میں آواز پیدا کرنے کا طریقہ کار بہت کم تبدیل ہوا ہے۔ جدید کرکٹ اور کیٹیڈڈز آج بھی انہی بنیادی سٹرائیڈولیشن میکانزم کا استعمال کرتے ہیں جو ان کے قدیم آباؤ اجداد میں موجود تھے۔ یہ ارتقائی تسلسل حشرات کی دنیا کی پائیداری اور موافقت کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈاکٹر جن-جی گو اور ان کی ٹیم کے مطابق، یہ تحقیق جراسک دور کی سائنسی طور پر درست تصویر کشی کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ درحقیقت، ان کی ٹیم نے ایک نئے نیٹ فلکس دستاویزی سیریز “دی ڈائنوسارز” کے لیے دوبارہ بنائی گئی حشرات کی آوازیں شامل کرنے پر بھی کام کیا۔

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

جراسک دور کے صوتی ماحول کی تعمیر نو سے متعلق مزید تفصیلات سائنس جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں دستیاب ہیں۔ ڈان نیوز پر متعلقہ رپورٹ پڑھیں

نتیجہ

جراس نما کیڑوں کے آباؤ اجداد نے جراسک دور کے جنگلات کو اپنی متنوع اور بعض اوقات الٹراسونک آوازوں سے گونجا دیا، جو 165 ملین سال پہلے کے ماحولیاتی نظام کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف قدیم آوازوں کو دوبارہ زندہ کرتی ہے بلکہ حشرات کی صوتی مواصلت کے ارتقاء کے بارے میں ہماری سمجھ کو بھی وسعت دیتی ہے۔ سائنسدانوں کی یہ کوششیں ہمیں ایک ایسے ماضی سے جوڑتی ہیں جہاں فطرت کی ہر آواز کا اپنا ایک اہم مقام تھا۔